@MubashirAZaidi c.rنہیں،کیونکہ یہاں ہر مقدمہ ایک ہی مقدمے کواپنی دلیل بناکرواپس نہیں آرہابلکہ نبوت کےثبوت کےلیےمستقل شواہدموجودہیں لکن اگر ہم تاریخی طورپریہ دیکھ لیں کہ قرآن عہدِنبوی سےمسلسل حفظ،کتابت،عرض،تلقی اورامت کےتواترکےذریعےمنتقل ہوااورپھراس کےموجودہ متن کی حفاظت کےشواہد بھی موجودہے.
SYM – Momentum Building
SYM has taken strong support today near the 10.80 zone and closed with stability, showing signs of accumulation.
With RSI cooling slightly, SYM has the capacity to deliver a solid move towards the 12.50+ zone in the coming sessions.
#PSX#SYM
*ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ*
*توبہ میں غلو کی ممانعت*
ایک صاحب کا خط آیا کہ آنکھ کھلنے کی سہل تدبیر کیا ہے؟ ارشاد فرمایا کہ الارم یا کسی آدمی کا جگا دینا۔ اور اس خط میں سوتے رہنے پر سائل نے اظہارِ افسوس کیا تھا اور لکھا تھا کہ بسببِ مرض وغیرہ کے ایسا ہوتا ہے کہ نماز بھی قضا ہو جاتی ہے۔ فرمایا کہ پھر اس پر قلق (افسوس) کیوں کر رہے ہو ، جب یہ اختیار سے باہر ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ سنن باطنہ ہے ، ان کا لوگ خیال ہی نہیں کرتے۔ بس جہاں رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے کہ قلق کرو وہاں قلق کرو ، جہاں فرمایا ہے قلق نہ کرو وہاں نہ کرو۔ انسان مطالعہ محبوب کے لیے پیدا ہوا ہے نہ کہ اس ادھیڑ بن کے لیے۔ جب کوئی گناہ ہو جاوے ، شرعی طور پر تدارک کرلے، توبہ کرلے مگر ہر وقت اس میں نہ لگ جائے کہ ہائے یہ کیوں ہوگیا تھا اور کہیں پھر نہ ہو جائے۔ البتہ توبہ نصوح (سچی، پکی توبہ) کے بعد اگر از خود وہ گناہ پھر یاد آجاوے تو تجدید توبہ کی کرکے پھر کام میں لگ جاوے۔اس سے زیادہ کاوش کرنا غلو ہے اور یہ قصد کرنا کہ ذرا بھی کوتاہی نہ ہونے پاوے، یہ ایک قسم کا دعویٰ اور غلو ہے اور گو عقلاً محال نہیں لیکن عادتاً محال ہے ورنہ پھر حدیث شریف میں یہ کیوں آتا کہ *سددو او قاربوا* ، یعنی میانہ روی اختیار کرو اور سیدھے راستے پر رہو) اور *استقيموا ولن تحصوا* ( یعنی راه استقامت پر قائم رہو، تم ساری نیکیوں کا احاطہ نہیں کرسکو گے)۔
(القول الجليل ، مقالاتِ حکیم الامت ، جلد ۳۱، صفحہ ۳۲۵)
أيها المستمعون الكرام !احيطكم علما بأن أمير جمعية علماء الاسلام في منطقة كوئته حضرة الشيخ أستاذ الأحاديث النبوية مولانا عبد الرحمن رفيق جعله الله ذُخراً للأمة ،سيلقي أمام حضراتكم رسالةً باللغة العربية حول مؤتمر "طوفان الأقصي "المنعقد في تاريخ ٢٩ أكتوبر
#طوفان_الأقصى
مشھد اُلوفا من المتظاہرین ضد الاعتداء الصہیونی علی غزہ اجتمعوا ببلدۂ بشاور باکستان تحت رئاسۂ زعیم جمعیتۂ علماء اسلام باکستان قائد ابن قائد مولانا فضل الرحمان و مبعوث حماس دکتور ناجی من فلسطین ۔ #طوفان_الاقصى_#القدس_لنا#مفکراسلام_مفتی_محمود
تَصَوّف کِیا ھے؟
شَیخُ ال٘حَدِی٘ث حَض٘رَت٘ مَو٘لَانا مُحَمّد زَک٘رِیّا کَاندِھ٘لوِی مَہاجِر مَدنِی رَح٘مَةُ اللّٰه عَلَی٘ه (المتوفی ۱۴۰۲ھ) اَپنی مشہورِ زَمانہ کتاب ’’آپ بِیتی‘‘ میں لکھتے ہیں :
’’ایک مَرتبہ ۱۰ بجے صُبح کو مَیں اُوپر اَپنے کَمرہ میں نِہایت مَشغُول تھا، مَولوی نَصِیر نے اُوپر جاکر کہا کہ رَئیسُ ال٘احرَار (۱) آئے ہیں، رَائے پُور جا رھے ہیں، صِرف مُصافحہ کرنا ھے، مَیں نے کہا: جَلدی بُلاؤ۔ مَرحوم اُوپر چَڑھے اور زِی٘نے پَر چَڑھتے ہی سَلام کے بعد مُصافحہ کے لیے ہاتھ بَڑھا کر کہا کہ:
رَائے پُور جا رہا ہوں اور ایک سوال آپ سے کرکے جا رہا ہوں، اور پَرسُوں صُبح واپسی ھے، اِس کا جواب آپ سُوچ رکھیں، واپسی میں جواب لے لُوں گا:
’’ یہ تَصوّف کیا بَلا ھے؟ اِس کی کیا حَقیقَت ھے؟ ‘‘
مَیں نے مُصافحہ کَرتے کَرتے یہ جواب دیا کہ:
’’ صِرف تَصحِیحِ نِیّت، اِس کے سِوا کُچھ نہیں،
جِس کی اِبتِدا ’’إِنَّمَـا ال٘اَع٘مَالُ بِالنِّیَّاتِ‘‘ سے ہوتی ھے۔
اور اِنتِہا ’’اَن٘ تَع٘بُدَ اللّٰهَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ‘‘ ھے۔
میرے اِس جواب پَر سَک٘تہ میں طَاری ہو گئے اور کہنے لگے: دِلّی سے یہ سوچتا آرہا ہوں کہ تُو یہ جواب دے گا تو یہ اِعتِراض کروں گا، اور یہ جواب دے گا تو یہ اِعتِراض، اِس کو تو مَیں نے سُوچا ہی نہیں۔
مَیں نے کہا: جَاؤ، تَانگے والے کو بھی تَقاضَا ہوگا، میرا بھی حَرج ہُو رہا ھے، پَرسُوں تک اِس پَر اِعتِراض سوچتے رہنا۔ اس کا خیال رھے کہ دِن میں لَم٘بی بَات کا وَقت نہیں مِلنے کا، دو چار مِنٹ کو تو دن میں بھی کر لوں گا، لمبی بات چاہو گے تو مَغرب کے بعد ہو سکے گی۔
مَرحُوم دُوسرے ہی دِن شام کو مَغرب کے قَریب آگئے اور کہا کہ: کَل رات کو تو ٹھہرنا مُشکل تھا، اِس لیے کہ مُجھے فلاں جَلسہ میں جانا ھے، اور رات کو تُمہارے پاس ٹھہرنا ضَروری ہوگیا، اِس لیے ایک دِن پہلے ہی چَلا آیا۔ اور یہ بھی کہا کہ تُمہیں مَعلُوم ھے، مُجھے تُم سے کَبھی نہ عَقی٘دت ہُوئی نہ مُحبّت، مَیں نے کہا: علٰی ھٰذا القیاس۔ مَرحوم نے کہا: مَگر تُمہارے کل کے جواب نے مُجھ پَر تو بہت اَثر کیا، اور مَیں کل سے اب تک سُوچتا رہا، تُمہارے جواب پر کوئی اِعتِراض سَمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے کہا: اِن شَاء اللّٰه! مَولانا اِعتِراض مِلنے کا بھی نہیں۔
’’إِنَّمَـا ال٘اَع٘مَالُ بِالنِّیَّاتِ‘‘ سارے تَصوّف کی اِبتِداء ھے۔
اور ’’اَنْ تَع٘بُدَ اللّٰه کَاَنَّکَ تَرَاہُ‘‘ سارے تَصوّف کا مُنتَہا ھے۔
اِسی کو ’’نِسَبَت٘‘‘ کہتے ہیں، اِسی کو ’’یَاددَاشت‘‘ کہتے ہیں، اِسی کو ’’حَضُورِی‘‘ کہتے ہیں۔
حَضُورِی گر ہمی خواہی ازو غافل مشو حافظ!
مَتٰی مَا تَل٘قَ مَن٘ تَہ٘وِی٘ دَعِ الدُّن٘یَا وَاَم٘ہِل٘ہَا
مَیں نے کہا: مَولوی صاحب! سارے پَاپَڑ اِسی کے لیے بیلے جاتے ہیں، ذِکر بِال٘جَہر بھی اِسی وَاسطے ھے، مُجاہدہ اور مُراقبہ بھی اِسی وَاسطے ھے اور جِس کو اللّٰه جَلّ شَانہٗ اپنے لُطف و کَرم سے کِسی بھی طرح یہ دَولت عَطا کر دے، اس کو کہیں کی بھی ضَرورت نہیں۔
صَحابہ کَرام رَضِی اللّٰه عَنہُم اَجمَعی٘ن تو نَبی کَری٘م صَلی اللّٰه عَلیهِ وَسلم کی نَظرِ کِیمیَا اَثر سے ایک ہی نَظر میں سَب کُچھ ہُو جاتے تھے اور ان کو کِسی چِیز کی بھی ضَرورت نہ تھی۔ اس کے بَعد اَکابِر اور حُکمَاءِ اُمّت نے قَلبِی اَمرَاض کی کَثرَت کی بِنا پر مُختَلف عِلاج، جَیسا کہ ’’اَطِبّاء‘‘ بَدنی اَمرَاض کے لیے تَجوِیز کرتے ہیں، ’’رُوحَانی اَطِبّاء‘‘ نے رُوحَانی اَمرَاض کے لیے ہر زَمانے کے مُناسب اپنے تَجربَات جو اَس٘لاف کے تَجربَات سے مُستَنبَط تھے- نُسخے تَجوِیز فَرمائے ہیں، جو بَعضُوں کو بہت جَلد نَفع پُہنچاتے ہیں، بَعضُوں کو بہت دیر لگتی ہے۔‘‘
{آپ بِیتی،جِلداوّل،ص:۵۸،۵۹،طَبع: مَکتَبہ عُمر فَاروقؓ،شَاہ فَیصل کالُونی،کراچی}
حضرت تھانوی میں غیرت کاغلبہ تھاوہ چاہتے تھےکہ خواہ چند ہی آدمی بنیں مگرکامل بنیں، اور مولانا الیاس صاحب کے مزاج میں شفقت کاغلبہ تھا، کہ چاہےتھوڑا ہی دین سیکھیں مگرسب سیکھیں،چنانچہ غلبہ غیرت کاثمرہ اصلاح تام، اورغلبہ شفقت کانتیجہ اصلاح عام کی شکل میں ظاہرہوا۔
مولانا ابرار الحق رح
@Digibusiness_1 @KomailMuavia313 کیونکہ حدیث ہے:
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ میری امت کو یا فرمایا امت محمدیہ کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا“․
تو اس گمراہی پر سب کیسے جمع ہوسکتی ہیں؟