اللهم صلِّ على محمدٍ، صاحبِ الخلقِ العظيمِ، والقولِ الكريمِ، والوجهِ المنيرِ، وعلى آلِه وصحبِه، صلاةً تُحيي بها القلوبَ، وتشرحُ بها الصدورَ، وتيسِّرُ بها الأمورَ، وتدفعُ بها البلاءَ، وتُسعدُ بها الحياةَ، وتجمعُنا بها معه في جناتِ النعيمِ.
Kuwait has officially signed a defence cooperation agreement with Pakistan, joining Saudi Arabia, UAE, Bahrain and Qatar in expanding military ties with Islamabad. Bangladesh, Afghanistan and Sri Lanka are their next target. If Pakistan will be able to get them also, then Pak will become the biggest military power in the region.
آزاد کشمیر کے عوام نے آج الیکشن میں تاریخی ٹرن آؤٹ کے ذریعے ایک فیصلہ کن پیغام دیا ہے۔ تمام تر شور شرابے، بائیکاٹ کی اپیلوں اور سیاسی کشیدگی کے باوجود ووٹرز کی بڑی تعداد نے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کرکے ثابت کر دیا کہ کشمیری عوام کا جمہوریت پر اعتماد کم نہیں، بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے۔
عوام نے واضح کر دیا کہ مسائل کا حل سڑکوں پر ہنگامہ آرائی نہیں بلکہ ووٹ کی طاقت اور ریاستی ایوانوں میں ہے۔ خواتین، بزرگوں اور نوجوانوں کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ بیلٹ باکس کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں نہ کہ انتشار کے ذریعے۔آج کا غیرمعمولی ٹرن آؤٹ جمہوریت پر عوامی اعتماد کا زندہ ثبوت اور کشمیری شعور کی ایک طاقتور مثال بن گیا ہے۔۔۔۔
یہ تو وزیر اطلاعات نے آپ کو فُل ٹاس دی ہے چھکا لگانے کے لیے۔
ایک وی لاگ اور کریں اور جو باتیں کرنے کی وجہ سے انکوائری کال ہوئ ہے اُس کے ثبوت دکھادیں ۔ ساری دنیا دیکھ لے گی آپ ٹھیک ہیں اور وہ غلط۔
لیکن اگر آپ کے پاس ثبوت نہیں ہے تو پھر شکایت آپ سے بنتی ہے وزیر سے نہیں ۔
اگر ہائی کورٹ کا جج پشاور ٹرانسفر ہونے کے باوجود اسلام آباد کی سرکاری رہائش گاہ کو خالی نہ کرے اور اسے ایسا کرنے کیلئے ایک ماہ کا فائنل نوٹس جاری کرنا پڑے اور بصورت دیگر اسے قانونی کارروائی کی وارننگ بھی دی جائے تو کیا ایسے شخص کا ہائی کورٹ کا جج رہنے کا حق سلب نہیں کر دینا چاہیئے؟ کیا خود قانون کی خلاف ورزی کرنے والا جج دوسروں کو انصاف فراہم کرنے کے قابل ہے؟
بریکنگ: کویت اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ سرکاری طور پر نافذ، فوجی تربیت اور انٹیلی جنس تعاون سمیت اہم شعبے شامل مگر معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ تزویراتی دفاعی معاہدے سے مختلف ہے کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کے تحت ایک پر حملہ دونوں پر حملہ ہے ۔
کویت نے اتوار کو پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جسے 2023 میں دستخط کیے جانے کے بعد اسے سرکاری گزٹ “کویت الیوم” میں فرمانِ قانون کے ذریعے شائع کر دیا گیا۔
فرمان کے مطابق، 11 جون 2023 کو کویت میں طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاع اور مسلح افواج کے شعبوں میں تعاون کے لیے ایک جامع فریم ورک قائم کرنا ہے، جو دونوں ممالک کے ملکی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق ہوگا۔
معاہدے کے تحت تعاون کے اہم شعبوں میں فوجی تربیت اور تعلیم، دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان دفاعی تعاون، لاجسٹکس، فوجی اہلکاروں، تکنیکی ماہرین اور مختلف عسکری شعبوں کے ماہرین کا تبادلہ، سائنسی و تکنیکی تعاون، فوجی انٹیلی جنس اور دیگر باہمی طور پر طے شدہ شعبے شامل ہیں۔
دستاویز کے مطابق، دونوں ممالک ہر سال مشترکہ سرگرمیوں کے لیے سالانہ منصوبہ تیار کریں گے، جس پر پروٹوکولز اور ایگزیکٹو پروگرامز کے ذریعے عمل درآمد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہر سطح پر وفود کے تبادلوں کے ذریعے دفاعی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
معاہدے کے تحت ایک مشترکہ فوجی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی، جو دفاعی تعاون کے تمام شعبوں میں رابطہ اور عمل درآمد کی نگرانی کرے گی۔ کمیٹی کے شریک سربراہان دونوں ممالک کے وزرائے دفاع مقرر کریں گے، جبکہ اس کا اجلاس سال میں ایک بار منعقد ہوگا۔
معاہدے میں خفیہ معلومات کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی شقیں شامل کی گئی ہیں، جن کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے سے حاصل ہونے والی درجہ بند معلومات اور دستاویزات کو اپنی قومی سیکیورٹی قوانین کے مطابق محفوظ رکھیں گے اور تحریری اجازت کے بغیر کسی تیسرے فریق کو منتقل نہیں کریں گے۔ یہ تحفظ معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی برقرار رہے گا۔
مالی امور سے متعلق شق کے مطابق، باہمی تعاون کی بنیاد پر میزبان ملک سرکاری دوروں کے دوران آنے والے وفود کے اندرونِ ملک سفری اخراجات، رہائش اور ہنگامی طبی سہولیات فراہم کرے گا۔
معاہدے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس سے کسی بھی فریق کے دیگر بین الاقوامی معاہدوں کے تحت حقوق یا ذمہ داریوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جبکہ معاہدے کی تشریح یا اس پر عمل درآمد سے متعلق کسی بھی اختلاف کو براہِ راست مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
@AhmedMansorReal منصور بھائی آپ کسے سمجھا رہے ہیں ؟ ویسے ہم سب کو شہزاد اکبر کا شکریہ ادا کرنا چاھیے سب سے اچھا کیل نیازی کی پیٹھ میں اسی نے ٹھوکا تھا۔
اس میں سرنڈر کہاں سے ہو گیا، سپریم کورٹ نے اپنے اختیار کو آئین کے تناظر میں جانچتے ہوئے فیصلہ لیا ہے۔ اس پر تو ستائش ہونی چاہیے نہ کہ روایتی تنقید۔
اس فیصلے کا تعلق کسی ادارے کی جیت یا ہار، کسی سیاسی جماعت یا کسی ایک ملزم سے نہیں، بلکہ آئینی اصول سے ہے۔ عدالت نے واضح کر دیا کہ اختیار کا تعین خواہش، روایت یا دباؤ سے نہیں بلکہ آئین اور قانون سے ہوتا ہے۔ اپیل کا حق ختم نہیں کیا گیا، صرف متعلقہ آئینی فورم متعین کیا گیا ہے۔ درحقیقت عدلیہ کی مضبوطی اس میں نہیں کہ ہر مقدمہ اپنے پاس رکھے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے آئینی دائرۂ اختیار کی پابندی کرے، تاکہ ہر مقدمہ اسی عدالت میں سنا جائے جسے قانون نے اس کا اختیار دیا ہے اور فورم شاپنگ کی گنجائش باقی نہ رہے۔