مکالمہ
محمد مالک: کیا آپ قسم اٹھا سکتے ہیں کہ آپ نے ریحانہ ڈار کا مینڈیٹ چوری نہیں کیا؟
خواجہ آصف: نہیں میں قسم نہیں اٹھا سکتا۔
محمد مالک: پھر تو آپ تسلیم کر رہے ہیں کہ ریحانہ ڈار نے آپ کو عبرت ناک شکست دی ہے۔
خواجہ آصف: میں اب اتنا بھی غیرتمند نہیں ہوں کہ اپنی عبرت ناک شکست تسلیم کرلوں۔ میں نے مینڈیٹ چوری نہیں کیا۔ کسی نے مجھے چوری کرکے دیا ہے۔
محمد مالک: کس نے؟ نام بتائیں۔ قمر گمنامی نے؟
خواجہ آصف: نہيں۔ وہ تو 2018 کی بات ہے۔
نئے محسنوں کے نام ابھی نہیں بتا سکتا۔ ریٹائر ہوجانے دیں۔
محمد مالک: چلیں نہ بتائیں۔ میں اسحاق ڈار کی لیکڈ آیڈیو سن لوں گا۔
(مکالمے کی بہتر تفہیم کے لئے کچھ مُلَمَّع کاری کی ہے۔)
Human Rights Council of Pakistan stands with Sheher Bano.
The abduction of her mother on 8 May 2025, continued threats, six months without electricity, and attempts to shut down their school/home reflect a grave pattern of intimidation and collective punishment.
Silencing her by forcing her account offline is unacceptable. We demand immediate protection, restoration of basic rights, and accountability.
#HumanRightsCouncilOfPakistan #WeStandWithSheherBano #HumanRights #EndEnforcedDisappearances
#ProtectWomen #RightToEducation #StopHarassment
#Pakistan: Imran Khans solitary confinement and inhumane detention conditions must end - UN expert. Prolonged or indefinite solitary confinement is prohibited under int'l human rights law – and when it extends longer than 15 days, it's a form of #torture.
https://t.co/m2Re8Yhyc0
میری ڈگری اصلی ہے اور تمام امتحانات دئیے ہیں،یہ بات میں اللہ اور اسکے رسول کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔
آج تک کسی سیکٹر کمانڈر کے کہنے پر فیصلے نہیں کئے اور نا ہی کبھی ٹاوٹی کی۔
جسٹس جہانگیری کا سندھ ہائی کورٹ میں جواب۔🔥
میں اس وقت جوہانسبرگ سے اذان کے ذریعے اپنے پرودگار اللہ رب عزت سے اس کی رحمت کا طلب گار ہوں
اللہ تعالیٰ ہمیں عمران خان صاحب کی قیادت میں حقیقی آزادی نصیب فرمائے اور ہماری قوم کو مشکلات سے نجات فرمائے ۔ امین
آج پراسیکیوٹر نے ایک گواہ پیش کیا عمران خان کے خلاف،جسکا تعلق کسٹم کے محکمے سے تھا۔
اس نے عدالت میں بیان دیا مجھے دھمکی دی گئی عمران خان کے خلاف بیان دو ورنہ تمہیں ملزم بنا دیں گے۔
یہ رہی توشہ خانہ ٹو کیس کی حقیقت۔
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)