ممتاز صحافی حامد میر نے آج مولانا اور عمران خان کے سیاسی تعلق پر ایک دلچسپ اور چشم کشا کالم تحریر کیا ہے جو پڑھنے کے قابل ہے، اس کالم میں انہوں نے ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ مولانا فضل الرحمان جب پی ٹی آئی حکومت پر یہودی ایجنٹی کا الزام لگاتے تو وہ ہوائی فائرنگ نہیں تھی بلکہ اس میں باقاعدہ وزن موجود تھا۔ سب سے پہلے حامد میر کے کالم کا پیراگراف پڑھیں:
’’2019ء میں مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ اُس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صحافیوں کو بلا بلا کر بتاتے کہ مولانا فضل الرحمان برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی سکس کیلئے کام کرتے ہیں۔ ایک دفعہ میں نے جنرل باجوہ سے کہا کہ آپ مولانا کیخلاف کوئی ٹھوس ثبوت سامنے لا کر اُن کیخلاف قانونی کارروائی کیوں نہیں کرتے؟ جنرل باجوہ فوراً موضوع بدل لیتے۔ باجوہ ایک طرف اسرائیل کے ساتھ دوستی کے فوائد بیان کیا کرتے اور دوسری طرف مولانا فضل الرحمان کو برطانیہ کا ایجنٹ قرار دیتے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنرل باجوہ کی اسرائیل سے دوستی کی خواہشیں اُنہیں عمران خان سے دور لے گئیں‘‘۔
یہاں حامد میر انکشاف کرتے ہیں نکے کا ابا جہاں صحافیوں کو بلا کر مولانا پر جھوٹے الزامات لگاتا وہیں پر ان کے سامنے مسلسل اسرائیل کے ساتھ دوستی کے فوائد بیان کرتا تھا۔
اب یہ بات سب کو معلوم ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ عمران پروجیکٹ کو لانچ کرنے والا باجوہ تھا اور جب باجوہ نے عمران سے ہاتھ اٹھا دیا تو عمران حکومت گر گئی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باجوہ جب صحافیوں کے سامنے اسرائیل کی تعریفیں کرتا تھا تو اس کا مقصد یقینی طور پر ملک میں ایسی فضا بنانا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا آسان ہوجائے اور یہ پوری دنیا میں یہودی لابی کا ایک بڑا ایجنڈا ہے۔
اب اگر مولانا فضل الرحمان، پی ٹی آئی پر یہ الزام لگاتے تھے کہ یہ یہودی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں تو وہ مولانا کا دماغی تخیل یا سیاسی نعرہ نہیں تھا بلکہ اس میں ٹھوس پن موجود تھا اور مختلف ذرائع سے ملنے والی خبروں کی بنیاد پر ہی مولانا یہ دعویٰ کرتے تھے۔
شاید آپ کے علم میں نہ ہو، کپتان اقتدار سے نکالے جانے کے بعد متعدد مرتبہ مولانا سے اتحاد کی کوشش کرچکے ہیں لیکن مولانا نے اس کیلئے بہت کڑی شرائط رکھی ہیں، ان شرائط میں یہ ہے کہ پی ٹی آئی لکھ کر دے گی کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیلی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گی، منکرین ختم نبوت کے قانون اور توہین مقدسات کے قوانین کو تبدیل نہیں کرے گی اور مدارس پر مغربی ایجنڈا کے مطابق پابندیاں نہیں لگائے گی، اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی اس پر راضی بھی ہوگئی ہے۔
وسعت اللہ خان نے درست لکھا تھا کہ اگر مولانا یورپ و امریکا میں پیدا ہوتے تو اس وقت کیمبرج اور آکسفورڈ میں ان کی کی سیاست پر طلبہ پی ایچ ڈی مقالے لکھ رہے ہوتے۔
(شیخ نوید)
خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کی اصل وجہ وہاں کے اربوں ڈالرز کے نایاب معدنیات ہیں، جن پر قبضہ کرنے کے لیے حکومتیں گرا کر یہ گھناؤنی واردات کی گئی ہے!
دنیا بھر میں وسائل کے نام پر ممالک کو لوٹنے کا یہ کھیل نیا نہیں ہے؛ کانگو (کوبالت و تانبے)، لائبیریا (ہیرے)، نائیجیریا (تیل)، عراق اور لیبیا کی طرح اب پاکستان کے وسائل غیر ملکی طاقتوں کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، لیتھیم اور اے آئی (AI) کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے ان معدنیات پر ملکی و بیرونی گِدھوں کی نظریں ہیں۔ جب تک پاکستان کی عوام اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر باہر نہیں نکلے گی، یہ تباہی نہیں رکے گی اور تاریخ گواہ ہے کہ اس لوٹ مار میں ملوث حکمرانوں کا انجام ہمیشہ عبرت ناک رہا ہے!
#kpk #governer_rule
Admin
یہ ہے مریم نواز کا پنجاب۔۔۔
پنجاب میں ایک سال کے دوران 1,100 سے زائد افراد کا پولیس مقابلوں (STAGED ENCOUNTERS) میں مارا جانا اور صوبے کا گینگ ریپ کیسز میں پہلے نمبر پر ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ دور میں قانونی عمل مکمل طور پر دم توڑ چکا ہے۔ پولیس کو خاندانی ملیشیا بنا دیا گیا ہے، اور سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ماورائے عدالت قتل جیسے گھناؤنے فعل پر فخر کیا جا رہا ہے اور جشن منایا جا رہا ہے۔
یہ ہے مریم نواز کا پنجاب، جہاں قانون کے اس خاتمے اور درندگی کے اس رجحان نے معاشرے کو ’’جنگل کے قانون‘‘ کی طرف دھکیل دیا ہے۔
امید ہے آج عدالت عمران خان کی بہنوں کی رہائی کا حکم دے گی۔ تین بزرگ خواتین سے حکومت کو امن عامہ کا خطرہ تھا پہلے دن ہی بھونڈا مذاق تھا۔ اب 30 دن بھی گزر گئے اور لانگ مارچ بھی ختم۔ اب کیوں گرفتار ہیں یہ بے گناہ خواتین؟؟؟
پاکستان تحریکِ انصاف کے ایم این اے اقبال آفریدی اور ان کے صاحبزادے کے مبینہ اغوا کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔
گزشتہ رات پاکستان تحریکِ انصاف کے ایم این اے جناب اقبال آفریدی اور ان کے صاحبزادے کو نقاب پوش، سادہ لباس میں ملبوس افراد کی جانب سے مبینہ طور پر اٹھا کر لے جانے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
ہم چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، اقبال آفریدی اور ان کے صاحبزادے کی بحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
آئین و قانون کی بالادستی، شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور انصاف کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اقبال آفریدی اور ان کے صاحبزادے کو جلد از جلد بازیاب کروا کر اہلِ خانہ کے حوالے کیا جائے۔
اس شخص کو قانون کے زریعے نشان عبرت بنانا چاہیے تھا۔ جج آصف کا بیٹا، کراچی کی امیر زادی، یونیورسٹی میں بدمعاشی کرنیوالے کرنل، کانجو اور جتوئی جیسوں کو مقابلے میں کیوں نہیں مارا جاتا۔
اقبال آفریدی سر پِھرا تھا، لیکن انتہا کا وفادار اور نظریاتی شخص ہے، اپنی پارٹی اور لیڈر سے محبت کرنے والا شخص ہے آج ریاستی دہشتگردوں نے انہیں ان کے گھر سے اغواء کر لیا ہے
نامعلوم (جو اب سب کو معلوم ہیں) نقاب پوش افراد کا ایم این اے اقبال آفریدی کو اور ان کے بیٹے عرفان آفریدی کو ان کے رہائش گاہ سے اغوا کر لیا گیا ہے.
#AsimLaw
عمران خان کے 50 لاکھ گھروں کا خواب، اسلام آباد میں 4ہزار سے زائد فلیٹس تیار، 90 فیصد سے زائد کام مکمل، مگر غریب آج بھی اپنے گھروں کے منتظر! آخر ان کا قصور کیا ہے؟ کیا عوامی منصوبے بھی سیاست کی نذر ہوں گے؟، موقع پر جا کر تیار کی گئی خصوصی تحقیقاتی رپورٹ کا لنک 👇
https://t.co/JmQNMLsbng
راجہ صاحب قوم کسی بھی ایسے وزیراعلی یا پارٹی عہدے دار کو نہیں مانے گی جس کو عمران خان صاحب کی نامزدگی حاصل نہیں ہو گی۔ آپ ڈٹ جائیں۔ اور بھرپور طریقے سے ایسی کسی بھی سازش کا مقابلہ کریں۔ جب تک خان تبدیل نہ کرے وزیراعلی سہیل آفریدی ہی رہے گا اور جنید اکبر صدر۔ میرے بھی سوالات ہیں سہیل سے آپ سے جنید سے لانگ مارچ کو لے کر۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کے خان کے نامزد کئے گئے عہدے داران کو خان کی مرضی کے بغیر ہٹایا جائے۔ یا سازش کی جائے۔ یا ایسی سازش کو سپورٹ کیا جائے-
میرا مشورہ ہے کہ فوری ایک کمیٹی بنائی جائے آپ اس کی صدارت کریں۔ جو بھی خان کے احکامات سے ہٹے اسے پارٹی سے فوری فارغ کریں۔ اس سے پہلے کہ وہ پارٹی کو نقصان پہنچائے۔
نوٹ: چند دن پہلے جب میں نے یہ خبر بریک کی تھے کچھ لوگ یہاں فرما رہے تھے ڈاکٹر گل اب نیا وزیراعلی ڈھونڈ رہے ہی۔ عقل کے اندھو۔ جذبات سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں آؤ جو کچھ پچھلے تین مہینے میں ہوا وہ ایک ایک چیز اسی سب کا پیش خیمہ تھی۔ لیکن مصیبت ہے یہاں گروپ ہیں۔ جو مافیا بنے ہوئے ہیں۔ سوال اٹھاؤ انکی توہین ہو جاتی ہے۔
انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت!!!
سوات میں ملاکنڈ ریجن کے صدر فضل حکیم کے گھر پر نقاب پوش نامعلوم افراد کا چھاپہ، واقعے کے وقت فضل حکیم گھر پر موجود نہیں تھے!!!