پھر آپ یکایک ایک ایسے شخص بن جاتے ہیں، جو کسی سے شکوہ نہیں کرتا، لاحاصل بحثوں سے کنارہ کش ہو جاتا ہے، رخصت ہونے والوں کو پرسکون آنکھوں سے دیکھتا ہے اور صدموں کو پراسرار خاموشی کے ساتھ سہہ لیتا ہے۔
— نجیب محفوظ، مصری ناول نگار
مَحَبَّت بِھیک تھوڑی ہے…!
مَحَبَّت بِھیک ہوتی تو تُمہارے دَر پَہ جُھک جاتے،
خُدا کا واسطہ دے کر یہ تُم سے مانگ لیتے ہم،
صَدا دیتے خُدا کے واسطے یہ ڈال دو جَھولی ہماری میں،
مَگر یہ بِھیک تھوڑی ہے؟
جو جُھک کے مانگ لی جائے…!
فَقَط اِحساس ہے جاناں،
مَحَبَّت آس ہے جاناں،
بَہُت حَسّاس ہے جاناں،
کبھی اِحساس کو بازار میں بِکتے ہوئے دیکھا؟
کسی بھی آس کو کَشکول میں ڈالا نہیں جاتا
مَحَبَّت ایک جَذبہ ہے جو مانگنے سے نہیں ملتا،
اگر یہ بِھیک ہوتی تو بھکاری بن گئے ہوتے،
مَگر یہ بِھیک تھوڑی ہے،
سُہولت سے جو مِل جائے
سُہولت سے نہیں مِلتی، بڑی مُشکِل سے مِلتی ہے،
یہ دِل کو دِل سے مِلتی ہے 🖤