اک فقیہ شہر کو کیا دوش دیجے جب سبھی
میکدے کے دشمنوں میں ہوں قدح خواراں سمیت
یہ رعونت تابکے اے دل فگاراں دیکھنا
اب گرے گا طرۂ سلطاں سر سلطاں سمیت
وہ تو کیا آتے شب ہجراں تو کیا کٹتی فرازؔ
بجھ گئیں آخر کو سب شمعیں چراغ جاں سمیت
طعنہ زن تھا ہر کوئی ہم پر دل ناداں سمیت
ہم نے چھوڑا شہر رسوائی در جاناں سمیت
اس قدر افسردہ خاطر کون محفل سے گیا
ہر کسی کی آنکھ پر نم ہے دل آزاراں سمیت
جشن مقتل تھا بپا اور صرف بسمل تھے ہمیں
ہم نے سوچا تھا کہ دیکھیں گے یہ دن یاراں سمیت
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے
اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
یہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیں
وہ گفتگو در و دیوار کرنا چاہتے ہیں
ہمیں خبر ہے کہ گزرے گا ایک سیل فنا
سو ہم تمہیں بھی خبردار کرنا چاہتے ہیں
اور اس سے پہلے کہ ثابت ہو جرم خاموشی
ہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں
یہاں تک آ تو گئے آپ کی محبت میں
اب اور کتنا گنہ گار کرنا چاہتے ہیں
گل امید فروزاں رہے تری خوشبو
کہ لوگ اسے بھی گرفتار کرنا چاہتے ہیں
اٹھائے پھرتے ہیں کب سے عذاب در بدری
اب اس کو وقف رہ یار کرنا چاہتے ہیں
جہاں کہانی میں قاتل بری ہوا ہے وہاں
ہم اک گواہ کا کردار کرنا چاہتے ہیں
زمانہ ہم سے بھلا دشمنی تو کیا رکھتا
سو کر گیا ہے ہمیں پائمال ویسے ہی
مجھے بھی شوق نہ تھا داستاں سنانے کا
فرازؔ اس نے بھی پوچھا تھا حال ویسے ہی
احمد فراز
تجھے ہے مشق ستم کا ملال ویسے ہی
ہماری جان تھی جاں پر وبال ویسے ہی
چلا تھا ذکر زمانے کی بے وفائی کا
سو آ گیا ہے تمہارا خیال ویسے ہی
ہم آ گئے ہیں تہ دام تو نصیب اپنا
وگرنہ اس نے تو پھینکا تھا جال ویسے ہی
میں روکنا ہی نہیں چاہتا تھا وار اس کا
گری نہیں مرے ہاتھوں سے ڈھال ویسے ہی
نجانے کب تھا! کہاں تھا مگر یہ لگتا ہے
یہ وقت پہلے بھی ہم نے کبھی گزارا ہے
یہ دو کنارے تو دریا کے ہو گئے ، ہم تم!
مگر وہ کون ہے جو تیسرا کنارا ہے
محمود احمد غزنوی
حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے
تمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارا ہے
کسی چراغ میں ہم ہیں کسی کنول میں ہو تم
کہیں جمال ہمارا کہیں تمہارا ہے
وہ کیا وصال کا لمحہ تھا جس کے نشے میں
تمام عمر کی فرقت ہمیں گوارا ہے
ہر اک صدا جو ہمیں بازگشت لگتی ہے
نجانے ہم ہیں دوبارہ کہ یہ دوبارہ ہے
وہ منکشف مری آنکھوں میں ہو کہ جلوے میں
ہر ایک حُسن کسی حُسن کا اشارہ ہے
عجب اصول ہیں اس کاروبارِ دُنیا کے
کسی کا قرض کسی اور نے اُتارا ہے
کہیں پہ ہے کوئی خُوشبو کہ جس کے ہونے کا
تمام عالمِ موجود استعارا ہے
ہم بھی شاعر تھے کبھی جان سخن یاد نہیں
تجھ کو بھولے ہیں تو دل داریٔ فن یاد نہیں
دل سے کل محو تکلم تھے تو معلوم ہوا
کوئی کاکل کوئی لب کوئی دہن یاد نہیں
عقل کے شہر میں آیا ہے تو یوں گم ہے جنوں
لب گویا کو بھی بے ساختہ پن یاد نہیں
اول اول تو نہ تھے واقف آداب قفس
اور اب رسم و رہ اہل چمن یاد نہیں
ہر کوئی ناوک و ترکش کی دکاں پوچھتا ہے
کسی گاہک کو مگر اپنا بدن یاد نہیں
وقت کس دشت فراموشی میں لے آیا ہے
اب ترا نام بھی خاکم بدہن یاد نہیں