وہ لوگ جن کو عوام نے ووٹ نہیں دیا، وہ آپ کی کیوں پرواہ کریں گے؟ بچے جہاں نہ رہ سکیں وہاں قوم نہیں بن سکتی۔ یہ انتہائی بیہودہ نظام لایا گیا ہے، کس کے خطرناک نتائج آرہے ہیں۔ نئے صوبے بنا کر یہی ڈاکو مسلط کرنے ہیں تو کیا فائدہ؟ شہباز شریف استعفٰی دو اور قوم سے معافی مانگو!
ہیلتھ کارڈ لانے کا مقصد یہ تھا کہ سرکاری ہسپتال اب بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ، آدھے مریض پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانے چاہئیں لیکن عمران خان کی نفرت میں ہیلتھ کارڈ ختم کردیا گیا
ہیلتھ کارڈ کے لیے کہا گیا کہ پیسے نہیں ہیں لیکن میڈیا کو پچاس ارب سے زائد دینے ، گیارہ ارب کا جہاز خریدنے ، آئی پی پیز کو ہزار ہا ارب دینے ، آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں بڑھانے ، اراکین اسمبلئ، اسپیکر ، چیئرمین سینٹ اور وزرا کی تنخواہیں بڑھانے کے لئے پیسہ موجود ہے ، یہ اشرافیہ کا نظام ہے
محترم بلاوجہ بھٹو زرداری صاحب!!
آپ تو آخری بندے ہونے چاہئیے جو اس معاملے پر لب کشائی کرے۔
آپ نے گُل پلازہ میں لگنے والی آگ کی انکوائری کر لی؟
ذمہ داروں کا تعین کر لیا؟؟
چھوڑیں باقی باتیں اپنی والدہ کے قاتل کو ڈھونڈھ لیا؟؟
پمز ہسپتال کی روتی بلکتی مائیں صرف یہ ویڈیو دیکھیں اور حکمرانوں کی ترجیحات ماحظہ کریں کہ
حکمرانوں کے ترجمان جب اس ڈھٹائی سے اربوں روپے ایک جہاز پر غیر ضروری طور پر ضائع کرنے پر اکڑ دکھائیں۔
یہاں دو دن کا بچہ مر رہا ہے یا نوجوان۔ ان سب کی بلا سے۔
سب کہہ رہے ہیں کہ مصطفی کمال استعفی دے۔
استعفی دینے سے کیا ہوگا۔ وہ تو بچ جاۓ گا۔
اصل ڈیمانڈ یہ ہونی چاہیئے کہ 14 بچوں کے قتل کے مقدمے میں لاپرواہی کی وجہ سے گرفتار کیا جاۓ۔ استعفی کا اچار ڈالنا ہے۔
جب تک ایسے واقعات میں وزیر غفلت کی وجہ سے جیل نہیں جاتا تب تک آگے آنے والوں کے لئیے کوئ سبق ہی نہیں ہوگا۔
بلاول زرداری پاکستانیوں کو بیوقوف اور جاہل سمجھتے ہیں ؟
یہ حکومت بلاول کی جماعت کے ووٹوں سے قائم ہے
جب مراعات ، عہدے ، فنڈز اور فائدے لینے ہوں تو یہ حکومتی اتحادی بن جاتے ہیں
جب یہ حکومت کوئی جرم کرے تو یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہم اس حکومت کا حصہ نہیں ہیں ،
بیشرم سیاست ، گھٹیا کردار
اب پاکستان پر آسمان سے پتھروں کی بارش ہونا رہ گئی ہے
یہ ایبٹ آباد کے گاؤں نملی میرا کا واقعہ ہے جہاں نرسری کی طالبہ کیساتھ زیادتی ہوئی ہے ۔ بچی کے والدہ نے پولیس کو بتایا ہے کہ وہ بچی کے کپڑے تبدیل کررہی تھی اس نے سوجن اور خون دیکھا بچی سے پیار سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اسکول میں ایک لڑکا اس کو واش روم میں لیکر گیا اور اس نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دماغ ماؤف ہے
اللہ کے واسطے 18 سال سے کم عمر بچوں کے موبائیل کے استعمال پر پابندی لگادیں ۔ ان پر نظر رکھیں ۔ یا پھر ایسے بچے پیدا ہی نہ کریں ۔
فیس بک 99 فیصد ایسی ویڈیوز سجیسٹ کررہا ہے جو لوگوں میں جنسی خواہش کو ابھارتی ہیں ۔ یورپ میں کم عمر بچوں کے حوالے سے سخت ترین قانون سازی ہوچکی ہے ۔
#JusticeForAyatNoor
ہیلتھ مینجمنٹ خدیجہ انسٹیٹیوٹ کی وائس پرنسپل میڈیم زینت کا اپنی طلبہ پر ظالمانہ تشدد ویڈیوز منظر عام پر
طلبہ کو امتحانات کے لیے سوات گیسٹ ہاوٴس میں سٹے کرایا گیا دوران سٹے طلبہ بشریٰ کو زبردستی صفائی کا کام دیا گیا بعدازاں طلبہ مہراب کے انکار پر میڈم زینت جانب سے طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا
میں نے صفائی بھی کی پیپر ہونے باوجود مججے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ویڈیو میں تشدد ریکارڈ ہوا لیکن پھر بھی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی الٹا خدیجہ انسٹیٹیوٹ کلرسیداں انتظامیہ جانب سے ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے، متاثرہ طلبہ بشریٰ
پنجاب کی بیٹی کا سی ایم کے پی کے سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کیونکہ وقوع سوات میں ہوا ہے جس باعث یہاں کی انتظامیہ کاروائی کرنے سے قاصر ہے، لواحقین متاثرہ طلبہ
ایئر پورٹ پر اوور سیز پاکستانی سے نامناسب رویہ اور رشوت کا مطالبہ
میرا نام محمد ارشد ہے اور میں گزشتہ 16 سال سے یورپ میں مقیم ہوں۔ میں 11 مئی 2026 کو فلائٹ PK-750 کے ذریعے پاکستان آیا تھا۔ میری واپسی کی فلائٹ PK-749 مورخہ 21 جون 2026 کو تھی۔
میں تقریباً 9:00 بجے ایئرپورٹ پہنچا۔ اندر داخل ہوتے ہی میری ملاقات ایک افسر جناب ارشد خالد سے ہوئی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں لیٹ ہو چکا ہوں اور مجھ سے انتہائی غیر مہذب اور نامناسب انداز میں بات کی۔( جیسا کہ تصویر میں بھی ان کا انداز دیکھا جا سکتا ہے) حالانکہ میرے پہنچنے کے بعد بھی کئی دوسرے مسافروں کی بورڈنگ جاری تھی اور وہ میرے بعد ایئرپورٹ میں داخل ہوئے تھے۔
میں نے مؤدبانہ طور پر انہیں بتایا کہ میری فلائٹ کا مقررہ وقت 11:45 بجے تھا اور اس وقت صرف 9:00 بجے تھے۔ بظاہر فلائٹ کے وقت میں ایک گھنٹے کی تبدیلی کی گئی تھی، لیکن مجھے اس تبدیلی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
اس کے باوجود جناب ارشد خالد بار بار یہ کہتے رہے کہ میں لیٹ ہوں اور مجھے فلائٹ میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن پھر 20 ہزار مانگ لیئے جس پر جب میں نے رقم دینے سے انکار کیا تو انہوں نے مجھے بورڈنگ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اور کہا کہ 20 ہزار کے بغیر سوچنا بھی مت
میں نے کئی منٹ تک انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ مانا اور میں سفر نہ کر سکا، میرا ٹکٹ ضائع ہو گیا، اور مجھے پورے دن شدید ذہنی اذیت، پریشانی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
میں گزشتہ 16 سال سے یورپ میں مقیم ہوں اور میرے پاس تمام ضروری سفری دستاویزات موجود ہیں۔ ایک فرد کے غیر مناسب رویے کی وجہ سے مجھے مالی نقصان اور شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مجھے امید ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات اور انکوائری کر کے مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اوور سیز پاکستانی
محمد ارشد
ٹکٹ نمبر: 2142431511028
جو بات اس ملک کے صحافی اس ملک کے چوبیس لاکھ علما کرام کو کرنی چاہیے تھے ۔ وہ بات اک ٹی وی اداکارہ نے کر دی ہے ۔ جنکا ہر لفظ سونے کی سیاہی سے لکھنے کے مترادف ہے ۔
حنا خواجہ نے کہا ہے کہ اجکل میں جب بھی نماز پڑھنے کھڑی ہوتی میرے دل کا بوجھ بڑھ جاتا ہے ۔ دل رو پڑتا ہے کیونکہ میں دیکھتی ہو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں وہ پاک ملک جو مسلمانو کی خاطر بنا تھا ۔
وہاں مسلمانو کے ساتھ کیا ہورہا ہے ہمارے سیاست دان ہمارے حکمران جو بات بات پر اسلام کا تذکرہ کرتے ہیں ۔اپ تو ہمارے سر براہ ہیں اپ نے تو ہمارے سروں پر ہاتھ رکھنا تھا اپ ہماری چادریں کیوں اتار رہے ہیں ۔۔
اج جب میں دیکھتی ہوں سوشل میڈیا پر ہر جگہ خواتین کے ساتھ پکڑ دھکڑ ہورہی ہے کبھی یونیفارم میں تو کبھی بغیر یونیفارم میں مرد حضرات انہیں گاڑیوں میں دھکیل رہے ہوتے ہیں ۔
کبھی انہیں اغوا کیا جاتا تو کبھی وہ کاروکاری ہورہی ہیں تو کبھی خود ۔ کشی کر رہی ہوتی ہیں کبھی وہ ہراساں ہو رہی ہیں مرد اپنے گھر نہی چلا پارہے ۔
ٹیکس پہ ٹیکس لگ رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ سانس لیں گے تو اس پر بھی ٹیکس لگے گا ۔ اگر درخت ہو گا تو اس پر بھی ٹیکس لگے گا کیونکہ وہاں سے اکسجن نکلتی ہے ۔
اپ کیوں بھول گے ہیں ہمیں حکم ملا ہے حالت جنگ میں بھی عورتوں بچوں اور بزرگوں کو نقصان نہی پہچانا ۔ یہ کیسا نظام ہے جیلوں میں لوگ بھرے ہوے ہیں جرم ثابت نہی ہوتا ۔ مگر سزائیں چل رہی ہیں ۔
یہ ظلم کا نظام ہے یہ کفر کا نظام ہے دین اسلام کا نہی ہے ۔ یہ اللہ کا نظام نہی ہے خدارا سمجھ جائیں سنبھل جائیں ۔
ابھی بھی وقت ہے بچا لیں اپنے ملک کو بچا لیں اپنے بچوں پر رحم کریں رحم کا صلہ رحم ہوتا ہے اللہ اپ پر بھی رحم فرمائیں گے غلطیوں کو تسلیم کریں ۔
عالمی طاقتوں سے نہُ ڈریں اس طاقت سے ڈریں جو سب مٹاتا ہے سب بناتا ہے ۔ اس دنیا سے خالی ہاتھ جائیں گے ساتھ جاے گا تو صرف اعمال نامہ ۔
پاکستان کی مشہور اداکارہ حنا خواجہ نے یہ بات کر کے ثابت کر دیا کہ چاہے اپ کس فیلڈ سے تعلق رکھتے ہوں جب اپکے سامنے ظلم ہو رہا ہو تو اواز حق بلند کرنا فرض بن جاتا ہے ۔ سلام ہے حنا خواجہ صاحبہ کو جنہوں نے پچیس کڑور گونگے بہروں کی ترجمانی کی ہے ۔