@shafqatmm1 اسرائیل اور امریکہ جارح مگر کھلے دشمن ہیں، اور ایران، تمام تر دباؤ اور خطرات کے باوجود، میدان میں بہادری سے ڈٹا ہوا ہے، جواب بھی دے رہا ہے۔ لیکن پاکستان کا پردہ فاش ہو چکا ہے، ہم محض ایک بزدل، منافق اور بےغیرت تماشائی قوم اور ریاست ہیں
@MianAliAshfaq اسرائیل اور امریکہ جارح مگر کھلے دشمن ہیں، اور ایران، تمام تر دباؤ اور خطرات کے باوجود، میدان میں بہادری سے ڈٹا ہوا ہے، جواب بھی دے رہا ہے۔ لیکن پاکستان کا پردہ فاش ہو چکا ہے، ہم محض ایک بزدل، منافق اور بےغیرت تماشائی قوم اور ریاست ہیں
@ImranRiazKhan اسرائیل اور امریکہ جارح مگر کھلے دشمن ہیں، اور ایران، تمام تر دباؤ اور خطرات کے باوجود، میدان میں بہادری سے ڈٹا ہوا ہے، جواب بھی دے رہا ہے۔ لیکن پاکستان کا پردہ فاش ہو چکا ہے، ہم محض ایک بزدل، منافق اور بےغیرت تماشائی قوم اور ریاست ہیں
@Kaashif999 آوٹ آف سلیبس والی بات پسند آئی اور صحیح بھی لگتی ہے۔ اور آپ کا خدشہ بھی درست معلوم ہوتا ہے کہ اب اسکے نتائج بھی ہوں گے۔ مگر آپکی آخری بات عمران خان کے حوالے سے خوشگمانی ہی لگتی ہے۔
اب یہ سُنیں چشم دید گواہ نِک رابرٹسن کے مُنہ سے کہ بھارت نے سیز فائر کی درخواست کی اور بار بار کی۔ پاکستان نے کبھی سیز فائر کی درخواست نہیں کی۔
اور جو جو بھارتی وزیر خارجہ کے جھوٹ کو سچ سمجھ رہے تھے اُن کو اللہ ہدائیت دے دشمن ہمیشہ جھوٹ ہی بولتا ہے۔
@MahrangBaloch_ میں اپنے تمام بلوچ بھائیوں اور بہنوں سے معافی مانگتا ہوں۔ کہہ پہلے میں آپکی تکلیف پہ توجہ نہ دے سکا۔ مگر اب آنکھوں اور عقل پہ پڑا پردہ اتر گیا۔ اب خود تکلیف سے گزرے تو سب کے درد کا احساس ہوا ہے۔
رجیم چینج آپریشن کی رات کچھ معتبر چہروں پر خوف کے گھمبیر سائے تھے۔ کچھ دیر قبل کی میٹنگ میں ہوئے فیصلے پر آنے والی کال کا حکم حاوی ہوچکا تھا۔ وزیر اعظم کو سرینڈر پر آمادہ کیا جارہا تھا۔ آئین، قانون کی پاسداری کے گذشتہ دعوی اتنے ہی حقیقت تھے جتنا کے ۷۷ سال سے اعلی جاہ کا غیر سیاسی ہونے کا بیان۔ اگلی شام عوام سڑکوں پر آگئی، عقابی روح پھر بیدار ہوگئی۔ ۲۵ مئی تک چہروں کے رنگ کھلتے بکھرتے ہی رہے۔ عمران خان کا حکم آتا شہر کے شہر سڑکوں پر ہوتے۔ پھر یوں ہوا کے ۲۵ مئی کا مارچ ۲۶ مئی کی صبح ختم ہوگیا، سیاہ سائے پھر منڈلانے لگے۔ آگے سر پر ضمنی انتخابات بھی تھے۔ آقاؤں نے پورا زور لگایا، ان کی کوششوں پر یقین محکم رکھنے والوں کے تجزیے بھی ان کی فتح کا اعلان کر رہے تھے۔ عوامی طاقت اور بہتر حکمتِ عملی سے ہم نے اپنا مینڈیٹ محفوظ کرلیا تو بجھے چہروں پر پھر چراغ روشن ہوگئے مگر اگست میں ڈاکٹر شہباز گل کی گرفتاری کے حالات اور ان پر ہونے والے بہیمانہ تشدد کی خبروں نے پھر یہ شمعیں معدوم کردیں۔ پارٹی کے کچھ خیرخواہوں نے ہمیں بھی گِل سے دور رہنے کی تنبیہہ کی تو دوسری جانب اپنے اور غیروں نے مل کر اُس کے ڈبل ایجنٹ ہونے کا بیانیہ بنانا شروع کردیا۔ باوجود ان سب بیانیوں کے ناصرف خان صاحب شہباز گِل کی تیمارداری کے لیے ہسپتال آئے بلکہ ان کے لیے ریلی بھی منعقد کی۔ خیر کبھی کے دن بڑے تو کبھی کی راتیں، یہ اتار چڑھاؤ چلتا رہا۔ کبھی ہمارا پلڑا بھاری تو کبھی مدمقابل کا داؤ چل جاتا، ایسے ہی بنی گالہ کیمپ سے نکلتے ہوئے کچھ ”سرگرم“ رہنماؤں نے گھیر لیا، پوچھا کیا لگ رہا ہے؟ موسم کچھ بدلا بدلا سا نہیں ہے؟ میں نے کہا اپنی میٹنگز کا احوال بتانا چاہ رہے ہیں یا مستقبل کا حال جاننا مقصود ہے؟ کہا تمہارا اندازہ کیا ہے؟ میں نے کہا ٹرک کی بتی کے پیچھے مت لگو۔ نا ان کی گیدڑ بھبکیوں سے ناامید ہو، نا ان کی چکنی چپڑی باتوں سے کوئی امید باندھو۔ ان کی کیلکولیشن کے مطابق مستقبل کے منظرنامے میں عمران خان نہیں ہے۔ چہرے پھر لٹک گئے۔ کہا مگر عمران خان ان کی کیلکولیشنز کا محتاج نہیں ہے۔
پوچھنا تو بہت کچھ چاہتے تھے کہ ان کی خدائی پر ایمان کچھ اپنوں کو بھی کم نہ تھا مگر پوچھا فقط اتنا کہ کیسے؟
(اور اس کیسے کا جواب وہ جواب ہے جو میں آج بھی خود کو دیتا ہوں جب مجھے اپنا آپ بے بس محسوس ہونے لگتا ہے۔)
”جس شخص نے دنیاوی طاقتوں کو للکار کر اللہ کے پیغمبر (ص) سے محبت کا اقرار کیا۔ جس نے نبیوں کی سرزمین بیت المقدس کا مقدمہ لڑا۔ جو کشمیر سے لے کر افغانستان تک ہر مظلوم مسلمان کی آواز بنا۔ جس نے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کے بیانیے کو نیست و نابود کیا۔ جو اپنی قوم کی اس وقت ڈھال بنا جب بیرونی ہر طاقت ان کے خون کی پیاسی اور اندرونی ہر طاقت ان کی قیمت لگانے کو تیار تھی۔ جس نے اللہ کے بندوں کے زخموں پر مرہم رکھا۔ ان کی فلاح کو مقدم رکھا۔ ان کے وقار کی حفاظت کی۔اللہ ہی اس کی مدد کرے گا۔ اللہ اس کی مدد اس لیے کرے گا کہ اس نے ہر قدم پر صرف اللہ سے مدد مانگی ہے۔ اللہ اس کی مدد اس لیے کرے گا کہ اس نے یہ لڑائی صرف اور صرف اس کی خدائی کے بھروسے مول لی ہے اور اللہ اپنی کبریائی میں کوئی شراکت نہیں قبول کرتا۔ ہاں یہ لڑائی آسان نہیں ہونی، گِل آخری نہیں جس نے یہ سب سہا اوروں کو بھی سہنا ہوگا۔ جسم پہ جبر بھی اور روح پر زخم بھی!
میں آخری نہیں جس کے سر کی قیمت لگی اوروں کی بھی لگے گی۔ سب کا سب داؤ پہ لگے گا۔مگر سب سے کھٹن یہ سفر عمران خان کے لیے ہوگا کیونکہ ہم، ہم سفر سہی مگر اصل میں تو صراط مستقیم کا متلاشی وہ ہے اور صراط مستقیم پہ چلنا سہل کب رہا ہے؟
اب اس کو تو اپنی خواہش کی قیمت معلوم ہے، جس جس کو ساتھ چلنے کی خواہش ہے جگرا بڑا رکھے“۔
آپ سمجھ رہے ہوں گے یہ کہہ کر میں خود کو اور آپ کو ذمہ داری سے مبرا کررہا ہوں۔ میں ایسا نہیں کررہا۔ میں اپنے جواب میں سوال چھوڑ رہا ہوں اور جان کر چھوڑ رہا ہوں کیونکہ کچھ دن سے اندازہ ہورہا ہے کہ کم لکھے کو زیادہ پڑھنے کا ہنر سیکھنا آپ کے لیے بھی اب ضروری ہے۔