کیا آپ نے کسی ن لیگی صحافی کا رضا ڈار کیس پر ٹوئیٹ دیکھا ہے کہ "پلیز CCD فُل فرائی کرو"؟ بس اتنی ہی صحافت ہوتی ہے یہاں کہ جب مالکوں کا نام آ جائے تو منہ کو لقوہ مار جاتا ہے۔ دیکھائیں کوئی ٹوئیٹ جس میں یہ بولے ہوں کہ پاکستان کا امیج تباہ کرنے والوں کو برباد کر دینا چاہیئے؟ ان کی صحافت اور بھاشن صرف غربیوں یا دوسری جماعتوں پر گلہ پھاڑ پھاڑ کر نکلتی ہے.
مزمل اسلم پر زیادہ بات سے بہتر ہمیں خان صاحب سے ملاقات پر زور ڈالنا چاہیے مزمل اسلم جیسے لوگ ماضی کا حصہ بننے جا رہے ہیں
شہباز گل اور شہزاد اکبر ہمارے ہیرو ہیں۔۔۔۔۔۔
میں پہلے دن سے لکھ رہا ہوں سی سی ڈی کی وردی میں یہ خونی درندے ہیں اور ایک وقت آئے گا جب یہ خون آشام درندے ہمارے بچوں کو کھانا شروع کریں گے۔
شفقت علی قریشی
"ایک مسنگ پرسن کے نام "
یہ ٹویٹ ایک مسسنگ پرسن کیلئے ہے -
مسنگ پرسن جو پچھلے تین سال سے نہیں دیکھا گیا ' اور پچھلے تین ماہ سے اس کے خاندان میں سے کسی نے اس سے نہ بات کی نہ ملاقات کی -
مسنگ پرسن جو پاکستان کا سب سے مقبول پرسن ہے لیکن غائب ہے -
مسنگ پرسن جس کی ایک آنکھ مسنگ کردی گئی لیکن اس نظام اور اس عوام کے کان پر جوں تک نہ رینگی -
مسنگ پرسن جس کا مقدمہ نہ کسی تھانے میں درج ہوتا ہے نہ کسی عدالت میں دائر ہوتا ہے -
مسنگ پرسن جس کو مسنگ کرنے کیلئے اس ملک کی سپریم کورٹ ہی مسنگ ہوگئی- وہاں عدل مسنگ ہوگیا - وہاں انصاف مسنگ ہوگیا -
مسنگ پرسن جس کس انتخابی نشان مسنگ کردیا گیا جس کا بیلٹ باکس مسنگ کر دیا گیا -
مسنگ پرسن جس کو مسنگ کرنے کیلئے اس ملک کا آئین ترمیم زدہ کرکے مسنگ کردیا گیا -
مسنگ پرسن جس کے سب مقدمے بھی ماوراے عدالت ' جس کی سب سزائیں بھی ماوراے عدالت - جس پر الزام بھی ماوراے عدالت - جس کا انجام بھی ماوراے عدالت -
مسنگ پرسن جس کے وسیلے سے اس ملک میں کینسر مسنگ ہونے لگا ' پر آج وہ خود آمریت کے کینسر سے گھائل مسنگ نظر آتا ہے -
مسنگ پرسن جس کے اپنے بھی مسنگ ' جس کے سجن بھی مسنگ ' جس کی عوام بھی مسنگ ' جس کے منسٹر بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے وکیل بھی مسنگ ' جس کے مشیر بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کی جیل کے باہر دھرنا بھی مسنگ ' عوام کا بپھرنا بھی مسنگ - پارٹی کا احتجاج بھی مسنگ - کوئی ہڑتال کوئی لانگ مارچ بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کی میڈیا پر سے اب خبر بھی مسنگ ' جس کا نام بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بغیر اس نوجوان کا سیاست میں اشتیاق بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بغیر اس ملک کے غریب کا "احساس " بھی مسنگ ' جس کے بعد بے گھر کی "پناہ گاہ " بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بعد بیمار کا "ہیلتھ کارڈ" بھی مسنگ ' جس کے بعد "بلین ٹری اور ماحولیات" کی بات بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بعد ملک کا وقار بھی مسنگ ' آزاد خارجہ پالیسی کا انداز بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بعد وردی کی حرمت بھی مسنگ اور پاسبان سے محبت بھی مسنگ -
یہ میرا کالم اس مسنگ پرسن کے نام ہے جس کا مسنگ ہونا اب اس ملک ؛ اس نظام اور اس عوام کیلئے ایک نیو نارمل بنتا جارہا ہے اور سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس نسیان اور اس بیوفائی اور طوطا چشمی پر ہمارا ضمیر بھی مسنگ -
قلم کی جسارت وقاص نواز
-----------------------------------------------------
@MoeedNj@ImranRiazKhan@SabeeKazmi786@ARYSabirShakir@MarioNawfal@soulful7867@salmanAraja@SohailAfridiISF
ایڈووکیٹ فائزہ مراد کا عمران خان کو خط
محترم عمران خان صاحب،
ایسے دن آتے ہیں جب میں سوچنے لگتی ہوں کہ کیا یہ قوم واقعی آپ کی مستحق ہے؟
یہ سوال اس لیے نہیں کہ آپ مکمل انسان ہیں۔ کوئی لیڈر کامل نہیں ہوتا۔ نہ ہی اس لیے کہ آپ نے کبھی غلطیاں نہیں کیں۔ ہر انسان غلطیاں کرتا ہے۔ بلکہ اس لیے کہ بہت کم لوگ اس ملک کے لیے وہ سب کچھ برداشت کرنے کو تیار ہوتے ہیں جو آپ نے برداشت کیا ہے اور پھر بھی سر تسلیم خم نہیں کیا۔
آپ بہت پہلے ہی آسان راستہ منتخب کر سکتے تھے۔ آپ سمجھوتہ کر سکتے تھے، خاموش رہ سکتے تھے، اپنی آرام دہ زندگی کو محفوظ رکھ سکتے تھے اور اپنی آزادی کو یقینی بنا سکتے تھے۔ اس کے بجائے آپ نے اصول پسندی کو ذاتی فائدے پر ترجیح دی اور مزاحمت کے راستے پر چلے۔ اس انتخاب کی خاطر آپ نے ایک ایسی قیمت ادا کی ہے جسے بہت کم لوگ پوری طرح سمجھ سکتے ہیں۔
بہت سے لوگوں نے آپ کی جدوجہد سے فائدہ اٹھایا۔ بہت سے لوگ اس اعتماد کی وجہ سے آگے بڑھے جو آپ نے ان پر کیا۔ لیکن بہت کم لوگوں نے اس قیمت کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی ادا کیا ہے جو آپ آج بھی ہر روز ادا کر رہے ہیں۔
جیسے بے شمار دوسرے سپورٹرز، میں بھی آپ کی آزادی کے لیے کچھ معنی خیز کرنا چاہتی ہوں۔ مگر اکثر اوقات میرے پاس صرف بے بسی کا احساس رہ جاتا ہے۔ میں دن گزرتے دیکھتی ہوں۔ مہینے گزرتے دیکھتی ہوں۔ ایک اور منگل، ایک اور جمعرات، ایک اور سماعت، ایک اور تاخیر۔ اور میں خود سے وہی سوال کرتی ہوں کہ ایک عام سپورٹر اور کیا کر سکتا ہے؟ یہ احساس برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔
مجھے نہیں معلوم مستقبل کیا لاتا ہے۔ اس وقت تک ہم میں سے بہت سے لوگ اس مایوسی کے ساتھ جی رہے ہیں کہ پاکستان کے لیے آپ نے جو کچھ بھی برداشت کیا، ہم آپ کے لیے اتنا کچھ نہیں کر سکے جتنا کے آپ کے مستحق ہیں۔
آپ سے مخلص،
ایک پاکستانی
ایڈووکیٹ فائزہ مراد
@fayezasays
جان کر فیک خبر چلوائی گئی ہے تاکہ عوام کا فوکس ہٹایا جا سکے۔ محسن نقوی کی سہیل آفریدی سے ملاقات، کے پی کے کا سرپلس بجٹ دینا، خان صاحب سے ملاقات کے بغیر بجٹ کو پیش اور منظور کرنا، اور باقی تمام چیزوں سے فوکس ہٹانے کے لیے ہی یہ خبر چلوائی گئی تھی۔
لیکن مجھے حیرت قیادت پر ہو رہی ہے کہ یہ کیسے ہسپتالوں کے چکر لگا رہے ہیں، حالانکہ ان کو پتا ہے کہ خان صاحب کو کسی جگہ نہیں لے کر گئے ہیں۔ اگر یہ واقعی خان صاحب کے اتنے سگے ہوتے تو تب کیوں نہیں پمز گئے، جب خان صاحب کو تقریباً چار سے پانچ مرتبہ وہاں لے کر آئے تھے؟ اگر سگے ہوتے تو تب پمز آ جاتے۔
لیکن یہ سب ڈرامے کیے جا رہے ہیں اور آپ کا فوکس اصل ایشوز سے ہٹایا جا رہا ہے۔
The story of the cypher points toward one man: General Bajwa.
He misled both Pakistan and the United States — portraying the elected PM to US officials as “anti-US” and hostile to American interests, while inside Pakistan he worked to orchestrate a Vote of No Confidence by engineering alliances and buying loyalties. The objective? Install a compliant puppet setup and secure his own extension. Pakistan paid the price for this extension game.
بابر افتخار نے قوم سے جھوٹ بولا کہ عمران خان کا امریکی سائفر پر لیا گیا موقف جھوٹ ہے۔
بابر افتخار نے جھوٹ بولنا اپنی بیوی سے سیکھا ہے۔ جب بابر افتخار میجر تھا تو اس کی بیوی ایک رات گھر نہیں آئی، بہانہ بنایا کہ دوست کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا، اس کے گھر گئی تھی، جبکہ چھاؤنی میں موجود بریگیڈیئر کے گھر گئی تھی تاکہ بابر افتخار کی پروموشن ہو جائے اور وہ کرنل بن جائے۔
جس بریگیڈیئر کے گھر گئی تھی، اس بریگیڈیئر کی بیوی بھی میجر جنرل کے گھر گئی تھی تاکہ اس کا شوہر میجر جنرل بن جائے۔
ہاں ہاں ہم غلام تھے ۔ ہم غلام ہیں ۔
وہ کہہ کہہ کر 400 دن تک جیل چلا گیا۔ اور اب جیل میں اس کو 1100 دن ہوگئے۔ 1500 دنوں بعد سائفر لیک ہوگیا۔
لفظ با لفظ حقیقت
غیر مقبول عمران خان
رجیم چینج سے پہلے عمران خان غیر مقبول نہیں تھا، عمران خان کا کور ووٹر خاموش تھا ۔ جس قدر تیز رفتار تبدیلی کی انہیں امید تھی وہ ہو نہ سکی تو لوگ مایوس ہوئے ، پھر انہی لوگوں کو رجیم چینج کے بعد سے اب تک یہی سمجھ آرہی ہے کہ وہ تیز رفتار تبدیلی آکیوں نہ سکی۔ عمران خان غیر مقبول نہیں تھا عمران خان کا کچھ ڈس کنیکٹ ہوگیا تھا۔ عمران خان 2008 سے لیکر آج تک پاپولر پالیٹکس کا کھلاڑی ہے ۔ حکومت میں آنے کے بعد دو اڑھائی سال تک عمران خان کے روایتی جلسے جلوسوں کو بریک لگ گئی۔ اس کی وجہ سے لوگ اوجھل بھی ہوئے لیکن جیسے ہی عمران خان نے جلسوں کا سلسلہ شروع کیا گیج وہیں پر جاپہنچی۔
نو اپریل کو عمران خان کی حکومت ختم ہوئی۔ دس اپریل کو سارا پاکستان بغیر کسی کال کے سڑکوں پر تھا۔ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسا نہیں ہوا۔ عمران خان غیر مقبول نہیں تھا۔ عمران خان کو غیر مقبول دکھایا جارہا تھا۔ دکھانے والے کون تھے؟ جی ہاں یہی میڈیا ہاوسز جو آجکل برہنہ ہوئے پھرتے ہیں۔ وہی صحافی جو جون 2021 سے بتا رہے تھے کہ گل ہوگئی ہے ، “ تجربہ کار “ آرہے ہیں۔ یہ وہی لوگ تھے جو سندھ ہاوس میں ہونے والی سودے بازیوں میں بھی بروکر تھے ، جو سیاستدانوں کے جہازوں کے بھی ہمسفر تھے۔
یہ وہی لوگ ہیں جن کا خیال تھا کہ نشان چھین لینے سے ، کیمپین نہ کرنے سے ، عمران خان کو جیل میں ڈال دینے سے تحریک انصاف تیس چالیس تیس چالیس تیس چالیس۔ یہ وہی ہیں جن کا خیال تھا کہ اسحاق ڈار آئے گا معیشت چلائے گا۔ یہ وہی ہیں جن میں سے کسی کا پٹرول پمپ نکلتا ہے ، کسی کے لیے کسی ادارے کی چئیرمینی نکلتی ہے ، کسی کے لیے مراعات اور لاکھوں تنخواہ کی نوکری۔
یہ مری ہوئی لکیریں ہیں اب انہیں پیٹنے سے حاصل کچھ نہیں ، لیکن تاریخ کی درستی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا تب بھی ان سے طاقتور تھا لیکن اس میڈیا کی سانسیں چلتی تھیں۔ رجیم چینج اور اسکے بعد انکے زوال کو گئیر لگ گیا۔ رجیم چینج نا ہوتا تو یہ میڈیا پانچ سات سال مزید نکال جاتا۔
اب واپس پلٹتے ہیں ، دس اپریل ، یہ وہ دن تھا جب ابھی نااہلوں کے اس ٹولے نے ایک دن بھی اقتدار میں نہیں گزارا تھا ، ابھی انکے تباہ کن فیصلے بہت آگے تھے ، ابھی تو نئی حکومت آئی سٹاک مارکیٹ مستحکم ہوئی روپیہ اوپر گیا والی سوچ تھی اس کے باوجود لوگ عمران خان کے لیے بغیر کسی کال کے سڑکوں پر نکل آئے اور یہ سلسلہ پورا رمضان چلتا رہا۔ ہر روز لوگ مختلف شہروں میں نکلتے اور عمران خان سے اظہار یکجہتی کرتے۔
کچھ غلطیاں بھی ہوئیں ، کچھ کوتاہیاں بھی اور غلط سیاسی فیصلے بھی ، جن کو ماپنے کا ہر کسی کا پیمانہ اپنا اپنا جدا جدا ، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان کے سیاسی و معاشی فیصلے بھی بہترین تھے اور عمران خان کی سفارتی پالیسی بھی۔ عمران خان پونے چار سال اقتدار میں رہا۔ نااہلوں کے اس ٹولے کو اقتدار سنبھالے چار سال ہوچکے ہیں۔ وہ پونے چار سال کہاں اور یہ چار سال کی ذلت و رسوائی کہاں۔
میرے مرشد کی آج قیدِ تنہائی میں 1018ویں رات گزر رہی ہے
آج ہمارے مرشد کی ایک اور رات اڈیالہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزر رہی ہے
میرے مرشد، میرے رہبر، میرے محسن آج بھی اڈیالہ جیل کے سرد، اندھیرے، خاموش کمرے میں تنہا رات گزار رہے ہیں۔
یا ﷲ
تو جانتا ہے نا
میں نے اپنی قید کے ہر دن، ہر رات میں اپنے مرشد عمران احمد خان نیازی کے لیے دعا کی ہے۔
میں نے جیل کی تنہائی میں بیٹھ کر صرف ایک بات سوچی کہ میرا مرشد آج بھی ان سلاخوں کے پیچھے تنہا ہے۔
وہ شخص جس نے پوری قوم کے لیے آواز اٹھائی، آج خود انصاف کا منتظر ہے۔
ہم نے ہر درد میں بھی تیرے شکر کو نہیں چھوڑا۔
ہم نے ہر مشکل میں بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
میرے اللّٰہ…
قید کے ان دنوں نے مجھے یہ سکھایا ہے کہ ظلم صرف جسم کو قید کر سکتا ہے، ایمان کو نہیں۔
سلاخیں صرف ہاتھ روک سکتی ہیں، نظریہ نہیں۔
تنہائی صرف کمرے میں ہوتی ہے، اللّٰہ سے تعلق میں نہیں۔
84 دن میں نے اس احساس کے ساتھ گزارے کہ میرا مرشد 1000 سے زائد راتیں اسی تنہائی میں گزار رہا ہے۔
میں سوچتا تھا کہ آخر ایک انسان کتنی آزمائش برداشت کرے؟
کتنی خاموشی؟
کتنی تنہائی؟
کتنا انتظار؟
یا اللّٰہ…
تو بہتر جانتا ہے کہ تیرے بندوں پر کیا گزر رہی ہے۔
تو دیکھ رہا ہے کہ کیسے لوگ مرشد کے نام پر اپنے مفاد نکال رہے ہیں۔
کیسے سمجھوتے کیے جا رہے ہیں۔
کیسے خاموشیاں اختیار کی جا رہی ہیں۔
اور کیسے ایک سچے لیڈر کو تنہا چھوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
لیکن میرے اللّٰہ…
ہم آج بھی اپنے مرشد کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ہم آج بھی اسی محبت، اسی وفا اور اسی نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یا اللّٰہ…
جس طرح تو نے مجھے 84 دن بعد اپنے گھر والوں سے ملوایا،
اسی طرح میرے مرشد عمران احمد خان نیازی کو بھی جلد اپنی قوم کے درمیان واپس لے آ۔
میرے اللّٰہ…
مرشد کی ہر تکلیف کو آسان فرما۔
ان کی تنہائی کو اپنی رحمت سے بھر دے۔
ان کی صحت، ان کی آنکھوں، ان کی زندگی اور ان کی عزت کی حفاظت فرما۔
یا اللّٰہ…
تمام مرشد کے مریدوں کو بھی رہائی عطا فرما،
جو آج بھی جیلوں میں اپنے مرشد سے محبت کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
جو اپنے گھروں، اپنی ماؤں، اپنے بچوں اور اپنے اپنوں سے دور ہیں۔
میرے اللّٰہ اُن کی تنہائیوں کو آسان فرما، اُن کی ماؤں کے صبر کو سلامتی عطا فرما، اور اُن سب کو جلد آزادی نصیب فرما۔
یا اللّٰہ…
ہمیں مایوسی سے بچا لے۔
ہمیں حق پر ثابت قدم رکھ۔
اور ہمیں وہ دن جلد دکھا دے جب ہمارا مرشد آزاد ہو کر دوبارہ کہے:
“میرے پاکستانیوں…
میرے ﷲ ہماری تمام دعائیں قبول فرما
میرے اللّٰه غزہ اور فلسطین کے مسلمانوں کی نصرت اور مدد عطا فرما
یا اللّٰه میں تیری خدمت میں 1017 دنوں اور راتوں کی دعائیں اور آج رات کی دعاؤں کو پیش کرتا ہوں
قبولیت کا شرف عطا فرما
یا اللّٰه یا رحمن یا رحیم یا کریم
یا اللّٰه ہمارے مرشد کو اپنے حفظ و امان میں رکھ
یا اللّٰه ہمارے مرشد پہ اپنا خصوصی نظر و کرم کر دے
یا اللہ ہمارے مرشد عمران احمد خان نیازی کو صحت تندرستی عطا فرما
یا اللہ میرے مرشد عمران احمد خان نیازی کی آنکھوں کی حفاظت فرما
یا اللہ میرے مرشد عمران احمد خان نیازی کی بینائی کی حفاظت فرما
یا اللّٰه ہمارے مرشد کی زندگی میں برکت ڈال دے
یا اللّٰه ہمیں ہمارے مرشد کے منہ سے میرے پاکستانیوں دوبارہ سننے کی توفیق عطا فرما دے
یا اللّٰه ہمارے مرشد کے ایک ایک بال کی حفاظت فرما
یا اللّٰه ہمارے مرشد کو رہائی کا پروانہ عطا فرما دے
یا اللّٰه ہمارے مرشد کو اس زندان میں سرخرو کر دے
یا اللّٰه ہمارے مرشد کی عزت اور جان کی حفاظت فرما
یا اللّٰه ہمارے مرشد کو مزید عروج کی بلندی عطا فرما
یا اللّٰه ہمارے مرشد کو اس حقیقی آزادی کی جنگ میں غازی بنا دے
یا اللّٰه ہمارے مرشد کو فتح عطا فرما
یا اللّٰه ہمارے مرشد کو فاتح بنا دے
یاﷲ
ہماری ان ٹوٹی پھوٹی دعاؤں کو قبول فرما
وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلیٰ خَیْرِ خَلْقِہٖ سَیِّدِنَا وَ مَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓے اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَ بَارَکَ وَسَلَّمَ
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَاصَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيد
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَابَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيد
آمِينَ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ۔
(حیدر سعید)
"میں امریکہ سے پوچھتا ہوں کہ تم ہوتے کون ہو مجھے کہنے والے کہ میں روس نہ جاؤں؟
امریکی کارندہ سائفر میں کہتا ہے کہ عمران خان کو اقتدار سے ہٹا دو تو ہم پاکستان کو معاف کر دیں گے۔
ہمیں تمہاری معافی کی کوئی ضرورت نہیں "
پاکستان کا منتخب وزیراعظم، عمران خان
امریکہ کا ایک جریدہ امریکی سازش کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے اس سائفر کو سوشل میڈیا پر لیک کر چکا ہے جس کے نتیجے میں عمران خان حکومت گرائی گئی تھی۔
واہ میرے مالک، تو بڑا بےنیاز ہے۔ بےگناہ عمران خان جیل میں قید ہے اور اس بےگناہ قیدی کی بےگناہی کے ثبوت قدرت خود دے رہی ہے۔ 👌
یہ سیدھا سیدھا جنرل باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی پر آرٹیکل 6 کے اطلاق بنتاہے!
عمران خان کا ایک ایک لفظ سچا ثابت ہوا۔
پہلے یہ کہتے رہے کوئی سائفر نہیں آیا، پھر کہتے ہیں آیا ڈیمارش کیا آج قدرت نے انھیں ایک بار پھر دنیا کے سامنے جھوٹا ثابت کر دیا۔ آج مہر لگ گئی یہی میر جعفر کا کردار ادا کرتے رہے اپنے ملک کے وزیراعظم کے خلاف ۔
آل ورلڈ یوتھیا ایسوسی ایشن کی جانب سے پنکی ڈرگ ڈیلر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو ایک عورت ہو کر بھی دورانِ تفتیش ڈٹی رہی اور جھوٹا بیان ریکارڈ نہیں کروایا، جبکہ یہاں تو خود کو “لمبر ون فوج” کہنے والوں کا حال یہ ہے کہ اپنے سے طاقتور دشمن دیکھتے ساتھ ہی پتلونیں اتار کر سرنڈر کر دیتے ہیں اور آدھا ملک گنوا بیٹھتے ہیں۔