دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ راولاکوٹ کے حالات نے ہر کشمیری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ لوگ پہلے ہی ایک شہید کی لاش کے ساتھ انصاف کے مطالبے کے لیے بیٹھے ہوئے تھے، مگر پھر حالات مزید خراب ہو گئے۔ گولیاں چلیں، لوگ زخمی ہوئے، کئی خاندانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔
لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ان کا قصور کیا ہے؟ اگر کوئی اپنے حق، انصاف اور بہتر زندگی کی بات کرے تو کیا اس کا جواب گولی ہے؟ کیا اپنی آواز بلند کرنا جرم ہے؟
آخر کب تک عام لوگ اس کشمکش اور بے چینی کا شکار رہیں گے؟ کب تک ماؤں کی گودیں اجڑتی رہیں گی؟ کب تک بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ تکتی رہیں گی؟ اور کب تک عوام کے درد کو نظر انداز کیا جاتا رہے گا؟
ایسا ظلم جس کی مثال شاید دنیا کے بدترین خطوں میں بھی نہ ملے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غزہ میں اپنوں اور بیگانوں نے مظالم کی داستانیں رقم کیں، لیکن آج یہاں اپنوں کے ہاتھوں اپنوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ کلمہ گو، مسلمان کہلانے والے ہی آج مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں؟
۔ قانون اور فورسز، جن کا کام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا تھا، آج انہی کے خلاف صف آراء دکھائی دیتے ہیں۔ دل یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہے کہ آخر ان فورسز کو اپنے ہی لوگوں کا خون بہانے کا حکم کون دے رہا ہے؟ وہ کون سے چہرے ہیں جو پردے کے پیچھے بیٹھ کر اس ظلم کی ڈوریاں ہلا رہے ہیں؟
یہاں سب سے بڑا جرم سچ بولنا بن چکا ہے۔ جو کوئی بھی مظلوم کے حق میں، سچائی اور انصاف کے لیے آواز اٹھاتا ہے، اسے خاموش کر دیا جاتا ہے۔ حق کی آواز اٹھانے والے کا مقدر یا تو گمنام سلاخیں بنتی ہیں، یا پھر اس کی لاش بھی اپنوں کو نصیب نہیں ہوتی۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کی رات جتنی بھی لمبی ہو، کبھی دائمی نہیں ہوتی، اور ناحق بہنے والے خون کا ایک ایک قطرہ ایک دن حساب ضرور مانگتا ہے۔
آج عوام جس بے حسی، ظلم اور پروپیگنڈے کا سامنا کر رہے ہیں، اس نے ہر ذی شعور انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ صورتحال اس قدر بھیانک اور غیر متوقع ہو چکی ہے کہ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ عام شہریوں پر یہ وحشیانہ تشدد کرنے والے آخر ہیں کون؟ کیا یہ اپنے ہیں یا کہیں باہر (اسرائیل یا بھارت) سے بھیجی گئی کوئی بیرونی قوتیں ہیں جنہیں عوام پر مسلط کر دیا گیا ہے؟ کیونکہ کوئی بھی اپنوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر سکتا۔
اس پورے بحران میں سب سے زیادہ افسوسناک کردار حکمرانوں اور میڈیا کا ہے۔ عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کے بجائے حکمران کہیں منظرِ عام سے غائب ہیں، اور میڈیا حقائق دکھانے کے بجائے دن رات جھوٹی رپورٹنگ اور پروپیگنڈے میں مصروف ہے۔ سچ کو چھپایا جا رہا ہے اور مظلوم کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں۔
سب سے بڑا دھچکا اور المیہ یہ ہے کہ وہ قیادت اور فورسز، جن کا تذکرہ کچھ دن پہلے تک دنیا بھر میں امن قائم کرنے اور بڑی جنگیں رکوانے کے حوالے سے فخر سے کیا جا رہا تھا، آج وہی طاقتیں اپنوں اور خاص طور پر کشمیریوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں۔ فورسز بھیج کر مظلوموں کا سرِعام قتلِ عام کروایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں نفرتوں میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ پالیسیاں ملک کو مضبوط کرنے کے بجائے مزید کمزور کر رہی ہیں۔
آج انصاف کے ترازو الٹے ہو چکے ہیں۔ وہ عام عوام جو صرف اپنے بنیادی حقوق، روٹی، کپڑے، مکان اور امن کی بات کرتی ہے، اسے پلک جھپکتے میں "دہشت گرد" اور "غدار" قرار دے دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف، جو لوگ سرِعام قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، گولیوں کی بوچھاڑ کر رہے ہیں اور معصوموں کا خون بہا رہے ہیں، انہیں "محافظ" کا لقب دیا جاتا ہے۔
عوام کے دلوں سے آج یہ سوال چیخ چیخ کر نکل رہا ہے: کیا ایسے ہوتے ہیں محافظ؟ کیا محافظوں کا کام اپنے ہی لوگوں کے خون سے ہولی کھیلنا ہوتا ہے؟ جب محافظ ہی جارح بن جائیں، تو پھر عوام کس سے انصاف کی امید رکھیں؟
ہم تمام شہداء کے لیے مغفرت، زخمیوں کے لیے جلد صحت یابی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کشمیر پر اپنا رحم فرمائے، امن و سکون عطا کرے اور حق و انصاف کی راہیں آسان فرمائے_آمین 🤲🏻
Kim Jong Un says:
North Korea demands the release of Imran Khan, and we tell the Pakistani people frankly that the United States is the one that ordered his detention. We say to the Pakistani government: enough—release him immediately, for the United States is Pakistan’s primary enemy.
زمانہ طالب علمی سے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے عام آدمی پر اثرات اور ریاست کے دوغلے کردار پر لکھنا شروع کیا۔ تفصیل میں جائے بغیر، نومبر ۲۰۲۵ میں پرننٹنگ کے لیے روابط کا آغاز کیا تاہم ہر جگہ سے انکار ہوا۔ بلآخر ایک دوست جو اس وقت خود بھی مشکلات کا شکار ہیں نے مدد پر آمادگی ظاہر کی اور بہت تگ و دو کے بعد تقریباً پانچ ماہ کی مکمل رازداری میں کی محنت سے یہ پراسس مکمل ہوا۔ میرے لیے یہ انتظار نہایت تکلیف دہ تھا کیونکہ میرا مقصد ملک کو ایک اور جنگ میں دھکیلنے والوں کے خلاف بروقت تنبیہہ کرکے مزید جنازے روکنا تھا جس کا حتمی آغاز ضلع خیبر کے علاقے تیرہ سے ہونے جارہا تھا۔ تین سال پہلے جس جنگ کی پیشنگوئی کی تھی آج وہ شروع ہوچکی ہے۔ آج اگر ان حالات میں بھی مالاکنڈ نسبتاً پرامن ہے تو الحمدللہ ہماری بروقت امن تحریک اس کا وسیلہ بنی۔آپ کہیں گے پرانی باتیں نہ دہراؤ مگر جب مجھے روپوش ہونا پڑا تو درخواست کی کہ اب اس تحریک کا بیڑہ آپ اٹھائیں اپنے لوگوں کی آواز بنیں۔ آج جب افغانستان کے ساتھ جنگ چھیڑ دی گئی ہے تو میں یاد دلاؤں گا کہ میں نے کہا تھا کہ آپ کی دہلیز تک ایک اور جنگ لائی جارہی ہے اور آپ کی لاشوں پر بیانیے بنیں گے۔
اللہ کے حکم سے اپنے کارکنان کے ساتھ مل کر خان صاحب کی گرفتاری کی پہلی کوشش کی ناکامی سے لے کر کتنی مرتبہ وارن کیا ہے کہ پاکستانیو! اپنا فیصلہ کرو آپ نے مرسی کا مصر بننا ہے یا اردگان کا ترکی؟ آپ نے عمران خان کی زندگی پر ہونے والی ہر اٹیمپٹ کی ناکامی کے بعد تالیاں پیٹ کر میری واہ واہ تو کرلی۔ داد تو دے دی۔ میری بات کو کتنی سنجیدگی سے لیا؟ عمران خان کی زندگی کو لاحق خطرات تین ماہ پہلے سے نہیں ہیں، تین سالوں سے اس منصوبے پر کام ہورہا ہے۔ یہ میں پہلی دفعہ نہیں بتا رہا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت آئی آپ کبھی ایک کے کبھی دوسرے کے بیانات پر شادیانے بجاتے رہے میں نے نہیں جھنجھوڑا کہ عمران خان بین الاقومی طاقتوں کے مفادات کی راہ میں کھڑا ہے؟ ان کی لفظی کاروائیوں پر نہ جائیں، عمران خان ان کے منصوبوں میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ رجیم چینج آپریشن میں شامل کردار اپنی طاقت کو طول دینے کے لیے سب داؤ پر لگانے کو تیار ہیں، اور آپ نے دیکھا سب داؤ پر لگا بیٹھے ہیں۔
نومبر ۲۰۲۴ میں ڈی چوک میں سامنے سے گولیاں سے ماری گئیں، اکتوبر ۲۰۲۵ میں مریدکے میں قتلِ عام ہوا یہ معمولی واقعات تو نہیں تھے لیکن دیدہ دلیری سے ہوئے کیونکہ بین الاقوامی ایجنڈے پر عمل درآمد کے بدلے مکمل چشم پوشی کی کمٹمنٹ ہوئی تھی۔
اسرائیل کے حوالے سے پالیسی پر آپ کو بارہا بتایا۔ کسی نے تعریف کی کسی نے تنقید کی، کسی نے جلی کٹی سنائیں۔ کسی نے اپنے گریباں میں جھانکے بغیر دشنام طرازی کی۔ رُک کے غور شاید ہی کسی نے کیا۔
نومبر ۲۰۲۵ میں واضح ہوگیا کہ گھر کی دہلیز تک ایندھن پہنچا تو پہلے دیا گیا تھا، اب آگ بھڑکائی جانی تھی۔ تیرہ سے آپریشن کے آغاز کا ارادہ ہوچکا تھا۔ افغانستان کے ساتھ جنگ کی راہ ہموار کی جارہی تھی۔ نظریاتی سرحدوں کا سودا الگ ہورہا تھا۔
یہاں یہ بھی یاد دلا دوں کہ جب مجھ جیسے آباد علاقوں کے پختونوں کو آپریشن کی ہولناکیوں کا اندازہ بھی نہیں تھا عمران خان اس وقت اپنے لوگوں کو پرائی جنگ میں جھونکنے کے خلاف اٹھنے والی اکلوتی آواز تھا۔ یہ مشن میرے لیڈر کا تھا۔ ابسولوٹلی ناٹ کا فیصلہ میرے لیڈر کا تھا، کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی بیرونی طاقت کے مفادات کے لیے کسی ہمسایے کے خلاف نہیں استعمال ہوگی۔
میں نے صرف ان عناصر سے پردہ اٹھایا ہے جنہیں عمران خان کے اس کردار سے تکلیف تھی۔ جو ان کے موقف کے سبب ان کی جان کے درپے ہیں۔ جوں جوں بین الاقوامی قوتوں کی فرمان برداری اور غلامی میں انکے ساتھ کمٹمنٹس پورے ہو رہے ہیں یوں یوں عمران خان کی زندگی کو خطرہ بڑھ رہا ہے۔ یوں یوں پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ رہا ہے۔ میرا کام وارن کرنا تھا میں نے کردیا، ایک مرتبہ پھر۔ فیصلہ کل بھی آپ کو کرنا تھا، فیصلہ آج بھی آپ کو کرنا ہے۔
۱/۲