“مسلح نقاب پوش دن دیہاڑے فائرنگ کرکے صوبائی وزراء کو اغواء کررہے ہیں۔ یہ ہمارے صوبے کے اداروں پر سوالیہ نشان ہے۔ وفاق اور ایجنسیوں کے اوپر سپاٹ آرہا ہے۔ صوبے کی پولیس کہاں سوئی ہوئی تھی؟”
اسپیکر خیبرپختونخوا اس��بلی بابر سلیم سواتی کا اسمبلی اجلاس سے خطاب
میں اپنے ساتھی وزیر، عبدالشکور خان کے مبینہ طور پر نامعلوم افراد کی جانب سے اٹھائے جانے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں!!
ایک صوبے کے وزیر کو اس طرح اغواء کرانا انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت واقعہ ہے۔
یہ اقدام نہ صرف آئین و قانون کی بالادستی بلکہ جمہوری اقدار، بنیادی شہری آزادیوں اور عوام کے دیے گئے مینڈیٹ پر بھی براہِ راست حملہ ہے۔
کسی منتخب عوامی نمائندے کو اس طرح حراست میں لینا جمہوری نظام اور قانون کی حکمرانی کے لیے سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔
ایک خاتون چیف جسٹس کے ہوتے ہوئے پنجاب میں خواتین کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے، اور چادر چار دیواری کا تقدس بغیر کسی ڈر اور خوف کے پامال کیا جا رہا ہے وہ ��نتہائی شرمناک اور ہماری روایات کے منافی ہے۔
آج صبح ایک بار پھر علیمہ خان کو جس انداز میں اغوا کیا گیا اور 3MPO کے تحت جیل منتقل کیا گیا، یہ بدترین سیاسی انتقام کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
اگر اختلاف عمران خان سے ہے تو مقابلہ بھی عمران خان کے نظریے اور سیاست سے کریں۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، اور خاندان کی خواتین کو نشانہ بنانا کون سی سیاست، کون سا قانون اور کون سی اخلاقیات ہیں؟
ہماری مذہبی یا معاشرتی روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے، جیسا کہ موجودہ دور میں کیا جا رہا ہے۔ خواتین کو ہراساں کر کے، اغوا اور گرفتار کر کے اور خاندانوں کو دباؤ کا ذریعہ بنا کر نظریے کو شکست نہیں دی جا سکتی۔
خیبر پختونخواہ میں ایک اور واردات!
خوشحال گڑھ کے مقام پر 230 سے زیادہ دن سے موجود دھرنے پر مسلح نامعلوم افراد کا دھاوا۔ سارے سامان کو آگ لگا دی۔ موجود ورکرز کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور ویگو ڈالوں پر سوار ہو کر فرار ہو گئے۔
Forwarded as Received والے سام��ے آئیں اب۔
بلی تھیلے سے باہر آہی گئی،
گزشتہ شام صوبائی وزیر شکیل خان کو اغواء کی کوشش کرنے والے لیویز نہیں بلکہ حساس ادارے والے تھے
ملاکنڈ بٹخیلہ فائرنگ واقعہ
صوبائی وزیرشکیل خان کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی باجوڑ ریجن ملاکنڈ میں حساس ادارے کے اہلکاروں پر فائرنگ کے الزام میں مقدمہ درج
*پاکستان تحریک انصاف کے ارکانِ پارلیمنٹ کی گرفتاریاں قابلِ مذمت، حکومت سیاسی انتقام سے باز آئے، پاکستان تحریک انصاف*
اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے منتخب ارکانِ پارلیمنٹ کی گرفتاری آئین، جمہوری اقدار اور پارلیمانی روایات پر ایک اور سنگین حملہ ہے۔
رکنِ قومی اسمبلی ثناء اللہ خان مستی خیل�� داور خان کنڈی، احسن جمال خان، میاں غوث، عادل خان بازئی اور ایم پی اے چترال فتح الملک کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ منتخب نمائندوں کو پارلیمنٹ لاجز اور قومی اسمبلی کے باہر سے گرفتار کرنا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔
تحریک انصاف واضح کرتی ہے کہ منتخب اراکینِ پارلیمنٹ کو گرفتار کرکے نہ عوام کی آواز دبائی جا سکتی ہے اور نہ ہی آئینی و جمہوری جدوجہد کو روکا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ عوام کے مینڈیٹ کی علامت ہے، اسے سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں کا مرکز بنانا جمہوری نظام کے لیے انتہائی خطرناک رجحان ہے۔
حکومت اگر یہ سمجھتی ہے کہ گرفتاریوں، چھاپوں، دھمکیوں اور مقدمات کے ذریعے تحریک انصاف کو عوام سے دور کیا جا سکتا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ ایسے اقدامات سیاسی کشیدگی میں کمی کے بجائے مزید اضافہ کریں گے۔
تحریک انصاف مطالبہ کرتی ہے کہ گرفتار تمام ارکانِ پارلیمنٹ کو فوری ��ور پر رہا کیا جائے، ان کے اہلِ خانہ اور وکلاء کو ان تک رسائی دی جائے اور اگر کسی کے خلاف کوئی قانونی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔
ریاستی اداروں کو سیاسی معاملات میں طاقت کے استعمال کے بجائے آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوگا۔ تحریک انصاف اپنے آئینی، جمہوری اور پرامن سیاسی حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگی۔
منجانب: مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ، پاکستان تحریک انصاف
پاکستان تحریکِ انصاف کی حقیقی آزادی کی جدوجہد میں صرف 100 روپے عطیہ کر کے اپنا حصہ ڈالیں۔
آپ اپنے عطیات MCB بینک (اکاؤنٹ نمبر: 1208326601008525) یا جاز کیش ایپ کے Donations سیکشن کے ذریعے آسانی سے منتقل کر سکتے ہیں۔
”علیمہ خان گرفتار
شایان گرفتار
ایم این اے جمال احسن خان گرفتار
ایم این اے میاں غوث گرفتار
حسان نیازی کی بہن اور بہنوئی گرفتار
شکیل خان پر فائرنگ اور اغواء کرنے کی کوشش
پچھلے 3 گھنٹوں میں یہ سب ہوا، پھر بھی لیبل لگتا ہے کہ تحریک انصاف والے انتشاری ہیں “
Via @Zafaro07_
علی اصغر خان
پاکستان تحریکِ انصاف، صوبائی جنرل سیکرٹری، خیبر پختونخوا:
صوبائی وزیر شکیل خان کی گاڑی کا مسلح سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے تقریباً چار گھنٹے تک تعاقب کیا، پھر راستہ روکنے کی کوشش کی، اسلحہ نکالا اور ہوائی فائرنگ کی۔ شکیل خان اور ان کے ساتھیوں نے اپنی جان کے تحفظ میں ردِعمل دیا۔
تمام حالات سے یہی تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور انہیں زبردستی اغوا کرنا تھا۔
یہ معاملہ اس لیے مزید سنگین ہے کہ شکیل خان ایک صوبائی وزیر، کابینہ اور حکومت کا حصہ اور عوام کے منتخب نمائندے ہیں۔ جب مسلح افراد سادہ کپڑوں میں اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر اس انداز میں سامنے آئیں تو یہ کیسے معلوم ہو کہ وہ ریاستی اہلکار ہیں، جرائم پیشہ عناصر یا دہشت گرد؟
27 ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل ایسے اقدامات کشیدگی اور عوامی اشتعال میں اضافہ کرتے ہیں۔
ایسے اقدامات سے پارٹی نہ خوفزدہ ہوگی اور نہ اپنے سیاسی و آئینی مؤقف سے پیچھے ہٹے گی، بلکہ اپنے حقوق کے ��یے پرامن اور آئینی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم مزید مضبوط ہوگا۔
ہمارا واضح مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ملوث افراد اور انہیں احکامات دینے والوں کی شناخت سامنے لائی جائے، اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
PTI Virtual Jalsa on Thursday September 24th at 8pm Pakistan Time.
Asim Munir & his team are abducting people on the ground, now they will probably make Pakistan suffer by slowing the Internet at the time of Virtual Jalsa. What if this Jalsa goes on for days?
#PTIVirtualJalsa
“میں “لا الہ الا اللہ” کا ماننے والا ہوں۔ یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کے خوف اور غلامی سے آزادی دیتا ہے- میری زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے عاصم منیر کے ہاتھ میں نہیں۔ ہمارا ایمان ہی ہماری ”حقیقی آزادی“ کا ضامن ہے، کیونکہ یہ کلمہ انسان کو خوف کی زنجیریں توڑنے کی قوت فراہم کرتا ہے”۔
سابق وزیراعظم عمران خان
(8 ستمبر 2025)
Former Prime Minister Imran Khan remains arbitrarily detained, and now, the political crackdown has escalated to family members: his sister Aleema Khan was taken into custody in Lahore by Pakistan's military regime under preventive detention laws (MPO) to suppress advocacy ahead of planned peaceful demonstrations.
The deployment of state power to silence political opponents and their families represents the historically worst form of fascism in the country and is becoming a norm under #AsimLaw