راولپنڈی کے تھانہ پیرودھائی کے علاقے خیابان سر سید کی ملحقہ آبادی "ڈھوک نجو" سے لاپتہ ہونے والی پندرہ سالہ میمونہ جو ساتویں جماعت کی طالبہ تھی, اس کی نعش اسکے خالو کے گھر سے برآمد ہونے سے پہلے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی-
خالو مبینہ طور پر بچی کو گلی میں روک کر بات چیت کرتے دیکھا جاسکتا ہے- پولیس نے اغوا کے مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 بھی شامل کرلی گئی جبکہ مبینہ ملزم کی گرفتاری کے لیئے چارسدہ اور ایبٹ آباد سمیت مختلف مقامات پر چھاپے مارے جارہے ہیں-
ڈھوک نجو (راولپنڈی) سے لاپتہ ہونے والی پندرہ سالہ میمونہ کی گمشدگی کا معاملہ اس وقت سنگین ہوگیا جب بچی کی لاش اگلے ہی دن اس کے خالو کے گھر سے برآمد ہوئی- سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں سبز اور سفید لباس میں ملبوس بچی کو گلی سے گزرتے دیکھا جاسکتا ہے-
��سی دوران ایک شخص، جسے اہل خانہ مبینہ طور پر بچی کا خالو قرار دے رہے ہیں، بچی کو روکتا اور اس سے کچھ دیر بات کرتا دکھائی دیتا ہے-فوٹیج میں بظاہر وہ شخص بچی کو کچھ دیتا ہے، جس کے بعد بچی اپنا راستہ تبدیل کرکے واپس مڑ جاتی ہے اور مزکورہ شخص بھی دوسری سمت مڑ جاتا ہے-
سی سی ٹی وی فوٹیج سے پیدا ہونے والے شبہات کی بنیاد پر ہی پولیس اور اہل خانہ نے بچی کے خالو کے گھر کو چیک کیا تاہم گھر پر تالا لگا ہوا تھا-
پولیس نے اہل خانہ اور علاقہ مکینوں کی موجودگی میں تالا توڑا تو گھر کے اندر چارپائی کے نیچے سے بچی کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی تھی جس کو تحویل میں لے کر شواہد اکٹھے کیئے گئے اور پوسٹ مارٹم کے لیئے اسپتال منتقل کردیا گیا- ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے ساتھ جنسی زیادتی ثابت ہو گئی تاہم موت کی اصل وجہ حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئے گی-
پولیس کے مطابق ڈھوک نجو کے رہائشی محمد فیصل نے اپنی بیٹی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی تھی کہ میمونہ چھ اکتوبر کو مدرسے کے لیئے گئی، تاہم واپس نہ آئی، جس پر اسی دن بچی کے اغوا کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا-
لاش ملنے کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 شامل کردی گئی ہے- پولیس حکام کا کہنا تھا کہ مبینہ ملزم کی گرفتاری کے لیئے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جارہے ہیں-
یہ ایک ریستوراں ہے, ریستوراں کی بڑی سی کھڑکی کے سامنے ایک شخص کھڑا کسی دوسرے شخص سے باتوں میں مصروف ہے اور کن اکھیوں سے ریستوراں میں موجود خواتین کو تاڑ رہا ہے خیر ہے بڑے شہروں میں باہر سے آئے ہوئے یا شہر کے مضافاتی علاقوں میں رہنے والوں کے ایسے رویے اکثر مشاہدے میں آ ہی جاتے ہیں، پر یہ کیا ذہنی خلش ہے کہ بیچ سڑک پر کھڑے اپنی قمیض کا دامن اٹھا کر اپنے ناڑے کی نمائش کروانا اور فوطوں کو دبانا چہ معنی دارد۔۔۔
زمین پھٹی نہ آسمان گرا
ایک بوڑھا شیطان کا پجاری دکاندار معصوم بچی کو مٹھائی کا لالچ دے کر دکان اندر بلا کر اس سے نازیبا حرکات کر رہا ہے
https://t.co/uY8RqI2E3D
ڈی ایچ اے فیز 1 لاہور کی مین روڈ پر یہ کیا تماشا لگا ہوا ہے؟
میں اکثر اس روڈ سے گزرتا ہوں اور اس روڈ پر یہی ڈرامہ چل رہا ہوتا ہے۔ روز کا معمول بن چکا ہے کہ یہاں لوگ جمع ہوتے ہیں اور کھلے عام غیر اخلاقی اور نامناسب حرکتیں کرتے ہیں۔ کبھی دو تین لوگ ہوتے ہیں تو کبھی دیکھو تو درجنوں کا جمگھٹ لگا ہوتا ہے۔
حد تو یہ ہے کہ گاڑی سے گزرتے ہوئے اگر کوئی شیشہ نیچے کرے تو آگے سے بدتمیزی اور گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں۔ خوف نام کی کوئی چیز نہیں رہی، نہ ڈی ایچ اے سیکورٹی کو کوئی پروا ہے اور نہ ہی پولیس کوئی ایکشن لیتی ہے۔
آخر شریف شہری اور ان کے گھر والے ایسے ماحول میں کیسے سفر کری��؟ اعلیٰ حکام، پنجاب پولیس اور ڈی ایچ اے انتظامیہ کو فوراً جاگنا ہوگا اور اس کا مستقل حل نکالنا ہوگا اس سے پہلے کہ حالات اور خراب ہوں۔
#DHALahore #LahoreNews
جب حرام زادے حکومتوں پہ قبضہ کر کے بیٹھ جائیں ذلت کے تمغے یونیفارم پہ سجا کر انسانی اخلاقی اقدار کو پامال کرتے جائیں دوسرے کی منکوحہ پہ قبضہ کر لیں تو اس قسم کے واقعات کا ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں
ڈوبتا پنجاب
آمریت کے آفٹر شاکس