ظلم کی انتہا کیا ہوگی کہ حکومت لاشیں غائب کرنا شروع ہوگئی۔ صبح میرا ایک دوست پولی کلینک ہسپتال میں اپنے گاؤں کے بندے کی لاش پہچان کر آیا تھا۔ ہسپتال والوں نے کہا کہ وارثان کو بلاؤ۔ جنوبی پنجاب سے وارثان پہنچے ہیں تو لاش غائب ہے، اور ہسپتال انکاری ہے کہ ان کے پاس کوئی لاش تھی ہی نہیں۔ گلباز مشتاق
@gulbazmushtaq #IslamabadMassacre
https://t.co/sKo1cl2p6D
#قومی_مطالبہ_خان_کی_رہائی
ہمارے موجودہ صورتحال ایسی ہی ہے جیسے انگریزی میں “It was the best of times, it was the worst of times” کہتے ہیں۔ مقابل اپنی آخری آخری چالیں چل رہا ہے، سائفر سے جس تنزلی کے سفر کا آغاز کیا تھا؛ عدت جیسے بیہودہ کیس میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے قائد کو قید رکھ کر مقتدرہ اپنی قبر کھود چکی ہے۔ اُس کی ساری امیدیں اب آپ سے وابستہ ہیں۔ آپ ہی ہیں جو اُس کے مردہ وجود کو جینے کا سہارہ دے سکتے ہیں۔ It is the worst of times کیونکہ ہر شا��ر دشمن کا بدترین وار اندرونی ہوتا ہے، وہ خدشے، وسوسے، اندیشے اور بدگمانیاں ڈال کر آپ کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتا ہے۔ آپ کی صفوں میں مایوسی پھیلاتا ہے۔ آپ کو تقسیم کرتا ہے۔ مگر it is the best of times کیونکہ وہ صرف آپ کے ردعمل پر اپنی ساری امیدیں لگائے بیٹھا ہے۔ اُس کے پاس مزید کوئی داؤ نہیں ہے۔ عمران خان نے ہمیں ۱۴-۱۵ مارچ کو بھی اپنی ڈھال بننے کو نہیں کہا تھا۔ ۱۸ مارچ کو بھی یہ عمران خان کا حکم نہیں تھا کہ قوم گولیوں کے سامنے کھڑی ہو۔ نہ ۹ مئی کو عمران خان نے احتجاج کی کال دی تھی۔ ہر مرتبہ اُس کی قوم اُس کا کارکن خود نکلا تھا۔ تو کیا ۵ اگست کو عمران خان کی گرفتاری اُس کی قوم کی ناکامی تھی؟ کیا عمران خان کا کارکن لڑ لڑ کر تھک گیا تھا جو اُس نے روزِ روشن کی طرح عیاں بدنیتی کے باوج��د عمران خان کو ایک بوگس کیس میں گرفتار ہونے دیا؟ نہیں! عمران خان کا کارکن تھکا ہوتا، اُس کی قوم نے ہار مانی ہوتی تو ہماری سامنے ۸ فروری نہ ہوتا۔ نشان چھن گیا، ۱۰۰ اور یاد کرلیے۔ امیدوار اٹھا لیا، ۱۰ اور کھڑے ہوگئے۔ پولنگ والے دن عوام نے جو ��نگ لڑی تاریخ کی کتابوں میں تحریر ہوگی۔ ۹ اپریل ۲۰۲۲ اے لے کر آج دن تک کیا کیا نہیں سہا ہم نے تو کیا چار دن اور گولیوں کے سامنے کھڑے نہیں ہوسکتے تھے؟ آج عمران خان ہمارے درمیان ہوتا۔۔ عمران خان کی گرفتاری وہ کڑوی گولی تھی جو ہم نے اپنے کپتان کے حکم پر اُس کے ہم پر لاگو کیے ڈسپلن کے سبب نگلی۔ آپ کو کیا لگتا ہے سردی گرمی میں بنی گالہ سے لے کر زمان پارک تک جو لوگ عمران خان کے لیے کیمپوں میں پڑے رہے تھے۔ جنہوں نے ریاست کی بدترین فسطائیت کا مقابلہ کیا۔ ۱۸ مارچ کے حالات تو آپ کی آنکھوں کے سامنے تھے، ۱۵ مارچ کی صبح ایک موقع ایسا آیا تھا جب پولیس زمان پارک کا گیٹ توڑ رہی تھی اور ہم اندر بمشکل ۳۰-۴۰ بندہ رہ گئے تھے۔ ان کے پاس تازہ دم فورس تھی، شیل تھے، اسلحہ تھا، ہمارے پاس اپنے سروں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ تب خان صاحب نے باہر آکر ہمیں سمجھایا تھا کہ میں گرفتاری دے دیتا ہوں۔ لڑکوں نے کہا ہم مرجائیں تو بے شک دے دیں۔ ��یا ایسے لوگ ۹ مئی کے بعد زمان پارک سے اپنی جان بچانے چلے گئے تھے؟ نہیں جب تک خان صاحب روک نہیں رہے تھے ہم نے اُن کے کہنے کا انتظار نہیں کیا۔ مگر جب وہ جان گئے کہ یہ ہوس اقتدار میں اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ یہ اپنی طاقت کو دوام دینے کے لیے اپنے ملک کو خاکستر کرنے سے بھی گریز نہ کریں گے اور اُن کی جانب سے باقاعدہ تاکید کی گئی پیچھے ہٹنے کی تب ہم پر واجب تھا کہ ہم لیڈر کا حکم مانتے۔ یہ جو لیڈر شپ ایک سال اپنے گھروں سے، اپنے والدین اپنے بچوں سے دور رہی۔ جن کے گھر توڑے گئے، جن کی خواتین کو ہراساں کیا گیا، اس ملک میں قانون نامی کسی چیز کا شائبہ بھی ہوتا تو خدا کی قسم جیل اس دربدری سے کہیں بہتر رہتی۔ ہفتے میں ایک بار کسی اپنے کی شکل دکھائی دے جاتی۔ دن میں ایک بار سہی آسمان تو دیکھنے کو ملتا ہوگا۔۔ تو کیا لگتا ہے یہ سب پارلیمان کی سیٹ اور ایم این اے بننے کے لیے سہا تھا؟ یا پارٹی عہدوں کے لیے؟ کیا لگتا ہے آج عمران خان باہر ہوتا تو یہ ”موقع پرست“ محض ایم این اے ہوتے یا اس کی کابینہ میں وزیر مشیر ہوتے؟ کون سی پوزیشن ذیادہ بہتر ہے؟ اس ایک سال میں میں ذاتی طور پر خان صاحب سے درجنوں مرتبہ اجازت مانگ چکا ہوں۔ جب اور جتنی اجازت ملی ہے اس حد تک کیا ہے۔ جہاں انہوں نے رُکنے کی تاکید کی ہے۔ میں رُکا ہوں، دل پر جبر کرکے رُکا ہوں کیونکہ وہ میرا لیڈر ہے۔وہ میرے سامنے ہوتا میں اُس کی سٹریٹجی پر اُس سے بحث کرتا، اپنی رائے دیتا۔ فیصلے کا اختیار اُسی کا تھا، اُسی کا رہے گا۔ میں پھر کہتا ہوں it is the best of times یہ آخری چال ہے، مشاہدہ کریں، تبصرہ کریں، بحث کریں کھل کر سب سامنے آنے دیں۔ لیکن اپنا فوکس مت تبدیل کریں نہ کسی کو کرنے دیں۔ عمران خان جیل میں اپنی پارٹی کی وجہ سے نہیں ہے۔ عمران خان جیل میں اس بدبودار، تعفن زدہ نظام کی وجہ سے جہاں عوام تو عوام جج تک انصاف کے دروازے سے مایوس لوٹ رہے ہیں۔ جہاں اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا غداری ہے اور فرض کی بابت سوال کرنا بغاوت۔ جہاں اپنے ملک کی خودمختاری کا علم اٹھانا ننگی تلوار پر چلنے برابر کردیا گیا ہے۔ عمران خان جیل سے اُس دن نکلے گا، جب ہم اپنے اتحاد سے اس متعفن لاش پر مٹی ڈالیں گے نہ کہ اپنے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبانوں پر ڈال کر اُس کو سانس لینے کا موقع فراہم کرکے۔ ایسا کرنا عمران خان سے اصل غداری ہوگی۔
صدر زرداری سے ایران پاک گیس پائپ لائن پر چبھتے ہوئے چند سوالات۔۔
صدر زرداری نے ہی 2009/10 میں یہ معاہدہ ایران ساتھ کیا تھا۔
ایک تو پوچھنا یہ بھی تھا ان چودہ برس پہلے صدر زرداری کے اس متنازعہ کنڑیکٹ کا فائدہ پاکستان کو ہوا یا ایران کو جو اب 17 ارب ڈالرز جرمانے کا بل بھی تیار کیے بیٹھا ہے ؟
پوچھنا تو یہ بھی تھا ایران پاک گیس پائپ لائن بچھانے کے نام پر جو بھاری ٹیکس لگا کر پاکستانی عوام سے ان برسوں میں جو 800 سو ارب روپے اکھٹے کیے گئے تھے وہ کہاں گئے۔ان کا کیا بنا؟
اندھیر نگری چوپٹ راج ۔۔
@NeoNewsUR
سندھ کی بدقسمتی دیکھیں، فریال ٹالپر کے ذاتی نوکر اور ماضی کے دھوبی اور موٹروے کرپشن کیس کے مرکزی ملزم ضیاء لنجار کہاں سے کہاں پنہچ گیا۔۔ آج فوجیوں سمیت دیگر اعلی افسران ان کے سامنے بیٹھ کر فیصلے کر رہے ہیں۔ کل کوئی کھوتا بھی آجائے تو اس کے سامنے سب ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجائیں گے۔۔ یہ ظلم ہے ہمارے سندھ کے ساتھ۔۔ ٹکے ٹکے کے لوگ کن کن کرسیوں پر پنہچ گئے ہیں۔۔
یہ رہا ثبوت ۔۔۔۔
یاسمین راشد نواز شریف سے 30 ہزار کی لیڈ سے جیتیں ۔۔۔ جماعت اسلامی کے امیدوار نے فارم 45 میڈیا کو دکھا دیا۔۔۔۔۔۔ اب یہ ثبوت بھی انٹرنیشنل میڈیا تک جائے گا ۔۔
اے داؤد ہم نے تم کو زمین میں بادشاہ بنایا ہے تو لوگوں میں انصاف کے فیصلے کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے رستے سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ خدا کے رستے سے بھٹکتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب (تیار) ہے کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا
يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ
سُورَةُ صٓ - 26
ہم نے اسمبلیوں وزارتوں اور عہدوں کے شوق میں نہیں پاکستان 🇵🇰 کے عشق میں @ImranKhanPTI کا ساتھ دیا تھا۔ جوانی دی ہے اس تحریک کو جسے دنیا تحریک انصاف @PTIofficial کہتی ہے !
ایک دو دنوں کی بات نہیں دہائیوں پہ مبنی جدوجہد کی داستان ہے ہماری یہ تحریک !
ہم دودھ کے مجنوں نہیں میدان عمل کے سپاہی ہیں !
ملک سے یہ عشق سدا رہے گا تا قیامت رہے گا جب تک اس ملک کو جناح کا پاکستان نہ بنا لیں ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے !
پاکستان زندہ باد
عمران خان پائیندہ باد 🇵🇰
ہم پنجاب والے جو مُظالم آج دیکھ رہے ہیں دیگر صوبوں کے باسیوں اور سیاسی کارکنوں سے اسٹیبلشمنٹ پاکستان بنتے ساتھ یہ سلوک شروع کردیا تھا اور یہی وجہ ہے آج پنجاب سے دیگر صوبوں کے باسی ناراض ہیں کہ جب تک ہم پر نہ بیتی ہم نے اُنکے درد کو سنجیدہ نہ لیا۔۔ خان عبدالولی خان کی تقریر کا تکلیف دہ حصہ سُنیے تاکہ آپ کو احمد سلمان نے کیوں کہا تھا سمجھ آئے: 👇
جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے، جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے
جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے
وہ خواب تھے ہی چنبیلیوں سے، سو سب نے حاکم کی کر لی بیعت
پھر اک چنبیلی کی اوٹ میں سے ، جو سانپ نکلے تو لوگ سمجھے
عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے !
ملک مذید احتجاجی سیاست کا متحمل نہیں۔ @PTIofficial کے ہمایت یافتہ امیدوار ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر ابھر ے ہیں۔ اگر عوامی میںنڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا گیا تو لوگ پھر سڑکوں پہ آنے پہ مجبور ہونگے اسلئے ان کو ایسا کرنے پہ مجبور نہ کیا جائے۔
اب سڑکوں پہ نہیں پارلیمان میں سیاست کا وقت ہے۔ عوام کے ملک کے مسائل حل کرنے کا وقت ہے۔
عوام کے فیصلے کو تسلیم کیجئے۔ ملک کو آگے لیکر جانے کی ضرورت ہے۔
یہ ہیں وہ ایس پی جنہوں نے عون چوہدری کو فتح سے ہمکنار کروانے میں آر او کی سہولتکاری کی۔ اس نوجوان آفسر کو شرم آنی چاہئے جس طرح انہوں نے سلمان اکرم راجہ ان کی اہلیہ اور بھائی کو آر او دفتر سے باہر گھسیٹا، وردی قانون کے رکھوالی کے لیے پہنی ہے اس کی عزت تب ہوگی جب آپ قانون کے دائرے کے اندر رہ کر کام کریں گے۔ ایسے بدمست آفیسرز نے وردی کو بدنام کر رکھا ہے۔
Name & shame these people