A $28/HOUR WELDER IS ABOUT TO BECOME A MILLIONAIRE FROM THE SPACEX IPO.
Not a VC.
Not an executive.
Not a Silicon Valley founder.
A welder.
He joined SpaceX in 2015 and got stock while building rockets.
He held the shares for years.
Now his stake is worth nearly $1 million.
A 27-year-old worker recovering rocket parts from the ocean also kept buying SpaceX stock with 10% of every paycheck.
She is now on track to become a millionaire too.
Another former employee quietly held his shares after leaving the company.
Today his SpaceX stake is worth over $28 million.
But this is just one side of the story.
While a few who got early will enjoy wealth, most retail investors will be arriving at the very end.
These people are about to buy this IPO at nearly 100x sales.
And as we have seen with past IPOs, they'll be left holding the bag for quite sometime before making any real money.
🚨 SPACEX's EX-EMPLOYEE EARNING $28/HR TO BECOME A MILLIONAIRE POST-IPO
Juan Hernandez, a Mexican immigrant, joined SpaceX in 2015 as a contractor earning $28 an hour.
He later went full-time, received a $10,000 equity grant that vested over five years, & bought more through payroll deductions.
His remaining shares are now reportedly worth around $880,000 at SpaceX’s $135 IPO price.
SpaceX’s reported IPO could push him past millionaire status.
آج سے آبناۓ ہُرمز سے ایران نے ٹول ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیا، پہلی وصولی ہو گئی،
ایران کو امریکہ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ ٹرمپ جیسے ڈفر کیوجہ سے ایران اب ایک عالمی طاقت بن چکا ہے، جو دُنیا کے 20 فیصد تیل، گیس اور تجارت کو کنٹرول کرے گا،
دلیر، جرات مند اور ویژنری لیڈرشپ قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہے، پاکستان کو خوش ہونا چاہیے کہ پاکستان کی سرحد ایران اور چین جیسی مضبو�� معاشی اور عسکری ریاستوں کے ساتھ جُڑتی ہے اور اگر ہم امریکہ کی غلامی چھوڑ کر ایران اور چین کے ساتھ اتحاد کریں تو پاکستان بے پناہ فائدہ اُٹھا سکتا ہے اور اسکے بعد بھارت بھی پاکستان سے دوستانہ تعلقات پر مجبور ہوگا
ذرا سوچیں پاکستان دُنیا کے چند ممالک میں شامل ہے، جنکی سرحد پر تین ارب کی کنزیومر مارکیٹ موجودہے اور اسکا فائدہ پاکستان کو صرف اپنی پالیسیز کو بدلنے سے مل سکتا ہے، جمہوریت کا سفر شروع ہو گا تو پاکستان خوش قسمت ترین ملک بن سکتا ہے، موروثی سیاست اور اشرافیہ کے خون چوسنے والے نمائندوں سے جان چھڑانی ہوگی
لیکن اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں کہ یہ کام کرے گا کون؟
Everyone can see horizon, few can see beyond
Stay Tuned on International Affairs
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پاکستان میں کئی ایسے مفکر پیدا کر دیئے گئے ہیں جو ظالم کو قصور وار قرار دینے کی بجائے مظلوموں کو کوستے رہتے ہیں کہ سرینڈر کیوں نہیں کر دیتے۔ ہم مزید ظلم نہیں دیکھنا چاہتے۔ اور کچھ ایسے ہیں جو مزہ لیتے ہیں کہ ظالم کو چھیڑو گے تو مار تو پڑے گی۔ یہی سہولتکار ظلم کے لیے بڑے زمہ داروں میں سے ہیں۔
ایران کے خلاف امریکہ کا سمندری محاصرہ اعلان جنگ ہے۔ اس لئے کوئی سیزفائر نہيں۔
ایران جلد اس محاصرے کو توڑنے کے لئے امریکہ کے جہازوں اور ان کے خلیجی اتحادیوں کے تجارتی جہازوں اور بندرگاہوں پر حملہ کرے گا۔
کیا ٹرمپ و امریکہ سے اچھے تعلقات کا فائدہ صرف ٹرمپ اور جعلی حکمران ہی اٹھائیں گے؟
100/200 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری ہی کروا لیجیے۔
بھارت سے پانی اور کشمیر کا مسئلہ حل کروا لیجیے۔
اسرائیل سے سیز فائر پر ہی عمدرآمد کروا لیجیے۔
اور کچھ نہیں تو بھارت کی طرح روس اور ایران سے سستا فیول ہی منگوا لیجیے۔
لگے ہاتھوں کچھ قرضے یا سود ہی معاف کروا لیجیے۔
یہ بھی نہیں ہوتا تو کم از کم IMF کی شرائط ہی نرم کروا لیجیے۔
کچھ تو پاکستان کا بھی س��چیے حضور۔۔۔
سعودی مطالبہ پر پاکستان نے سوڈان کے ساتھ 1.5 ارب ڈالرز کا دفاعی معاہدہ بشمول لڑاکا طیارے اور دیگر اسلحہ ) معطل یا منسوخ کر دیا ہے۔
سوڈان میں فوج او�� پیراملٹری فورس (RSF) کے درمیان لڑائی میں سعودیہ سوڈانی فوج جبکہ امارات RSF کے حمایتی تھے اور اس ڈیل میں پہلے سعودیہ کی مرضی شامل تھی
اس فیصلے کے بعد پاکستان کی لیبیا کے ساتھ ممکنہ 4 ارب ڈالرز کی دفاعی ڈیل بھی مشکوک ہو گئی ہے کیونکہ وہاں بھی سعودی عرب اپنی علاقائی حکمت عملی پر نظر ثانی کر رہا ہے۔
ٹرمپ کی دھمکیوں اور ایران کے انکار کے باوجود بالآخر مذاکرات تو ہونگے
دراصل دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے پہلے اعصاب کی جنگ لڑتے ہوئے دوسرے فریق کو مذاکرات میں اپنے مطلوبہ رخ کیلئے ذہنی طور پر تیار کر رہے ہیں
اعصاب کی اس جنگ میں ایران نے ثابت کیا کہ انکے اعصاب لوہے کے ہیں
یہ باقاعدہ ایک ایجنڈے کے تحت میدان میں اترے ہیں، پہلے بلال غوری اور طلعت حسین جیسے بالشتیے اور اب انصار عباسی اور سہیل وڑائچ جیسے نابغے۔
ایجنڈا ان کو یہ دیا گیا ہے کہ نئی نسل بدتمیز ہے اور سوشل میڈیا گٹر ہے
کمرے اور الماری کے رنگ سے میچ کرنے کے لئے چار چھ کتابیں پیچھے رکھ کر اور آدھی ادھوری پڑھ کر یہ قوم کے دانشور بننے چلے ہیں
بتانا تم کو یہ ہے کہ کتابیں ہم نے تم سے زیادہ پڑھی ہیں ��ور سوشل میڈیا کو بھی ہم تم سے زیادہ جانتے ہیں
تمہیں یہ ایجنڈا دیا گیا ہے کہ 8 فروری 2024 کو جس نوجوان نسل نے تمہارے اصلی مالکان کے ہیروں تلے سے جو زمین نکالی ہے
وہ نہ تم اور تمہارے بڑے بھٹو کو "مروا" کر نکال سکے تھے نا شریف کو "نسوا" کر ۔
تمہارا دکھ یہ ہے کہ 70 اور 90 کی دہائی میں تمہاری نسل نے جو غیرت بیچ کھائی تھی اس کا قرض آج کی ��سل نے اتار دیا ہے
دبئی اندر سے ختم ہو چکا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ نے دبئی کو تباہ کر دیا ہے۔ گورے انویسٹرز چلے گئے ہیں۔ جنگ کے بہت سارے خفیہ منصوبے دبئی میں بنے تھے۔ ایرانیوں کو یہ پتہ چل چکا ہے۔ اب بھی اماراتی ایران پر زمینی حملے کے لئے امریکہ کو اکسا رہے ہیں۔
جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو دبئی کی پاکسازی کا مکمل پروگرام ہے۔