جائیداد پر قبضے کے لالچ میں مرے باپ کا انگوٹھا چوری چوری کاغذات پر لگاتے جب یہ دبئی کے ہسپتال سے 2015 میں گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا تو ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان نے اسے وہاں سے چھُڑوایا۔
#اثاثے
میاں نوازشریف اس وقت ڈرامہ سیریل "میری زندگی ہے تو" کے ہیرو کامیار والی صورت حال سے گذر رہے ہیں۔ ڈرامے کی ہیروئن ہانیہ عامر، ابتدا میں ہیرو کو ریجیکٹ کرنےکے پچھتاوے کے پیش نظر بعد ازاں دھڑلے سے ہیرو کامیار سے شادی کرتی ہے، لیکن ہیرو پورا ایک سال یہ کہہ کہہ کر ضائع کر دیتا ہے "مجھے کیوں نکالا"۔ اور پھر ہیرو ہیپی اینڈنگ کے لئے آخری قسط میں جا کر ہیروئن کو مناتا ہے۔ ڈرامہ سیریل "میری زندگی ہے تو" میں تو چلیں کمرشل ضرورت تھی، ڈرامہ لمبا کھینچنے کے لئے۔ اب یہاں تو نہیں ہے۔
اب بس کردیں میاں صاحب
اقتدار کی ہیروئن آپ کے پاس ہے۔
🙏🙏🙏
نتھیا گلی میں موجود ایک ھوٹل اینڈ ریسٹورانٹ آفاق کے نام سے ھے،یہ لوگ روزانہ لاکھوں روپے کا کاروبار کرتے ھیں،نا یہ ٹیکس دیتے ھیں نا یہ آنلائن پیسے لیتے ھیں نا یہ کارڈ لیتے ھیں،صرف کیش اور کیش پر بھی جو رسید دیتے ھیں اس میں ھم سے تو ٹیکس لیا جاتا ھے لیکن یہ لوگ ٹیکس حکومت کو ادا نہیں کرتے۔ایسی جگہوں کی نشاندھی کیا کیجئے جو کروڑوں روپے کمانے کے باوجود حکومت کو ٹیکس ادا نہیں کرتے
برصغیر کے لوگوں کو گند اور گندگی میں رہنے کی اتنی عادت ہوگئی ہے کہ اب کوئی صفائی کا نام لے تو ہم پہلے بدک جاتے ہیں، پھر مزاحمت اور پھر مذاق اڑاتے ہیں
پنجاب میں صفائی کا کام شروع ہوا تو مناظر بہتر لگنے لگے ہیں۔ شہر قصبے کچھ اچھے لگنے شروع ہوئے۔
کل کسی انڈیا لڑکی کا سری لنکا سے ٹریول لاگ دیکھ رہا تھا۔وہ کہنے لگی سری لنکا چھوٹا سا ملک ہے لیکن وہاں ٹوراسٹ جانا پسند کرتا ہے کیونکہ وہاں صفائی ہے جو بھارت میں کم ہے۔
پنجاب میں صفائی پر توجہ دی جارہی ہے جو آپ کو اسلام آباد تک میں نظر نہیں آتی۔
انسانی آنکھوں کو صفائی ہمیشہ اچھی لگتی ہے۔ ہماری آنکھیں گندگی دیکھنے کی برسوں سے عادی ہیں لہذا صفائی دیکھنے اور اسے پسند کرنے اور تعریف کرنے میں ہمیں کچھ وقت لگے گا۔
@MaryamNSharif@CS_Punjab@GovtofPunjabPK@saaf
کسی صف اول کے دبنگ صحافی کی طرف سے یہ جناب عمران ریاض صاحب کو اب تک کی تاریخ میں کوئی پہلا مدلل اور موثر جواب دیا گیا ہے، دلائل کے ساتھ۔ ورنہ عمران ریاض صاحب جس کی چاہتے دھوتی کھینچ دیتے تھے، کلاسرہ صاحب بہرحال پنجاب کے سپوت ہیں، دلیل سے بات کرنا جانتے ہیں پختونخواہ کے مطیع اللہ جان نہیں ہیں۔
آہو
میں نے بلاول بھٹو زرداری صاحب سے متعلق کچھ دن میں دو تین تنقیدی ویڈیوز بنائیں اور اُس پر پیپلز پارٹی کے دوستوں نے مجھ پر کھُل کر تنقید کی لیکن مجھے اعتراف کر لینے دیجئے کہ ننانوے فیصد لوگوں نے کوئی اخلاق سے گرا ہوا لفظ استعمال نہیں کیا۔
یاد رکھیں جب تک آپ سوچتے رہیں گے کہ کہیں اور سے مسیحا آئے گا، کوئی نجات دہندہ پہاڑوں سے اتر کر مسائل حل کرے گا تب تک اس ملک کا کچھ نہیں ہو گا۔ آپ خود اپنے مسیحا اور نجات دہندہ ہیں۔۔۔ عوام راج تحریک عام لوگوں کو یہی احساس دلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ https://t.co/JFsrIoy4ow
عمران خان سے میرا کوئی مقابلہ نہیں۔ وہ مجھ سے دوگنی عمر کے ایک ایسے شخص ہیں جنہوں نے پاکستان کے لیے بہت کام کیا اور اُن کی سیاست سے مجھے اختلاف بھی ہے۔۔۔ میں خان صاحب کے برعکس خود وزیراعظم سمیت کسی بھی عہدے امیدوار نہیں، میں تو شخصیت پرستی کے متبادل ایک جمہوری ادارہ بنانے کی جدوجہد کر رہا ہوں جس کے ذریعے میں نہیں، پاکستان کے عام لوگ اور مڈل کلاس اقتدار میں آئے۔
آپ کو روزانہ ہزاروں لاکھوں تھپڑ پڑتے ہیں لیکن آپ محسوس نہیں کرتے۔۔۔ یاد رکھیں کہ یہ تھپڑ مارنے والے افسر اور لیڈر آپ کے ملازم ہیں، آپ ان کے ملازم نہیں۔ ذہنی غلامی سے باہر نکلیں، مالک بنیں۔
#عوام_راج
یہ کیا دلیل ہے کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہے اس لیے اُس کا یونیفارم والے پر چیخنا جائز اور اقرارالحسن عام شہری ہے اس لیے اُس کا چیخنا ناجائز ہے۔۔۔ احکامات فالو کرنے والا پولیس اہلکار غلط تھا لیکن فیملی کی موجودگی میں سیاسی بغض میں گالی دینے والا ایف آئی اے افسر ٹھیک تھا۔۔۔
کیسے کر لیتے ہو یار؟
راستہ نہیں کھلے گا تو یہ پاکستان کو توڑ دے گا؟ 😳
پاکستان توڑنے کی بات بھی کرنے والے کا منہ توڑ دینا چاہئے۔ پاکستان پر ایسے ہزاروں سہیل آفریدی اور عمران خان قربان۔
اور مذاق یہ ہے کہ یہ لوگ کل تک ہمیں کہہ رہے تھے کہ اقرارالحسن کو یونیفارم والے کے سامنے تمیز سے بات کرنی چاہیے تھی۔