In his final Senate address, my late father, Senator Liaqat Ali Bangulzai, passionately advocated for the missing souls forcibly disappeared. He implored the Federal Government to bring them home, cease unlawful abductions, and end the harrowing policy of extrajudicial acts. His legacy echoes for justice and compassion. #HumanRights #PakistanSenate
#Balochistan #MarchAgainstBalochGenocide
کیا تماشہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آج کا پی ٹی آئی کا کوئی ایم این اے خطاب کر رہا ہے۔ پاکستان کی سیاست کی یہ روایت آج تک قائم ہے کہ اپوزیشن میں سب انقلابی بن جاتے ہیں اور اقتدار میں تلوے چاٹتے ہیں۔۔۔
9 دسمبر 1979 کو تربت (بلوچستان) میں سلطنتِ عمان کی فوج کے لئے مقامی نوجوانوں کو بطورِ کرائے کے فوجی بھرتی کرنے کا ایک کیمپ لگا ہوا تھا، جس کی سربراہی عمانی افسر کرنل خلفان ناصر کر رہے تھے۔ بلوچ قوم پرست تنظیمیں (بشمول BSO) اس بھرتی کے خلاف تھیں۔ بلوچستان اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکن عبدالحمید بلوچ نے اس کیمپ پر فائرنگ کی اور گرفتار ہوئے۔
یہ مقدمہ سویلین عدالت کے بجائے 'خصوصی فوجی عدالت' میں چلایا گیا۔ پہلی فردِ جرم میں ان پر عمانی افسر پر قاتلانہ حملے اور اسے زخمی کرنے کا الزام تھا۔ تاہم، جب یہ ثابت ہوا کہ مذکورہ عمانی افسر بالکل محفوظ اور زندہ سلامت عمان واپس جا چکا ہے اور جائے وقوعہ پر کوئی ہلاکت نہیں ہوئی، تو پراسیکیوشن نے چارج شیٹ تبدیل کر دی۔ کیس کو دفعہ 302 (قتل) میں بدل کر سزائے موت کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک نامعلوم مقامی اہلکار کا نام بطور "مقتول" شامل کیا گیا، مگر تحقیقات میں وہ شخص بھی زندہ نکلا۔
حمید بلوچ کے وکیل ایڈووکیٹ مبشر کیسرانی نے عدالت میں چیلنج کیا کہ جس مقدمے میں کوئی لاش یا مقتول موجود ہی نہیں، اس میں سزائے موت کس قانون کے تحت دی جا رہی ہے۔ اس مضحکہ خیز صورتحال کے خلاف جب بلوچستان ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی، تو ہائی کورٹ نے ٹرائل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حمید بلوچ کی پھانسی پر سٹے آرڈر جاری کر دیا۔
جب سویلین ہائی کورٹ سے سزا معطل ہونے کا قانونی راستہ نکل آیا، تو جنرل ضیاء الحق نے مارچ 1981 میں عبوری آئینی حکم (Provisional Constitutional Order - PCO) نافذ کر دیا۔ اس PCO کے تحت اعلیٰ سویلین عدالتوں (ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ) سے فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر نظرثانی کرنے یا سٹے آرڈر دینے کا اختیار ہی چھین لیا گیا۔ نتیجے کے طور پر ہائی کورٹ کا سٹے آرڈر بے اثر ہو گیا اور تمام تر قانونی خلا کے باوجود 11 جون 1981 کو کوئٹہ جیل میں حمید بلوچ کو پھانسی دے دی گئی۔
اصل وجہ یہ تھی کہ عمان کو کرائے کے فوجی دینے کا معاہدہ متاثر ہو رہا تھا اس لئے عمان کو خوش کرنے کیلئے اپنے ہی ایک پاکستان کو مثال بنانے کیلئے تمام قانون و ضابطوں کو کچل کر سزائے موت دے دی گئی
پاکستان کی تاریخ کچھ ایسی ہی ھے 🤕
پنجابی میں کہتے ہیں: “عقل نہیں تے موجاں ہی موجاں۔”
سردار اختر مینگل نے کوئی سچا واقعہ بیان نہیں کیا، بلکہ بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ کی تعلیم دشمن پالیسیوں پر طنز کیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور اس کے تلوے چاٹنے والے عام بلوچ کے تعلیم یافتہ، باشعور اور اپنے حقوق سے آگاہ ہونے سے ڈرتے ہیں۔
کوئی ماں یہ نہیں چاہتی کہ اس کا بیٹا تعلیم و شعور سے محروم رہے۔ اسے خوف یہ ہوتا ہے کہ تعلیم حاصل کرکے جب وہ اپنے حقوق کی بات کرے گا تو کہیں اسے مار نہ دیا جائے۔
دنیا دُکھوں کا گھر ہے۔۔۔ کراچی میں صرف 15 ہزار روپے ماہانہ کمانے والا نوجوان ڈھائی سال بعد والدہ کو ملنے لوئر کوہستان جا رہا تھا۔ نالے میں پانی کا زوردار ریلا آیا، پل کمزور، رسی ٹوٹ گئی، نوجوان بہہ گیا۔ سڑک ہی نہیں تھی تو لاش کو اٹھا کر گاؤں لیجایا گیا۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ واپڈا نے بغیر اطلاع پاور پراجیکٹ سے پانی چھوڑا۔۔۔ غربت اتنی کہ والد کی وفات پر کراچی سے گھر نہیں جا سکا۔ اس مرتبہ بھی لوگوں نے گھر جانے کے لیے پیسے جمع کر کے دئیے تھے لیکن موت نے آ لیا۔۔۔ ذمہ دار کون
https://t.co/Lr5gB5rSsS
@hassanayub92 جب عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لایا گیا اور شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا گیا اس میں سردار اختر مینگل کے چار ووٹ تھے تب بھی جاوید مینگل کا یہی سٹیٹس تھا تب آپ کو جاوید مینگل یاد نہیں آیا ؟ 😂
آج بلوچستان میں جو کشیدہ حالات ہیں اس کے بڑے ذمہ داروں میں انوارالحق کاکڑ، سرفراز بگٹی ہیں جن کی استعداد بہت ہی معمولی سطح کی تھی لیکن بڑے عہدے دے دیئے گئے۔سونے پہ سہاگہ یہ کہ کاکڑ بطور نگران وزیراعظم اور بگٹی بطور وزیرداخلہ اور وزیراعلی عوامی اجتماعات میں انتہائی احمقانہ اور اشتعال انگیز باتیں کرتے رہے۔
انوارالحق کاکڑ کے خلاف متعدد کرپشن کے سکینڈلز موجود ہیں لیکن ابھی تک انکوائری کسی سمت بڑھی نہیں ہے۔
ملا رجیم نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ وقت دور نہیں جب پاکستان اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم کا خدشہ پیدا ہو جائے۔
@MahBaloch_ عقل نہیں تے موجاں ہی موجاں۔
خط کے نیچے جو قومی اسمبلی کے ڈی ڈی او نے رسیوڈ لکھا ہے وہ کیا ہے؟ ویسے بھی چیک والا دستخط صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے
BREAKING: The Supreme Court has issued notices to the respondents on petitions seeking the suspension of the 17-year sentences handed to lawyers Imaan Mazari and Hadi Ali Chattha, fixing the matter for hearing on July 21.
During the hearing, senior counsel Faisal Siddiqi told the court that the Islamabad High Court had repeatedly failed to comply with the Supreme Court’s May 12 order directing it to decide the suspension applications within two weeks.
“I have no remedy left,” Siddiqi submitted. “Never in my 26 years has an urgent application been returned to me the very next day. The Supreme Court’s orders are being openly defied by the High Court. You have suspended life sentences and death sentences. Just decide this case, even if you reject it, but at least decide.”
None of the respondents or their counsel appeared before the Supreme Court.
The verdict in Mahrang Baloch case has sparked a legal debate.Did the court deliver justice or has the judgment raised questions about due process,criminal law & the justice system?In this episode,we go beyond headlines to examine what the judgment actually says &legal principles the court applied.This is a conversation about the law,not slogans.Whether you agree with the verdict or not, understanding court’s legal reasoning is essential to an informed public debate.
If you value independent journalism please support this work. Subscribe, share, and join the conversation.@MahrangBaloch_@NadiaBaloch99@SindhHighCourt
Watch now: https://t.co/4iCjCdrYZ6
BREAKING: The state-imposed counsel who represented Dr Mahrang Baloch and Sibghatullah Baloch against their will has earned his reward for getting his clients life sentences. Syed Iqbal Shah of PTI has reportedly been appointed Additional Advocate General Balochistan.
Hardstate targets every victim questioning about their civil and constitutional rights.
Sammi Deen Baloch is no criminal, that her house gets raided like this.
No one should be subjected to intimidation or arbitrary treatment. If any action was legally warranted, it must be carried out with transparency, due process and respect for fundamental rights. An independent and impartial investigation into the incident is essential.