Hiroshima was bombed on August 6, 1945, at 8:15 a.m. local time.
Key Details of the Bombing
The Weapon:
An American B-29 bomber named the Enola Gay dropped an atomic bomb nicknamed "Little Boy".
The Impact: The blast instantly killed between 70,000 and 80,000 people, with total deaths reaching an estimated 140,000 by the end of 1945 due to burns and radiation sickness.
Historical Context: This event marked the first use of a nuclear weapon in wartime, followed three days later by the bombing of Nagasaki on August 9, 1945.
عمران خان نے شوگر مافیا کے خلاف کیا اقدامات کیے تھے، باوجود اس کے کہ شوگر مافیا اور اسٹیبلشمنٹ ایک تھے عمران خان کے خلاف۔
محمد زمان وٹو صاحب ( کین کمشنر پنجاب) کی ۲۲اپریل ۲۰۲۱ء کی تحریر، جن کو خبروں کے مطابق اپنی حق گوئی کی بناء پر اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے:
“سیلز ٹیکس ایکٹ ۱۹۹۰ کا نفاذ آج سے اکتیس سال پہلے ہوا۔ اس ایکٹ کی رو سے شوگر ڈیلرز کے لئے سیلز ٹیکس کے لیے رجسٹر یشن ضروری ہے۔ تاہم اگر شوگر ملز نے غیر رجسٹرڈ ڈیلر کو چینی فراہم کرنا ہو تو انہیں بالکل معمولی سا اضافی ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ پچھلے اکتیس سال سے ملز اسی طرح سے چینی فروخت کر رہی تھیں۔
آپ کو یاد ہو گا کہ چند ہفتے قبل چینی کے سٹہ بازوں کے خلاف جب ایکشن ہوا تو یہ بات سامنے آئی کہ سٹہ کے ذریعے شوگر ملیں اور سٹہ باز چینی کی قیمت ملوں میں رکھے رکھے بہت بڑھا رہے تھے۔طریقہ واردات یوں تھا کہ سٹہ باز چینی کا ٹوکن یا قیمت ادا کر کے منافع پر ایک ماہ کی advance selling دوسرے ڈیلر کو کر دیتے۔ خریدنے والا اس کو مزید منافع لے کر دو ماہ کی advance selling کر دیتا۔ یہ چینی مل میں ہی پڑی رہتی۔ یوں جو چینی آج 80 روپے کلو میں خریدی گئی وہ پڑے پڑے ماہ جون کی لیے 90 روپئے کی ہو گئی۔
چنانچہ ایف آئی اے نے ایکشن کیا جس کے نتیجے میں چشم کشا حقائق سامنے آئے کہ کس طرح گھما پھرا کر چینی کی قیمت بڑھائی جا رہی تھی۔ لہذا حکومت نے قانون جاری کیا جس کےتحت ٹوکن پر یا قیمتا خرید کردہ چینی کا مل سے پندرہ دن میں اٹھایا جانا ضروری ہے۔
چینی کی قیمتوں میں سٹہ کے ذریعے اضافہ کو روکنے کے لئے حکومت نے چینی کی ایکس مل قیمت 80 روپئے فی کلو مقرر کی۔ یہ قیمت انتہائی مناسب تھی اور مل کا اس میں معقول منافع بھی رکھا گیا۔ یاد رہے کہ ابھی دو دن پہلے ایک شوگر مل نے عدالت میں بیان دیا ہے کہ انہوں نے 70 روپے فی کلو چینی Nestle کو فروخت کی ہے۔
رمضان شریف میں چینی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے عدالت عالیہ نے شوگر ملز کو ایک آرڈر کے ذریعے اس بات کا پابند بنایا کہ ماہ رمضان کے لئے ایک لاکھ پچپن ہزار ميٹرک ٹن چینی فراہم کریں۔ چونکہ سٹہ باز اور ڈیلرز سٹہ کے خلاف ایکشن کا بدلہ لینے کے لیے شوگر ملز کی connivance سے ہڑتال پر تھے اس لئے ضلعی انتظامیہ کو متبادل ڈیلرز کا انتظام کرنا پڑا۔
حکومت کے لیے مسائل کھڑے کرنے اور عوام الناس کے لیے مشکلات پیدا کرنے کےلئے شوگر ملز نے عدالت عالیہ میں یہ رٹ دائر کی کہ انتظامیہ کو سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے بغیر چینی اٹھانے سے منع کیا جائے۔ اب عدالت نے تو وہی فیصلہ کرناہوتا ہے جو قانون کے مطابق ہو۔ چنانچہ عدالت نے یہ حکم جاری کیا کہ غیر رجسٹرڈ ڈیلر چینی نہیں اٹھا سکتے۔ اس طرح انتظامیہ کے ڈیلرز کے ذریعے چینی کی ترسیل رک گئی۔ یوں شوگر ملز نے پنجاب میں چینی کا بحران پیدا کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ یہی شوگر ملز، سیلز ٹیکس ایکٹ ۱۹۹۰ کے نفاذ کےاکتیس سال تک انہی غیر رجسٹرڈ ڈیلرز کے ذریعے معمولی سا اضافی ٹیکس ادا کر کے چینی فروخت کر رہی تھیں۔
ہمیں ضلعی انتظامیہ کو داد دینی چاہئیے کہ ان ساری سازشوں کے باوجود انہوں نے ڈیلرز کو رجسٹریشن کروانے پر آمادہ کیا اور عوام تک رمضان بازاروں اور اوپن مارکیٹ کے ذریعے چینی پہنچانے کا عمل بحال کروایا ہے۔ کین کمشنر آفس اس دوران دن رات قانون کے تحت چینی کے اجرا کے مطلوبہ احکامات جاری کرتا رہا ہے۔ “
محمد زمان وٹو
کین کمشنز پنجاب۔
قراردادِ مقاصد جسے پاکستان [بشمول موجودہ بنگلہ دیش] کی پہلی دستورساز اسمبلی نے ۱۹۴۹ء میں منطور کیا، اُس میں کہا گیا ہے کہ خدا نے اقتدارِ اعلیٰ پاکستان کے عوام کو دیا ہے اور وہ عوام کی طرف سے ایک امانت کے طور پر ریاست کو ملتا ہے۔ اِس طرح ریاست عوام سے نیچے ہے۔ وہ اُن کی مرضی کے خلاف کوئی نظریہ اُن پر مسلط نہیں کر سکتی، یہاں تک کہ خدا کے نام پر بھی نہیں کیونکہ خدا نے اقتدار عوام ہی کے ذریعے ریاست کو دیا ہے۔
خرم علی شفیق
“یہی وہ بیانیہ ہے جسے بیچنے کے لئے ملکی معیشت ٹھیک نہیں ہونے دی جاتی ۔ ہم ایک گیرژن اسٹیٹ ہیں جسکی طاقت جنگ عظیم اول و دوئم کی طرح سپاہیوں کی کھیپ مہیا کرنا ہے۔ اگر یہاں کی معیشت ٹھیک ہوگئ تو پھر لوگ نیشنلزم اور خدا کے نام پر لڑ نہیں پائیں گے۔ سیکولر دنیا میں انسان اچھی طرح تب ہی لڑسکتا ہے جب اس دنیا سے اس کے اسٹیک ہی ختم ہوجائیں۔ اس کے بعد کچھ لوگ جیسے ہی نیشنل ازم کا نعرہ لے کر اور کچھ لوگ مذہب لیکر نکلتے ہیں تو دنیا کے طاقتوروں کو لڑنے والے اسٹیٹ اور نان اسٹیٹ مزدور میسر آتے ہیں۔ تیس کروڑ انسانوں کا یہ اسٹاک اتنا بڑا ہے کہ تیس عالمی جنگوں کے لئے کافی ہے۔ یہی اس کی اصل طاقت ہے اور اسی لئے اگر کوئی معیشت ٹھیک کرنے پر اتر آئے تو اس کا تختہ الٹ کر ملک کو اسٹیٹس کُو پر واپس دھکیل دیا جاتا ہے۔ ورنہ آپ دیکھیں گے کہ جب دنیا کو ہمارے لڑنے والے مزدوروں کی ضرورت نہ ہو تو ہم دن رات زمین کے اندر اور باہر اتنے خزانے گنوانے لگتے ہیں کہ زمین کے اوپر کا صرف کیچڑ بھی امریکہ کی کُل جی ڈی پی کے برابر نظر آنے لگتا ہے۔”
مبین قریشی
I built an AI system that automates product video creation for entire e-commerce catalogs.
(Saves ~$30K per collection shoot and boosts on-site conversion rates by ~20%)
Here's what the system does under the hood:
→ Firecrawl pulls product images straight from any e-commerce collection URL
→ Calico AI turns them into realistic model videos capturing fit, texture, and movement
→ Every video starts and ends on the original product shot for seamless looping
→ Output is auto-labeled, sorted, and pushed directly to Google Drive
→ The entire pipeline runs in batch — zero manual intervention
The outcome: brands can give every single SKU a video asset, not just their bestsellers — and conversion lifts are immediate.
Static images don't cut it anymore.
Buyers want to see how a product moves before they commit.
If you want the full breakdown,
Like RT & Comment "CALICO".
I'll send you the complete n8n workflow, every prompt, and a step-by-step walkthrough video — totally free. (Must be following so I can DM you.)
No more $30K production shoots.
No more wondering if your product pages are leaving money on the table.
مبین قریشی کی کم وبیش دوسال قبل کی تحریر
11/10/2023
ناشکری قوم کا عذاب
۔۔۔۔۔۔
گزشتہ پونے دو سال میں کوئی ایک اچھی خبر نظر سے گزری ہو تو بتاؤ ۔ مسلسل ولیتبروا ما علوا تتبیرا والی کیفیت ہے۔ آج سے دو اڑھائی سال پہلے ایاک نعبد والا بیٹھا ہوا تھا۔ دنیا میں کویڈ کی شکل میں طوفان نوح آیا ہوا تھا لیکن ہماری کشتی تیر رہی تھی ۔ انڈسٹری پورے زوروں سے چل رہی تھی ، زراعت کا رزلٹ بہتر تھا ، ریئل اسٹیٹ اٹھی ہوئی تھی ۔ پوری معیشت میں ہلچل تھی ۔ دنیا کویڈ سے نبٹنے پر سراہ رہی تھی ۔ دنیا ماحولیات پر شاباشیان دیتے نہ تھکتی تھی ۔ دنیا کی یونیورسٹیوں میں ریاستی فلنتھراپی کا ماڈل ڈسکس ہورہا تھا۔ پناہ گاہیں ، لنگر خانے اور ہیلتھ کارڈز بھی چل رہے تھے تو ایکسپورٹس و فارن ریمیٹینسسز بھی اُٹھتی چلی جارہی تھیں ۔ خطے کے انویسٹروں سے بھی میٹنگز چلتی تھیں تو دو دو دفعہ او آئی سی کے اجلاس بھی ہورہے تھے ۔ دنیا بھر کی سلیبرٹیز کا سلیبرٹی دنیا کی عیش و عشرت پر لات مار کر توبہ تائب ہوئے تسبیح پکڑے ایاک نعبد کے صدائیں دیتا تھا ۔ انڈینز لیڈرز نے چھہتر سالوں میں کبھی اپنا لباس نہ چھوڑا اور ہمارے لیڈروں نے دنیا کے سامنے کبھی پہنا نہ تھا۔ یہ درویش اپنی شلوار قمیص پہنے ٹرمپ کے ساتھ بیٹھا ہو تو ذیادہ کانفیڈینٹ نظر آئے ، پیوٹن کے ساتھ بیٹھے تو زیادہ اہم دکھے، مہاتیر محمد کے ساتھ کھڑا ہو تو اسکی بیوی ساتھ فوٹو بنوائے ، قطر جائے تو بادشاہ بلے پر آٹا بائو گراف لے ، سعودی عرب جائے تو ایم بی ایس جیسا خود سر گاڑی پر بٹھا کر روڈز پر نکل پڑے ، اقوام متحدہ جائے تو اسلامو فوبیا پر بلز منظور کروائے ، انڈیا سے بات کرے تو مودی کو لتاڑتا پھرے اور وہ آگے سے چُس بھی نہ کرے ۔ لیڈی ڈیانا سے لیکر بالی وڈ ایکٹروں سے لیکر , بل گیٹ سے لیکر ، نیلسن منڈیلا تک جس کے ساتھ کھڑا ہو وہ اسے سردار مانے ۔ ملک میں ڈیمز کی دہائی کا آغاز کرے ، شجر کاری کا آغاز کرے ، روزگار کا ریکارڈ گزشتہ دس سال سے بھی ذیادہ ہو ۔
لیکن اس ناشکری قوم نے اس جھوپڑ پٹی نما ملک اندر پلے بڑھے شہزادے کی قدر نہ کی ۔ اپنی احساس کمتری کی فرعونیت دکھاتے خود کو اس سے ذیادہ طاقتور دکھایا۔ بنی اسرائیل پیغمبر مار دیا کرتی تھی اور اگر آج بھی نبوت چل رہی ہوتی تو یقینا ہم نے بھی بہت سے مارے دئے ہوتے ۔ لیکن نبوت ختم ہوچکی اس لئے کبھی کبھار کوئی بڑا شخص ہی پیدا ہوسکتا ہے جو ہم نے جی بھر کر ستائے اور مارے ہیں ۔ یہ اس ناشکری قوم کا عذاب ہے کہ گزشتہ پونے دو سال سے جیسے خدا نے ہمارا بٹن ہی آف کردیا ہو۔ جہاں پاؤں پڑتا ہے الٹا پڑتا ہے ۔ جو خبر آتی ہے دل دکھانے والی آتی ہے ۔ ہر طرف خوف اور بھوک کا سایہ ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے قدرت پکار پکار کر کہہ رہی ہو کہ ان عدتم عدنا اور ہمیں یہ آواز محسوس بھی ہوتی ہو لیکن ہم بالآخر غرقاب ہونے کے لئے فرعونیت پر اڑ گئے ہوں ۔
مبین قریشی
@HaiderHotiANP غالباً آپ اسفندیار کے بھانجے اور ایمل ولی بیٹا ہے، سو آپ یہ شعور واپس لانا چاہتے ہیں کہ “باچا خانی پہ کور دا؟” یعنی باچا خانی صرف باچا خان کے گھر تک محدود رہے۔
@HaiderHotiANP غالباً آپ اسفندیار کے بھانجے اور ایمل ولی بیٹا ہے، سو آپ یہ شعور واپس لانا چاہتے ہیں کہ “باچا خانی پہ کور دا؟” یعنی باچا خانی صرف باچا خان کے گھر تک محدود رہے۔
I failed at:
E-Commerce
Crypto trading
Network marketing
But recently I made $53,000 in a single month selling eBooks.
What’s crazier?
I didn’t write a single word.
I could easily charge $179 to teach my system, but today I’m giving my secret for free.
It’s called:
"The Laziest Way to Make Money with AI Books"
Inside this free doc, you’ll learn the exact system that made me more money than most “real” writers ever see.
You'll learn:
• Why 85% fail (and the 3 filters to pass)
• The 5-stage Publishing Operating System
• Real portfolio math: 3 books → $1.8K/mo, 15 books → $30K+
• How to own your Amazon shelf space (not just publish)
To get it:
1. Like & Repost this
2. Comment “ebook” below
3. Follow me (so I can DM it to you)
Traditional System vs. Sehat Card: A Comparative Illustration
The Scenario: Consider a laborer suffering from gallbladder stones who requires immediate surgery.
1. The Traditional System (Public & Private Hospitals)
• The Reality of Public Hospitals: When the laborer goes to a government hospital, he discovers that the surgical waiting list is so long that his turn won't come for 8 months to a year. In the meantime, he must endure the pain and lose his daily wages.
• The Barrier of Private Hospitals: If, out of desperation, he visits a quality private hospital, he is informed that the surgery will cost between 100,000 to 200,000 PKR. For a poor man, raising this amount is "impossible," meaning he will either remain untreated at home or be crushed under a mountain of debt.
2. The Sehat Card Model (The New System)
• The Power of the ID Card: This same laborer now holds a KP (Khyber Pakhtunkhwa) Identity Card. Instead of standing in long queues at public hospitals, he goes directly to the counter of the city’s best private hospitals (those on the panel).
• Immediate and Free Treatment: He does not have to deposit any cash. His ID card is swiped, a room is allotted to him, and his surgery is performed within the next 24 to 48 hours.
• The Result: He didn’t have to wait for a year, nor did he have to take a loan. He received the same protocol and care that a wealthy person receives by paying hundreds of thousands of rupees.
The greatest advantage of this system is that it has made healthcare a responsibility of the state, rather than a privilege reserved only for those who have money in their pockets.
Scope of the Sehat Sahulat Program
The Sehat Card is not just for common fevers or minor injuries; it covers life-threatening and expensive treatments that could bankrupt even a middle-class family. Below are the details of the major diseases and facilities provided through this card:
1. Major Surgeries and Treatments (Priority Diseases)
This card covers all treatments that usually require hundreds of thousands of rupees:
• Cardiology (Heart Diseases): Heart bypass surgery, placement of stents, and heart valve replacement.
• Renal Treatment (Kidney): Dialysis and the costs of kidney transplants.
• Cancer Treatment: Chemotherapy, radiation, and cancer-related surgeries.
• Diabetes: Treatment for complications arising from diabetes.
• Neurology: Brain surgeries and spinal cord treatments.
2. Accident and Emergency Care
• Emergency surgery in the event of any major accident.
• Complex orthopedic operations and fracture treatments.
3. Maternal and Child Health
• Facilities for both normal delivery and C-sections are available.
• Costs for the nursery or Neonatal ICU for newborns.
4. Additional Financial Benefits
The card provides more than just medical treatment; it also offers:
• Pre and Post-Admission Medicine: Medicines are provided free of charge for one day prior to admission and up to five days after discharge.
• Travel Allowance: A fixed amount is given to the patient for the journey back home from the hospital.
• Burial Expenses: If (God forbid) a patient passes away during treatment, financial assistance is provided for burial rites.
Key Point: "Public vs. Private Competition"
This card has compelled government hospitals to improve their facilities. Public hospitals now only receive funds from the government when they treat a Sehat Card holder. This has sparked a competition to improve quality between hospitals, which directly benefits common citizens like you.