رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مومن کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند اور اس کے بدلے اس کا ایک گناہ معاف کر دیتا ہے“۔
(جامع ترمذی، ۹۶۵)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ یوں فرمایا کرتے:
’’ اے اللہ ! میں نکمے پن ‘ بے جا سستی ‘ شدید بڑھاپے ‘ کنجوسی اور بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں ‘ نیز قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘
(سنن نسائی،۵۴۵۴)
کہہ دو کہ : ” اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔ یقینا وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔
سورۃ الزمر
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔
(سنن ابوداؤد ،۱۵۳۱)
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
“ روزانہ پانچ وقت کی نماز اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ بیچ کے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہ سرزد نہ ہوں“۔
(جامع ترمذی،۲۱۴)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مومن کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند اور اس کے بدلے اس کا ایک گناہ معاف کر دیتا ہے“۔
(جامع ترمذی، ۹۶۵)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد ( پہاڑ ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا۔
(سنن ابی داؤد، ۴۶۵۸)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے:
“يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث ”
اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں“۔
(جامع ترمذی ،۳۵۲۴)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد ( پہاڑ ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا۔
(سنن ابی داؤد، ۴۶۵۸)
اللھم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید
اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم انک حمید مجید
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
”جس نے «سبحان الله وبحمده.» دن میں سو مرتبہ کہا، اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“
(صحیح بخاری، ۶۴۰۵)
حجۃ الوداع کے موقع سے یوم عرفہ کی شام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ دعا کثرت سے پڑھنا منقول ہے :
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
’’اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کَالَّذِیْ تَقُوْلُ وَ خَیْرًا مِّمَّا نَقُوْلُ ، اَللّٰھُمَّ لَکَ صَلوٰتِيْ وَ نُسُکِيْ وَ مَحْیَايَ وَ مَمِاتِيْ ، وَ اِلَیْکَ مَابِیْ وَ لَکَ رَبِّيْ تُرَاثِيْ ، اَللّٰھُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ وَسْوَسَۃِ الصَّدْرِ وَ شَتَاتِ الْاَمْرِ ‘‘(۱)
’’ اے اللہ ! آپ کے لئے تمام تعریفیں اسی طرح ہیں جیسا کہ آپ خود فرمائیں اور اس سے بہتر جو ہم کہہ سکیں ، اے اللہ! میری نمازیں ، میرے مناسک ، میری زندگی اور میری موت آپ ہی کے لئے ہے ، آپ ہی میری پناہ گاہ ہیں ، اور اے پروردگار ! میرے بعد رہ جانے والی اشیاء بھی آپ ہی کی ہیں ، الہی !میں قبر کے عذاب ، دل کے وسوسہ اور کاموں کے انتشار سے آپ ہی کی پناہ چاہتا ہوں ‘‘ ۔