سعودی عرب اور یو اے ای سمیت 4 ممالک سے گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 63 پاکستانیوں کو بے دخل کیا گیا ہے۔
تفصیلات: https://t.co/TfFiS2Gzky
#TOKAlert#SaudiArabia#UAE
پاکستانی مرد اپنے مفاد کی خاطر یورپ جا کر اس عورت سے بھی شادی کر لیتے ہیں جس کے پہلے سے ہی دو چار افیئرز بریک ہو چکے ہوتے ہیں
اک دو طلاقیں بھی ہو چکی ہوتی ہیں
عمر میں بھی بڑی ہوتی ہے
مگر اپنے ملک میں ان کو ان ٹچ جوان , پاکییزہ اور شرمیلی لڑکی چاہیے
#Society#FactCheck
Every arrogant empire eventually collapses.
Every boastful tyrant eventually falls.
It’s only a matter of time.
His promise is true.
His victory is near.
So long as we continue to persevere.
یہ بدنصیب انسان جنید حفیظ ہے، جو بہاءالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان میں لیکچرر تھا. انتہائی ذہین اور تعلیمی کوالیفیکیشن نہایت شاندار کارکردگی، تقریباً آٹھ سال قبل اس بدقسمت نے یونیورسٹی میں ایک سیمینار کروایا جس کے بعد چند طلباء نے اس پر گستاخی رسول کا الزام لگایا اور اسے گرفتار کر لیا گیا.
جنید کا تعلق راجن پور سے ہے اور ایف ایس سی میں امتیازی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد اسے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور میں داخلہ مل گیا، لیکن اسے انگلش لٹریچر سے دلچسپی تھی، لہٰذا اس نے میڈیکل کے فرسٹ پروفیشنل کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج چھوڑ کر بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان میں انگلش لٹریچر میں داخلہ لے لیا اور بی اے آنرز میں 38 سالہ ریکارڈ توڑتے ہوئے 3.99 GPA سکور کیا. جنید پاکستان بھر کے ان 5 طلباء میں شامل تھا، کہ جن کو شاندار کارکردگی کی بنیاد پر Prestigious فل برایئٹ سکالرشپ پر امریکہ میں ماسٹرز کی ڈگری کے لیئے منتخب کیا گیا تھا.
جنید نے امریکہ کی جیکسن سٹیٹ یونیورسٹی سے امریکی لٹریچر، فوٹوگرافی اور تھیٹر میں ماسٹرز ڈگری امتیازی نمبروں سے حاصل کی اور اپنا ایم فِل کرنے پاکستان واپس آ گیا، گویا اس نے لاعلمی میں بدقسمتی کی جانب سفر اختیار کر لیا. پاکستان پہنچ کر اسے بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی میں لیکچر منتخب کر لیا گیا.
یونیورسٹی میں بحیثیت مجموعی کنزرویٹیو ماحول تھا، تاہم انگلش ڈیپارٹمینٹ کی سربراہ شیریں زبیر کی بدولت ڈیپارٹمینٹ کا ماحول خاصا ریلیکسڈ اور پرسکون تھا. جنید عموماً خواتین کے حقوق کے Activists کو لیکچر کے لیئے بلا کر سیمینار کرواتا تھا، تاکہ ان کا طلباء کے ساتھ interaction بھی ہو سکے.
پھر وہ دن آن پہنچا جس دن بدقسمتی نے جنید حفیظ کے در پر دستک دی. جنید نے وائس چانسلر سے اجازت لے کر ایک سیمینار کروایا، جس میں معروف ویمن ایکٹیوسٹ قیصرہ شاہراز کو مدعو کیا. قیصرہ PTV کے لئے ایک ایوارڈ یافتہ سیریل بعنوان "دل ھی تو ہے" بھی لکھ چکی تھیں.
قیصرہ کے لیکچر کے اختتام پر چند طلباء نے قیصرہ اور جنید پر چند گستاخانہ کلمات کی ادایئگی کا الزام لگایا. ان الزامات پر جنید حفیظ کو فوری گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ڈیپارٹمینٹ کی سربراہ شیریں زبیر اورقیصرہ شاہراز کی قسمت اچھی نکلی اور وہ فوری بیرون پاکستان منتقل ہو گئی. ابتدائی سماعت میں استغاثہ نے ایک گواہ پیش کیا، اس گواہ نے سیمینار کے حوالہ سے تو کچھ نہیں کہا، البتہ جنید کی بعض تحریروں میں گستاخانہ مواد کا الزام لگایا. ان تحریروں میں ردوبدل کیا گیا تھا، کیونکہ جنید نے چند کلمات کی خود سے منسوب ہونے کی سختی سے تردید کی ہے، دلچسپ بات یہ ہے، کہ جب گواہ سے کہا گیا کہ وہ تحریریں پڑھ کر سنائے اور گستاخانہ مواد کی نشاندہی کرے، تو گواہ نے اعتراف کیا، کہ تحریریں چونکہ انگریزی میں ہیں اور وہ انگریزی نہ تو پڑھ سکتا ہے اور نہ سمجھ سکتا ہے.
بہرحال پولیس نے جنید کو لاھور سے گرفتار کیا اور ملتان لائے، پھر اسے ساہیوال جیل منتقل کر دیا گیا. اس کا کمپیوٹر ضبط کر لیا گیا اور اس سے بغیر کسی عدالتی حکم کے زبردستی اس کا پاس ورڈ اگلوایا گیا. اس کے خلاف پہلے ذکر کردہ Doctored دستاویزات کی روشنی میں پینل کوڈ کی دفعہ 295 سی کے تحت بلاسفیمی کا مقدمہ درج کر لیا گیا، یہ مارچ سن 2013 کا احوال ہے. انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس اور معروف وکلاء کی رائے میں جنید کے خلاف پیش کردہ مواد کی روشنی میں بلاسفیمی کا مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے. بہرحال اصل بدقسمتی کا آغاز جنید کی گرفتاری کے بعد ہوا.
جنید کو ساہیوال جیل میں گزشتہ قریب ساڑھے سات سال سے رکھا گیا ہے. اسے بستر وغیرہ کی کوئی سہولت نہیں اور سنگلاخ فرش پر سوتا ہے، گرمیوں میں شدید گرمی اور سردیوں میں سخت سردی کا سامنا کرتا ہے. سب سے اذیت ناک بات یہ ہے، کہ اس کے کیس میں تاریخوں پر تاریخیں پڑتی جا رہی ہیں اور بحث کی نوبت ہی نہیں آتی ہے. اس کی فیملی اور والدہ بیٹے کی گرفتاری سے تاحال گھر سے باہر نہیں نکل سکتیں، کسی شادی بیاہ یا تقریب میں نہیں جا سکتیں، جبکہ اس کے ضعیف والد ہر ہفتے 200 میل کا سفر کر کے بیٹے سے ملنے جاتے ہیں، جن سے جیل سٹاف نہایت بدتمیزی سے پیش آتا ہیں اور کبھی انہیں بیٹے سے ملنے دیا جاتا ہے اور کبھی بنا ملے واپس بھیج دیا جاتا ہے. بوڑھا آدمی کہتا ہے، اب میں تھکتا جا رہا ہوں، لیکن کیا کروں بیٹے کو بے یارو مددگار تو نہیں چھوڑ سکتا ہوں ___!!!
1/2
#JunaidHafeez #FreeJunaidHafeez
محسن علی گودارزی
"چھٹے آسمان پر ﷲ کا پیر پھسلا، اور چھٹے آسمان پر ﷲ گرا اور وہ گر کر چوتھے آسمان پر آیا" اب لگاؤ فتوہ اس ملعون مولوی پر جو اگھاڑنا ہے اگھاڑ لو اس کا۔ آپس میں کتوں کی طرح لڑ کے مرو، ہماری نسلوں سے دور رہو، ہمارے نوجوانوں سے دور رہو۔
#JusticeForDrShahnawaz#ArrestUmarJanSarhandi
BREAKING: HASHEM SAFIEDDINE IS THE NEW LEADER OF HEZBOLLAH M
Hashem Safieddine, Nasrallah's cousin and head of the executive council, has become the new Hezbollah leader.
اسرائیلی درندگی کے نتیجے میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ مزاحمت اور جہاد ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کی سفاکیت کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے کل غزہ اور آج لبنان آنے والے کل میں کوئی دوسرا اسلامی ملک نشانہ بن سکتا ہے، مسلم حکمرانوں اب بھی وقت ہے خاموشی توڑ کر ظالم طاغوت کا مقابلہ کرو۔
#Nasrallah #Lebanon #Palestine
جنسی بھییڑئے ملاں! #لعنت_ہو_اپ_پر تم سے نہ ہماری نسلوں کی زندگی محفوظ ہے نہ ہمارے بچے بچیوں کی عصمتیں۔ تم ہجروں میں مسجدوں میں قرآن پاک کی موجودگی میں زناح کاری کرتے ہو۔ تم بدکار ہو۔ اپنے بچوں کو ان درندوں سے دور رکھیں۔
#JusticeForDrShahnawaz#ArrestUmarJanSarhandi
🔴 کوہستان، پاکستان، 27 جولائی 2022۔
اچانک آنے والے سیلاب نے دریا کے راستے میں بڑے بڑے پتھر بہا دیے۔ یہ پانی کی طاقت کا ایک شاندار مظاہرہ ہے، جو بڑے بڑے پتھروں کو بھی حرکت میں لا سکتا ہے۔ https://t.co/MiyHTjSu4H