خان کی اقوام متحدہ میں تقریر جس پر اوریا مقبول جان کا کالم آج بھی پڑھ کر آنکھوں سے اشکوں کا دریا بہہ نکلتا ہے۔ ظالموں تم نے اسکو قید خانے میں ڈال رکھا ہے نبی پاک ﷺ کو کیا منہ دکھاؤ گے جا کر😭
31 اکتوبر1929ء کو غازی علم الدین شہید کو اس میانوالی کے علاقے کی جیل میں تختہ دار پر لٹکایا گیا جہاں سے عمران خان کے ددھیال کا بھی تعلق ہے، لیکن کس قدر حیرت کی بات ہے کہ اس عاشق رسول کے آباء واجداد میں سے بابا لہنا نے جب اسلام قبول کیا تو اس نے لاہور کے سرحدی علاقے برکی ہڈیارہ میں آکر اپنا ٹھکانہ بنایا، یہ وہی برکی ہے جو عمران خان کا ننھیال ہے۔ مجھے کوئی مماثلت نہیں ڈھونڈنی۔
میں تو حیرت میں گم آج سے90 سال قبل آنکھوں میں آنسو لیے علامہ اقبال کے اس چہرے کو اپنے تصور میں لا رہا ہوں جو غازی علم الدین شہید کو لحد میں اتارتے ہوئے ہچکیوں سے رو رہا تھا۔ میانوالی میں شہید کو دفن کرنے کے بعد جب مسلمانوں کا ایک وفد,علامہ محمد اقبال، سر محمد شفیع اور مولانا ظفر علی خان، کے ساتھ گورنر پنجاب سے ملا اور غازی علم الدین کے جسد مبارک کی حوالگی کی درخواست کی، تو وہ اس یقین دہانی پر مان لی گئی کہ امن عامہ کی ذمہ داری آپ لوگوں پر ہوگی۔ پندرہ دن بعد لاہور کی تاریخ نے ایک خیرہ کن منظر دیکھا۔
غازی علم الدین کا جسد مبارک ایسا تروتازہ تھا کہ چہرے پر غسل کے پانی کے قطرے چمک رہے تھے، یوں لگتا تھا جیسے ابھی ابھی غازی علم دین شہید وضو کرکے آئے ہوں۔ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ، ساڑھے پانچ میل طویل، کون تھا جو اس سعادت سے محروم رہتا۔ شہید کو لحد میں مولانا دیدار علی شاہ اور علامہ اقبال نے اتارا۔ میت سرہانے کھڑے آنسوؤں سے تر اس عاشق رسول، عندلیبِ باغِ حجاز، پروانہ شمع رسالت علامہ اقبال نے کہا " ترکھان کا بیٹا آج ہم پڑھے لکھوں سے بازی لے گیا اور ہم دیکھتے ہی رہ گئے"۔
ہر وہ شخص جو سید الانبیاء ؐ کی ناموس اور حرمت سے محبت کرتا ہے، اس کی کیفیت اس وقت بالکل ویسی تھی جب عمران خان عالمی فورم پر سید الانبیاء سے مسلم امت کی والہانہ محبتوں کا اظہار کر رہا تھا۔ ایسے میں میرے پاس اسے نذر کرنے کے لئے آنکھوں میں ڈبڈباتے ہوئے آنسوؤں کے سوا کچھ نہ تھا۔ کون ہے جس کا دل زخمی نہیں ہے، کس کی راتیں برسوں سے بے خوابی میں نہیں گزرتیں کہ اس کے پیارے رسولؐ کی شان میں روزانہ گستاخی ہوتی ہے اور وہ بے بس و لاچار ہے، اس کے بس میں کچھ نہیں، وہ پکار پکار کر بتانا چاہتا ہے کہ میں اس مدینے والی سرکار سے اپنے ماں باپ، بہن بھائی اور اولاد سے زیادہ محبت کرتا ہوں، یہ میرا آخری سرمایہ ہے یہی میرے ایمان کی جمع پونجی ہے۔ لیکن اس کی آواز صدا بصحرا ہے۔
وہ کوئی مولوی ہے تو بس جمعہ کے خطبے میں آواز بلند کر لیتا ہے، کسی تحریک کا سربراہ ہے تو جلوس نکال لیتا ہے، دھرنا دیتا ہے، مفتی ہے تو فتوٰی دیتا ہے، کالم نگار، دانشور ہے تو کالم لکھتا ہے، ٹی وی پر گفتگو کرتا ہے۔ لیکن یہ سب مل کر بھی اپنی آواز ان گستاخانِ رسول اور اسلام دشمنوں تک نہیں پہنچا سکتے اور نہ ہی ان کو عالمی سطح پر اس طرح لاجواب کرسکتے ہیں، جس کا موقع اور استحقاق میرے اللہ نے عمران خان کو عطا کردیا۔
میں تو مالک کائنات کی فرماں روائی کا اس حد تک قائل ہوں کہ کوئی پتّہ بھی اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہلتا ہے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ عمران خان کو ناموس رسالت کیلئے آواز بلند کرنے کی توفیق منشائے الہی کے بغیر ہوئی ہو۔ یہ تو انتخاب ہے اور مجھے اس پرصرف رشک کرنا ہے۔ میرے پاس صرف تشکرکے آنسو ہیں۔ اقوام متحدہ کے 193 ممبر ممالک کے جمِ غفیر میں 57 مسلمان ریاستوں کے سربراہ ہیں اور ان میں سے اللہ نے میرے ہی ملک کے سربراہ کو یہ توفیق عنایت کی۔
شاتمین رسول کا قصہ کوئی تازہ نہیں ہے۔ مغربی دنیا میں اس کا آغاز سید الانبیاء ؐ کے وصال کے تقریبا ڈیڑھ سو سال بعد 780ء میں ہوگیا تھا جب ایک شخص تھیو فس (Theophanes the confessor) نے رسول اکرم ؐ کی شان میں گستاخانہ سوانحی خاکہ تحریر کیاتھا۔ یہ واحد شخص ہے جسے اپنے زمانے کے عیسائیوں کے دونوں بڑے گروہ یعنی رومن کیتھولک اور مشرقی آرتھوڈوکس نے 12مارچ 817ء میں اسکی موت کے بعد اسے ایک قابل احترام سینٹ کا درجہ دیا اور اسے پوری عیسائیت کا مشترکہ راہب قرار دیا۔
اس ملعون کی موت کے بعدسے آج تک یعنی بارہ سو سال تک مغربی دنیا کی پوری علمی تاریخ، اسلام دشمنی، اسلام فوبیا اور سید الانبیاء ﷺ کی گستاخیوں سے بھری ہوئی ہے۔ کوئی بڑا مورخ اٹھا لیں آپ کو اس کی تحریروں میں اسلام اور سید الانبیاء ﷺ سے نفرت ملے گی۔ یہ نفرت اور تعصب ان کی تحریروں میں اتنا واضح ہے کہ وہ تکلیف دہ حدتک جھوٹ بولنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
صوابی پیٹرول پمپ پر اسسٹنٹ کمشنر کا چھاپہ “گیج” چیک کریں زرا۔
یہ ایک تلخ حقیقت ظاہر کرتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ ظاہری عبادت، تسبیح اور عمروں میں پیش پیش ہوتے ہیں، وہی کاروبار میں بددیانتی کر رہے ہوتے ہیں۔
ماتھے کا محراب اور ظاہری تقویٰ کردار کی ضمانت نہیں۔ دین صرف نماز روزے کا نام نہیں، بلکہ لین دین میں سچائی اور امانت داری بھی اس کا بنیادی حصہ ہے۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے اپنے والد کو گولی لگنے کے واقعے سے بھی پہلے، یعنی تین سال سے زائد عرصے سے نہ دیکھا ہے اور نہ ہی ان سے بات کی ہے، جبکہ مارچ سے فون کالز کی بھی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ خاندان کے افراد، وکلاء اور آزاد ڈاکٹروں کو بھی مسلسل رسائی دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ اور بین الاقوامی برادری سے اپیل:
بی بی سی (BBC) کے پروگرام "Verified Live" میں عمران خان کے بیٹے، قاسم خان اور سلیمان خان کا انٹرویو
فرض سمجھ کر شیئر کیا کریں
قاسم خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی قید کے دوران ان کی صحت کی حالت مسلسل خراب ہوئی ہے۔
غیر جانبدار ہسپتال میں علاج کے لیے سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود، انہیں سرکاری ڈاکٹروں کے ذریعے مختصر معائنے کے لیے ایک سرکاری ہسپتال لے جایا گیا، جسے وہ پہلے سے طے شدہ نتائج کے ساتھ ایک ڈرامہ مانتے ہیں۔
سلیمان خان نے اپنی پھپھو (عمران خان کی بہن) کے ذریعے سامنے آنے والے مخصوص طبی مسائل کی تفصیلات بتائیں، جن میں ان کی دائیں آنکھ کی تقریباً 80 فیصد بینائی کا ضائع ہونا، آنکھ پر پٹی، بلڈ پریشر کا بڑھنا، اور 10 ماہ سے زائد عرصے کی تنہائی کی وجہ سے دل کی دھڑکن کا تیز ہونا شامل ہے
پاکستانی حکومت کے ان بیانات کے جواب میں
جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان کی صحت ٹھیک ہے اور انہیں مناسب دیکھ بھال فراہم کی جا رہی ہے، سلیمان نے ٹھوس ثبوت اور غیر جانبدار یا ذاتی ڈاکٹروں کے ذریعے آزادانہ طبی معائنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے اپنے والد کو گولی لگنے کے واقعے سے بھی پہلے، یعنی تین سال سے زائد عرصے سے نہ دیکھا ہے اور نہ ہی ان سے بات کی ہے، جبکہ مارچ سے فون کالز کی بھی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
خاندان کے افراد، وکلاء اور آزاد ڈاکٹروں کو بھی مسلسل رسائی دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔
برطانیہ اور بین الاقوامی برادری سے اپیل:
قاسم نے ذکر کیا کہ اگرچہ برطانیہ کی حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر احتیاط برتنے کا مشورہ دیا تھا، لیکن اب وہ ان سے ملنے اور ان کی حالت کی تصدیق کرنے کے لیے بے چین ہیں۔
خاندان نئی برطانوی حکومت اور دفترِ خارجہ سے تعاون اور مداخلت کا طالب ہے۔:
سلیمان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی حکومت عمران خان کو ان کی بے پناہ مقبولیت اور ان کے سیاسی اثر و رسوخ کے خوف کی وجہ سے ذلت و تنہائی میں رکھ رہی ہے تاکہ انہیں ذہنی طور پر توڑا جا سکے اور ان کی آواز کو خاموش کیا جا سکے۔