اپڈیٹ رات کے 3:39Am
آپریشن الماس بلوچ فدائین میدان جنگ کی تازہ صورتحال سے آپریشنل ک��انڈر کو تفصیلات سے زیادہ کرتے ہوئے کہتے ہے ۔ ساتھی سب محفوظ ہے آور پوزیشن سنبھالے ہوئے ہے ۔ دشمن پر مسلسل دباؤ قائم ہے دشمن شدید تھکاوٹ کا شکار
گوادر: مقامی زرائع کے مطابق 250 باڈر پر فائرنگ کا تبادلہ رک گیا ہے، سکیورٹی فورسز کے جوان دہشتگردوں کی لاشوں کو جمع کررہے ہیں۔ علاقہ اب بھی سیل ہے، کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
#Balochistan
آپریشنل کمانڈ: کیا آپ کا قوم کے لیے کوئی پیغام ہے؟
خاتون جنگجو: میں آپ کی بات سن نہیں سکی۔
آپریشنل کمانڈ: میں کہہ رہا ہوں کہ اس آپریش�� کو آپ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ لوگ آپ کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ آپ اپنا پیغام دیں۔
خاتون جنگجو: جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، ہماری لڑائی جاری ہے۔ میں پوری بلوچ قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ جدوجہد میں شامل ہو اور متحد رہے۔ گوادر کو ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ ہم نے یہ لڑائی شروع کی ہے اور یہ جاری ہے۔ لیکن فورسز (پاکستانی فوج) ہمارا سامنا کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔
میں تمام بلوچوں سے کہتی ہوں کہ ہمارے ساتھ شامل ہوں۔ پنجابی قابض ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ان کی لاشیں ہمارے سامنے پڑی ہیں۔ ہم انہیں نشانہ بنا رہے ہیں اور وہ فرار ہو رہے ہیں۔ وہ بلوچوں کا سامنا نہیں کر سکتے۔
یقین رکھیں کہ گوادر کو ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ ہمارا آپریشن جاری ہے اور جاری رہے گا۔
ایک بار پھر میں بلوچ قوم سے کہتی ہوں کہ ہمارے ساتھ شامل ہوں اور مزاحمت کا حصہ بنیں۔ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
گوادر حملے میں ہلاک ہونے والے ایک اور اعلیٰ عہدیدار کا نام مدثر سامنے آگیا
گوادر: گوادر میں حالیہ حملے میں ہلاک ہونے والے ایک اور اعلیٰ عہدیدار کا نام مدثر بتایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل لیفٹیننٹ کرنل مجاہد حسین کا نام بھی سامنے آیا تھا
بی ایل ایف نے گوادر حملے کی ویڈیو جاری کج جس میں ایک جنگجو گاڑی میں سوار ہوکر پاکستانی فوج کے کیمپ کے گیٹ پر بارودی مواد سے دھماکہ کرتا دکھائی دیتا ہے
بی ایل ایف نے حملہ آور کی شناخت سدو آپریشنل بٹالین سے تعلق رکھنے والے جندندر سرمچار مجاہد مہر عرف سگار زامرانی کے نام سے کی
آڈیو 8
گوادر کیمپ دشمن ہار چکا ہے اور ہم سے جنگ نہیں لڑ سکتا، ہم اب بھی اپنی پوزیشنوں پر مضبوطی سے ڈٹے ہوئے ہیں: سدو آپریشنل بٹالین جندندر خاتون کا کیمپ کے اندر سے گفتگو
گوادر. بلوچستان لبریشن فرنٹ کی جانب سے تازہ پریس ریلیز
جنگ تاحال شدت و جدت سے جاری ہیں قابض فوج کے مزدور کو اس اسنائپر سے جہنم کا راستہ دیکھایا جارہا ہیں
ترجمان میجر گہرام بلوچ
BLF
*_قلات: اطلاعات کے مطابق منگچر کے علاقے چوٹانک میں مسلح افراد نے پاکستانی فورسز اور تجارتی گاڑیوں پر حملہ کیا۔ حملے میں سیکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔
مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔_*
فدائیوں کی سینکڑوں کی تعداد اب بھی پاکستانی فوج کے کیمپ پر موجود ہے، جبکہ کیمپ میں موجود اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد لاشیں اٹھانے کے لیے آنے والوں کو متعدد بار پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے
بریکنگ نیوز:
گوادر میں آٹھ گھنٹوں سے زائد کا وقت گزر چکا ہے، تاہم جنگ اب بھی جاری ہے۔
سینکڑوں فدائیوں سمیت آزادی پسندجنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد دیکھی گئی، جنہوں نے بیک وقت مختلف مقامات پر حملے کرکے شہر کے مختلف حصوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا
بریکنگ نیوز:
گوادر میں آٹھ گھنٹوں سے زائد کا وقت گزر چکا ہے، تاہم جنگ اب بھی جاری ہے۔
سینکڑوں فدائیوں سمیت آزادی پسندجنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد دیکھی گئی، جنہوں نے بیک وقت مختلف مقامات پر حملے کرکے شہر کے مختلف حصوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا
جنگجو فوجی کیمپ کے اندر آپریشن الماس کے آپریشنل کمانڈ کو صورتحال سے آگاہ کر رہے ہیں جنگجوؤں کو ایک ایک گولی سنبھال کر استعمال کرنے کی ہدایت دے رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ گولیوں کا خیال رکھنا ہے شاید جنگ تین دن سے ایک ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد سینکڑوں تک ہوسکتی