دورِ نو کا تقاضا ہے نظر میں رکھنا
گردشِ وقت کو بھی اپنے اثر میں رکھنا
جانے کس موڑ پہ ہو جاۓ گی دنیا دشمن
ہر قدم سوچ کر تم راہِ سفر میں رکھنا
راہِ دشوار میں کام آۓ گی بے شک یہ بھی
باپ اور ماں کی دعا زادِ سفر میں رکھنا
وہ تاروں کے بیچ چمکتا ہوا پورا چاند
اور ہم اسے حسرت سے دیکھتے ہوئے چکور
وہ اپنی محبتوں کی چاندنی بکھیرتا آسماں آسماں
ہم چاندنی کے طالب بھی تو جائیں گے اسی اُوور
سائرہ چکور 🪶بقلم خود
#FIFAWorldcup#sialkot#FootballTickets
سیالکوٹ کے طارق نامی اس بچے کی تصویر نے کھیلوں کی اور خاص طور پر فٹبال کی دنیا ہلا کے رکھ دی تھی۔ حتیٰ کہ امریکی کانگریس میں اس پر بحث ہوئی۔ یہ ایک تصویر اتنی طاقتور ہوسکتی تھی یہ اس میگزین کو بھی شاید نہیں معلوم تھا جس نے یہ شائع کی۔
یہ بات ہے 1996 کی جب یورپ میں فٹبال کا بخار سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ یورپین چیمپئن شپ کا انعقاد ہونے والا تھا اور دنیا بھر میں کروڑوں شائقین اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی تصویریں جمع کر رہے تھے۔ انہی دنوں امریکہ کے مشہور رسالے لائف میگزین نے ایک مضمون شائع کیا جس میں طارق کی یہ تصویر بھی لگائی گئی۔
تصویر میں موجود سیالکوٹ کے رہائشی طارق کے ہاتھوں میں سوئی اور دھاگہ دکھائی دے رہا تھا۔ وہ ایک فٹبال پر کام کر رہے تھے جس پر 'نائکی' کا لوگو لگنے والا تھا۔ مبینہ طور پر انہیں اس وقت اس ایک فٹبال کو سلنے کے 60 سینٹس یعنی پاکستانی قریباً 21 روپے ملتے تھے۔ اس ایک تصویر کے بعد معلوم ہوا کہ سیالکوٹ میں فٹبال بنانے کی صنعت میں چائلڈ لیبر کا استعمال ہو رہا ہے۔ اس وقت انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے جائزے کے مطابق سیالکوٹ میں 7 ہزار بچے فٹبال سلنے کے کام سے منسلک تھے۔
سو جب یہ تصویر میگزین میں شائع ہوئی تو اس وقت بڑی بڑی کمپنیاں لرز اٹھیں۔ نائکی، ایڈیڈاس، امبرو اور پیوما۔۔ ان سب پر تنقید شروع ہوئی۔۔ صارفین نے خریداری بند کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ حتیٰ کہ امریکی کانگریس میں اس پر بحث ہوئی۔ یہاں تک کہ نائکی نے فوری طور پر اپنا مقامی ٹھیکیدار برطرف کر دیا کیونکہ اس ایک تصویر سے دنیا کو پیغام ملا کہ سیالکوٹ میں بچوں سے کام کروایا جا رہا ہے جو عالمی(و قومی) قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ یوں 1997 میں امریکی شہر اٹلانٹا میں فیفا، آئی ایل او، یونیسیف اور سیالکوٹ چیمبر آف کامرس نے مل کر 'اٹلانٹا معاہدہ' کیا جس کے تحت تمام ٹھیکیداروں کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی اور گھروں میں کام پر پابندی لگائی گئی۔
نتیجہ یہ نکلا کہ 1999 تک سیالکوٹ کے تمام فٹبال سینٹرز میں چائلڈ لیبر کا ایک بھی کیس سامنے نہ آیا۔ اس کے تحت 10 ہزار سے زائد بچوں کو تعلیم دی گئی اور 5 ہزار 800 بچوں کو باقاعدہ سکولوں میں داخل کرایا گیا۔
یہ سب اس لیے ہوا کہ فٹبال کی صنعت کے معاملے میں دنیا بھر کی نظریں ہمیشہ پاکستان اور بالخصوص سیالکوٹ پر جمی ہوتی ہیں۔ آپ حالیہ جاری فیفا ورلڈ کپ کو ہی دیکھ لیجیے۔ یہاں میڈ ان پاکستان فٹبال استعمال ہو رہا ہے۔ یہ سب کیسے ہوا؟ ملاحظہ کیجیے۔
سیالومٹ کے خواجہ مسعود اختر نے سول انجینئرنگ کی ڈگری لینے کے بعف پاکستان ریلویز میں ملازمت اختیار کر لی۔ انہیں فٹبال سے کوئی واسطہ تھا اور نہ ہی کھیل کی صنعت سے کوئی شناسائی تھی۔ ان کے چچا کا سیالکوٹ میں سپورٹس کا کاروبار تھا جنہوں نے انہیں اس میدان میں آنے کی ترغیب دی۔ 1991 میں انہوں نے ایک کمرے میں 20 مزدورں کے ساتھ مل کر فارورڈ سپورٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کی بنیاد رکھی۔ ابتدائی دنوں میں کمپنی کے لیے ایک ماہ میں 1 ہزار فٹبال بنانا بھی مشکل تھا لیکن پھر 1994 میں سب بدل گیا۔
ایڈیڈاس نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا اور شراکت داری کا معاہدہ ہوا۔ اس حوالے سے خواجہ مسعود بتاتے ہیں 'ایڈیڈاس کے ساتھ شراکت داری ایک بڑا موڑ تھا. اس کے بعد میں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ناکامیاں آئیں، مشکل وقت بھی آیا لیکن محنت اور استقامت کے ساتھ ہم آگے بڑھتے رہے'
بتایا جاتا ہے کہ 2013 تک فارورڈ سپورٹس ایڈیڈاس کے لیے جرمن بنڈس لیگا، فرانسیسی لیگ اور یوئیفا چیمپئنز لیگ کی گیندیں بنا رہی تھی لیکن اب تہ ورلڈ کپ کا کنٹریکٹ نہیں ملا تھا۔ اس وقت خواجہ مسعود اختر کو خبر ملی کہ 2014 کے برازیل ورلڈ کپ کے لیے ایڈیڈاس کا چینی سپلائر طلب کو پورا کرنے سے قاصر ہو گیا ہے۔ خواجہ مسعود نے ایڈیڈاس کے ایگزیکٹوز کو اپنی فیکٹری میں بلایا اور انہیں اپنا کام دکھایا۔ یہ دعوت کارگر ثابت ہوئی۔ فارورڈ سپورٹس کو 2014 ورلڈ کپ کے لئے آفیشل فٹبال بنانے کا کنٹریکٹ مل گیا۔ اس کے بعد سے اب تک اس کمپنی نے چار ورلڈ کپس کے لئے آفیشل فٹبال بنائی۔ 2019 میں پاکستانی حکومت نے خواجہ مسعود اختر کو ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا۔
جاری فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والا آفیشل فٹبال 'ٹریونڈا' کہلاتا ہے یعنی تین لہریں، جو تین میزبان ممالک کے لئے استعارہ ہے۔ اب یہ فٹبال کوئی عام فٹبال نہیں ہے بلکہ یہ ایک چلتا پھرتامائیکرو کمپیوٹر ہے۔ سوشل میڈیا پر ان دنوں میں انڈین یوٹیوبرز کی ویڈیوز دیکھ رہا ہوں، وہ اس فٹبال پر خوب کنٹینٹ بنا رہے ہیں۔
ان کی ویڈیوز سے ہی معلوم ہوا کہ اس گیند کے ایک پینل کے اندر ایک انرشیا میژرمنٹ یونٹ چپ نصب ہے جو فی سیکنڈ 500 بار گیند کی رفتار، گھماؤ اور ہر لمس کا ڈیٹا ریکارڈ کرتی ہے اور فوری طور پر وی کنٹرول روم کو بھیجتی