مشکے سے تعلق رکھنے والے عبدالحق بلوچ، جو سولہ سال سے جبری طور پر لاپتہ رمضان بلوچ کے چھوٹے بھائی تھے، اپنے خاندان کے ساتھ کئی برسوں سے گوادر میں مقیم تھے اور معمارِ نو اکیڈمی کے پرنسپل لتھے، آج ان کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی ہے۔
عبدالحق بلوچ کو رواں سال فروری میں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا اور کئی ماہ تک ان کے اہلِ خانہ کو ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی، اب ان کی مسخ شدہ لاش کا ملنا بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خطرناک اور مسلسل سلسلے کی ایک اور المناک کڑی ہے۔
عبدالحق صرف ایک استاد اور تعلیم یافتہ فرد نہیں تھے، بلکہ وہ خود بھی اپنے جبری طور پر لاپتہ بھائی رمضان بلوچ کی واپسی کے انتظار اور اذیت میں زندگی گزار رہے تھے
اپنے بھائی کی جبری گمشدگی کے بعد انہوں نے اپنے بکھرے ہوئے خاندان کو سنبھالنے کی ذمہ داری اٹھائی، اور اپنے گھر والوں کے لیے سہارا بنے رہے، مگر آج وہی عبدالحق بلوچ جو سولہ برس سے اپنے بھائی کی راہ تک رہے تھے، خود جبری گمشدگی کا شکار ہونے کے بعد مسخ شدہ لاش کی صورت میں اپنے خاندان کو واپس لوٹائے گئے۔
These are the people chosen to represent Balochistan--people who could care less about their own people, who are so deluded by power that they treat an abstract state as more worthy of empathy than a mother crying for her lost children. This is how brutality is legitimised.
For me, it was Beyond Good and Evil. It’s more direct and analytical. It challenges traditional morality, questions what we call ‘good’ and ‘bad,’ and really digs into power, truth, and human behavior. It made me rethink my assumptions and helped me make decisions more independently.
I feel more free now, no longer seeing myself through other people’s judgments.
زہری سے تعلق رکھنے والی فرزانہ بلوچ کی گرفتاری کو اگر 1 دسمبر 2025 کو اس کے اہلِ خانہ نے ظاہر کیا، تو یہ سوال نہیں بلکہ ایک سنگین الزام بنتا ہے کہ فرزانہ بلوچ گزشتہ تین ماہ اور اٹھارہ دن کہاں تھی؟ یہ تاخیر خود اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا اور اب ایک من گھڑت بیانیہ بنانے کے لیے سامنے لایا جا رہا ہے۔
ریاستی تحویل میں رکھ کر میڈیا کے سامنے کسی بھی خاتون یا فرد سے اعتراف دلوانا ایک پرانا اور بے نقاب شدہ حربہ ہے۔ ماضی میں بھی بلوچ خواتین کو اسی طرح پیش کر کے خودکش بمبار ہونے کے اعترافات کروائے گئے، مگر عدالتوں میں جب ثبوت مانگے گئے تو ریاست کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ تمام مقدمات زمین بوس ہو گئے، مگر کسی نے ان جھوٹے الزامات پر ریاستی اداروں کا احتساب نہیں کیا۔ آج پھر وہی تسلسل دہرایا جا رہا ہے۔
اگر فرزانہ بلوچ کے دعوے درست ہیں اور وہ ان سرگرمیوں ملوث تھی تو حب چوکی کی فاطمہ بلوچ کے کیس پر ریاست کیا جواب دے گی؟ فاطمہ بلوچ کو 13 فروری کو اٹھایا گیا، ایک ماہ سے زائد عرصے تک جبری گمشدہ رکھا گیا، اور پھر 16 مارچ کو خاموشی سے چھوڑ دیا گیا، بغیر کسی الزام، بغیر کسی وضاحت کے۔ کیا یہ کھلا اعتراف نہیں کہ جبری گمشدگیاں ایک منظم پالیسی کے تحت کی جا رہی ہیں؟ اور اگر بلوچستان حکومت واقعی شفافیت اور ذمہ داری کا دعویٰ کرتی ہے تو کیا اس میں اتنی جرات ہے کہ اس جرم پر خود اپنا احتساب کرے؟
بی وائی سی اور اس کی قیادت کو مسلسل مسلح تنظیموں سے جوڑنے کی کوشش دراصل ایک سوچی سمجھی مہم ہے۔ جب من گھڑت مقدمات، گرفتاریاں اور ہراسانی بی وائی سی کو خاموش نہ کر سکے، تو اب کردار کشی، متنازعہ کرنے کی کوششوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر صبیحہ بلوچ سمیت بی وائی سی کی قیادت کے خلاف بنائے گئے کیسز خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست ایک پرامن سیاسی تحریک جو کہ بلوچستان میں جاری ریاستی جبر کو بے نقاب کرتی ہے، اس سے خوفزدہ ہے۔اور ہر باشعور انسان جانتا ہے کہ حراست میں لئے گئے اعترافات کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہوتی ہے اور نہ ہی اخلاقی قدر، یہ صرف ریاستی بیانیہ گھڑنے کا ایک ہتھیار ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے والد کو حراست میں لینا، پھر صبیحہ کو اشتہاری قرار دینا، مسلسل ہراساں کرنا اور اس کے فوراً بعد ایک زیرِ حراست خاتون سے بی وائی سی اور صبیحہ کا نام دلوانا، یہ سب محض اتفاق نہیں بلکہ ایک واضح حکمت عملی ہے۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ریاست دانستہ طور پر پرامن سیاسی کارکنوں اور بی وائی سی جیسی عوامی تحریک کو متنازعہ بنانے کے لیے جھوٹے بیانیے تراش رہی ہے۔
بی وائی سی بلوچستان جاری بلوچ نسل کشی اور ریاستی مظالم کے خلاف ایک متحرک تحریک ہے، اور اگر کسی کو ایسے من گھڑت بیانئے اور ہتھکنڈوں سے لگتا ہیکہ بی وائی سی کی قیادت کمزور ہوگی تو یہ ایک خام خیالی کے علاوہ کچھ نہیں۔
Dilawar was a gentleman, an intellect and a great colleague. Still can't process his death... father of two beautiful kids... Fate of Baloch and Balochistan 😢
Bagh en bahishta bathey DK.💔
I like quiet people. People who are simple, read books, can watch a 2 hour documentary about bees, are crazy smart, but still stay low-key and private.
Absolutely hate the “you deserve better” line. We’ve read Dostoevsky, we know we deserve better. Choosing someone was never about merit; it was about who your soul chooses. If they can’t see that, the real mistake was thinking they were any different.
Op-ed:
"Poverty in Pakistan is not just accidental. It is a consequence of deliberate policy choices, neglect and systemic flaws."
https://t.co/4XORgBXqxo
Adeel Iqbal, a resident of Apsar in Turbat, was forcibly disappeared by the Frontier Corps on March 8, 2023, from the Turbat area of district Kech. After spending 363 days in the custody of security forces, he was eventually released on March 5, 2024.
Today, on June 23, 2025, Adeel was shot dead by unidentified armed men near Park Hotel in Turbat.
This marks the fifth such case in 2025 where a previously disappeared and later released individual has been targeted and killed. Before Adeel, Zakaria, Ehsan Shokat, and Muslim Baloch met similar fates. Niaz Baloch, another formerly disappeared individual, survived a targeted attack earlier this year in Gwadar district.
The Human Rights Council of Balochistan expresses deep concern over this growing pattern of post-release targeting. These attacks reflect a dangerous climate of impunity and pose a grave threat to individuals who have already endured unlawful detention, torture, and psychological trauma at the hands of security forces.
#Balochistan