پولیس کے ڈر سے دوڑنے لگانے والا یہ شخص عورتوں کو لیکچر دے رہا ہے کہ آیا انہیں پولیس میں جانا چاہیئے یا نہیں، اسکی گرفتاری کی ذمہ داری کسی خاتون پولیس افسر کو تو نہیں دی گئی تھی؟
وڈیو اپلوڈ کرنے سے پہلے معزرت خواہ ہوں لیکن یہ ضروری تھی ورنہ اس درندے کو سزا کیسے ملے گی
18 سال سے کم اس پوسٹ سے دور رہیں۔۔۔۔
تیری میری کی ہوندی اے ۔۔او چلیا۔۔۔دھی تے دھی ہوندی اے۔۔🥲
سی سی ڈی کو تلاش کرنے میں مدد کریں ۔۔۔۔۔جہاں انصاف بکتا ہو ۔۔وہاں انصاف ملتا کہاں ۔۔۔۔شیخوپورہ علامہ مشرقی پارک میں افسوسناک واقعہ ۔۔۔۔انسانیت بھی شرما جائے ۔۔۔اس درندے کو سزا کیوں نہیں دی گئی ۔۔۔کوئی غریب پکڑا جائے تو نیفے میں پسٹل یا فل فرائی۔۔۔لیکن یہاں کانپیں ٹانگ گئیں یا ۔۔اب فیصلہ سی سی ڈی کرے کہ اس درندے کا انجام ...30/05/2026 تاریخ کا واقعہ مگر۔۔۔۔شیخوپورہ کے باسیوں کی نظریں اب سی سی ڈی کے انصاف پر ۔۔۔کب ملے گا یا کب ہو گا انصاف
@CMComplaintCell@MaryamNSharif@OfficialDPRPP@CCD_Punjab
ہمارے پاکستان کے لیے اعزاز کی بات یہ ہے کہ امن ڈیل کا اعلان ہمارے پرائم منسٹر نے کیا ہے اور اسے 190 ممالک نے اپنے چینلز پر چلایا ہے
انٹرنیشنل میڈیا یعنی جس انٹرنیشنل میڈیا پر مُلک دشمن شکایتیں لگاتے تھے وہی والا میڈیا
یوتھڑوں کی تقریباً تقریباً سڑ سُڑ گئ ہے
میرے گھریلو ملازم کے گاؤں میں ٹرانسفارمر کل جل گیا۔ لیسکو کے ایک پرانے مہربان ceo کو فون کیا کے کسی کو فون کریں اور مہربانی فرمائیں ۔ ملازمین نے ٹرانسفارمر مرمت کردیا اور 80000روپے لیے اور مرمت کردیا۔ گاؤں والوں نے چندہ جمع کرکے لیسکو کے ملازمین کو ادا کردیا۔ رسید کسی نے نہیں دی۔ باقی آپ اندازہ لگا سکتے ھیں ۔ یہ حال ھے کہ ایک سابق بجلی کا وزیر سفارشی ھو اور موجودہ کابینہ کا رکن بھی ھو اسکی سفارش پہ بھی واردات سے گریز نہیں کیا جاتا۔ عام صارف کا کیا حال ھو گا۔ رقم کی باقاعدہ ادائیگی ھوئ ھے ۔ لیسکو رسید سے انکاری ھے
گالیاں تو مجھے بڑی دیتے مگر سچ لکھنے سے میں بھی باز نہی آتا عوام کو حقائق دیکھنا لازم ہے یہ جو دفتر آپ کو نظر آ رہا یہ ڈنمارک کے وزیراعظم کا سرکاری دفتر ہے آپ نے ڈی پی او حافظ آباد کا دفتر بھی دیکھ لیا ہے
اگلے دن میں نے ڈنمارک کے ایک سکول کی کلاس لی ویڈیو لگائی تو کہتے کہ آبادی کتنی ہے بھائی بات آبادی کی نہی آپ گوگل کر لیجئے ڈنمارک ان چند ممالک میں سے جو ٹیکس کا پیسہ سب سے زیادہ عوام پر لگا دیتا ہے حکمران بہت سادہ رہتے جبکہ پاکستان غریب ملک آبادی زیادہ مگر جو ٹیکس ملتا وہ الیٹ حکمران کی عیاشی پر لگ جاتا ہے یہ فرق سمجھو
🚨دو سو یونٹ تک بجلی مہنگی ہونے جا رہی ہے
شہباز رانا اکانومی کے سئنیر رپورٹر ہیں وہ کہہ رہے آئی ایم ایف کی دستاویزات موجود حکومت لکھ کر معاہدہ کر چکی دو سو یونٹ تک بجلی کے بلوں میں پانچ چھ ہزار اضافہ ہو گا حکومت جھوٹ بول رہی راتب خور بکواس کر رہے ہیں
ایک بات جو پنجاب حکومت کو سمجھ نہی آ رہی اس وقت عوام اپنی روزی روٹی سے تنگ ہے گھروں کے خرچے پورے نہی ہو رہے روزگار ختم ہو رہے غربت بڑھ رہی عام آدمی بجلی کے بل پورے کرنے سے قاصر ہے اس وقت سب سے زیادہ ضروری عوام کے لیے یہ رلیف کہ بجلی گیس پیٹرول سستا ہو
یہ گاڑی G63 Brabus ہے کل اس کی تصویر لگائی تو کسی نے ویڈیو بھیج دی لوگوں نے بتایا یہ 35 کروڈ کی ہے یہ ثاقب چدھڑ کی گاڑی ہے اور اس کی گاڑی سے جو اتر رہے یہ پنجاب کے وزیر اور مریم نواز کے پولیٹیکل سیکٹری ذیشان ملک ہیں یہ ویڈیو ذیشان ملک صاحب نے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ سے خود شئیر کی ہے
دو دن پہلے ایک ویڈیو لگائی تھی جس میں پنجاب میں ایک سکول
میں پسینے میں ڈوبے بچے بیٹھے تھے سکول والوں نے پنکھے بند کر دیے تھے کہ بجلی کا بل زیادہ نا آ جائے فیصل آباد کے ایک سکول میں بچوں کے پاس دریاں تک نہی تھی اب یہ ڈی پی او حافظ آباد صاحب کا دفتر ہے 🥹
راتب خور درباری دو تین روز سے لمبی لمبی پوسٹیں لکھ کر بتا رہے کہ پاکستان میں مہنگائی تو سرے سے موجود ہی نہی ہے آپ پنجاب کے اس غریب بے بس بچے کو دیکھیں آٹا خریدنا بھی مشکل ہوا پڑا ہے اور یہ بچہ شاید کبھی سکول بھی نہی گیا اس کو حساب کتاب کی بنیاد تک نہی پتہ
یہ ایک بڑے ہسپتال کے گریڈ اٹھارہ کے ڈاکٹر اسسٹنٹ پروفیسر کی تنخواہ ہے جو فقط ایک لاکھ چالیس ہزار ہے اگلے دن یہاں ایک بھائی نے لکھا تھا ایک لاکھ تنخواہ والا گاڑی کیسے رکھ سکتا وہ موٹر سائیکل رکھے
اس ایک لاکھ چالیس ہزار میں بجلی گیس پیٹرول کا خرچہ نکال کر کیا بچتا ہو گا کیسے گزارا ہوتا ہو گا؟
یہاں میٹرک پاس راتب خور جو وزارت اطلاعات نے بھرتی کیے وہ ڈیڑھ لاکھ ڈھائی لاکھ تنخواہ لیتے اور سارا دن فقط گالیاں دیتے رہتے ہیں
پنجاب کی عوام کا سزا کے ہزار طریقے بنا رکھے ہیں لاہور کی اس خاتون اسسٹنٹ کمشنر کو دیکھ لیجئے اپنی نگرانی میں غریبوں کو تھپڑ مروا رہی ہیں
غیر قانونی کام اگر مزدور کر رہے تو مار پیٹ بھی اتنا ہی غیر قانونی ہے
لاہور میں اے سی راوی ٹاون حمیرا ارشد کی موجودگی میں صحافی پر تشدد، اے سی صاحبہ کے ساتھ موجود سکواڈ نے پنجابی نیوز چینل سن نیوز کی ٹیم کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انکا کیمرہ بھی توڑ دیا۔ سن نیوز کے مطابق اے سی کی موجودگی میں اینکر کو اٹھا کر ڈالے میں ڈالا گیا اور کیمرہ توڑا گیا۔
پیرا فورس کو سب سے زیادہ یہاں میں ہی ڈیفینڈ کرتا ہوں اسکے لیے میں معذرت چاھتا ہوں
پیرا فورس کی دو نمبری آج خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لی
یہ دوکان فٹ پاتھ پر موجود ہے اور یہ دوکان والا بھی ناپ تول میں ہیر پھیر کرتا ہے
پیرا فورس والے آئے بجائے اس کو جرمانہ کرتے یا اسکی دوکان کو سیل کرتے جو کہ روڈ پر موجود ہے آئے اور دوکاندار کا نمبر لیکر چلے گئے
یعنی رشوت لیکر اس کو دوکان لگانے دے رہے
پنجاب حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے
@MaryamNSharif@AzmaBokhariPMLN@SaimaFarooq@AmjadHafeez19@CMComplaintCell@SMUReforms