میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے ہیں۔ پچھلے چھ ہفتوں سے انہیں مکمل بے خبری کے ماحول میں ڈیتھ سیل میں تنہا رکھا گیا ہے۔ ان کی بہنوں کو ہر ملاقات سے روک دیا گیا ہے حالانکہ عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں۔ کوئی فون کال نہیں، کوئی ملاقات نہیں اور زندگی کی کوئی خبر نہیں۔ میں اور میرا بھائی اپنے والد سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کر سکے۔
یہ مکمل اندھیرا کسی حفاظتی پروٹوکول کا حصہ نہیں۔ یہ ایک جان بوجھ کر کی گئی کوشش ہے تاکہ ان کی حالت کو چھپایا جائے اور ہمارے خاندان کو یہ نہ معلوم ہو سکے کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکومت اور اس کے آقاؤں کو میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی تنہائی کے ہر نتیجے کی قانونی، اخلاقی اور بین الاقوامی سطح پر مکمل ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔
میں عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر جمہوری آواز سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری مداخلت کریں۔ زندگی کی تصدیق کا مطالبہ کریں، عدالت کے احکامات کے مطابق رسائی یقینی بنائیں، اس غیر انسانی تنہائی کو ختم کریں اور پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما کی رہائی کا مطالبہ کریں جنہیں صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر قید رکھا گیا ہے۔
٢٧ویں ترمیم کی دیگر شقوں پر حمایت یا مخالفت کرنا تو سیاسی لوگوں کا کام ہے مگر کسی عہدہ دار کا عدالتوں سے استثناء حاصل کرنا غیر شرعی اور اسلامی نظام انصاف کے منافی ہے ۔
اس طرح دنیاوی عدالتوں سے تو استثناء حاصل کیا جا سکتا ہے مگر اللّہ کی عدالت میں کوئی بادشاہ یا افسر مستثنیٰ نہیں ۔
“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے- نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔
ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی لیے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔
فسطائیت اور جبر میں تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-
فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پہلے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔
یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے- اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہے- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔
عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی
کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔
1/2
Our father gave everything to this country - sacrificing comfort, peace, and safety to fight for Pakistan’s future.
Today, he is silenced, tortured, imprisoned, and completely cut off from us. From the moment we could understand, he taught my brother and me how devastating a corrupt government can be. To see him now accused of that very crime is a cruel, intolerable irony.