سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو:
“ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے۔ جعفر ایکسپریس کا سانحہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے- اس قسم کی منظم دہشتگردانہ کاروائیاں کسی بھی ملک کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہیں۔ دہشتگردی کے واقعات میں فوجی اور سویلینز کی قیمتی جانوں کے ضیاع کا جتنا دکھ ہمیں ہے کسی کو نہیں ہوسکتا کیونکہ تحریکِ انصاف وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس سے تمام صوبوں کی اکثریت جڑی ہے- افسوسناک امر یہ ہے کہ تمام ایجینسیاں دہشتگردی کی روک تھام کی بجائے تحریک انصاف کو ختم کرنے پر لگائی ہوئی ہیں-
تحریک انصاف کی جانب سے نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے بائیکاٹ کا فیصلہ بالکل درست ہے۔ اس اجلاس میں نہ مجھے بلایا گیا، نہ میری رائے لی گئی اور نہ ہی بلوچستان کے نمائندوں کو بلایا گیا- ان کی نیت اس معاملے میں صاف ہوتی تو میری جماعت کے ارکان کو سب سے پہلے مجھ سے مشاورت کرنے کی اجازت دیتے۔ اس وقت تحریک انصاف پاکستان کی واحد جماعت ہے جس کی سپورٹ تمام وفاقی اکائیوں میں موجود ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ سندھ اور پنجاب کے چند مخصوص علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں- ملک کی سب سے بڑی جماعت اور فیڈریشن کی علامت واحد سیاسی پارٹی کے سربراہ کو باہر رکھ کر کون سا اتفاق رائے حاصل کیا جا سکتا ہے؟
اردلی حکومت کی خارجہ و داخلی پالیسیاں ملک کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ دہشتگردی کا مسئلہ صرف تب حل ہو گا جب اس کا سیاسی حل دریافت کیا جائے گا اور لوگوں کی منشاء کے مطابق ان کے فیصلے ہوں گے۔ دہشتگردی کا مسئلہ صرف فوجی حکمت عملی (Kinetic Operations)سے حل نہیں ہو سکتا۔ ہمسایہ ممالک کو لے کر ہماری خارجہ پالیسی آزاد اور خود مختار ہونی چاہیے۔ افغانستان کے ساتھ معاملات بھی بات چیت سے حل ہونے چاہئیے۔ رجیم چینج کے بعد ان کی غیرسنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ بلاول نے پوری دنیا کے دورے کیے لیکن ایک بار بھی افغانستان نہیں گیا- فوجی آپریشنز کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتے، بڑی بڑی جنگوں کا حل بھی مذاکرات اور امن و استحکام کی کوشش سے ہی نکلتا ہے۔
ملک صرف تب ہی متحد اور مضبوط رہ سکتا ہے جب عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، سیاسی جماعتوں کو ان کی جگہ دی جائے اور اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت سے باز رہے۔ اکہتر میں بھی ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگایا گیا پھر جو ہوا وہ تاریخ بھلا نہیں پائی-تب بھی اگر سیاسی جماعتوں کو متوازن مواقع ملتے تو ملک دو لخت نہ ہوتا۔ آج بھی لوگوں کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور ان کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں یہی ماڈل نافذ کیا گیا جس کی وجہ سے آج وہاں کے حالات بے قابو ہیں۔ جب تک عوام کی نمائندہ حکومتوں کو اقتدار منتقل نہیں کیا جائے گا یہ مسائل جوں کے توں رہیں گے بلکہ بڑھتے جائیں گے۔
اردلی حکومت مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے تمام غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ میری اہلیہ کو بے جا جیل میں ڈالا گیا ہے۔ نہ تو یحیٰی خان نے مجیب الرحمٰن کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، نہ جنرل ضیا نے بھٹو کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا، اور نہ ہی مشرف نے کلثوم نواز کو جیل میں ڈالا، مگر اس اسٹیبلشمنٹ نے اخلاقی پستی کی بدترین سطح پر پہنچ کر میری اہلیہ کوبھی جعلی کیسز میں پابندِ سلاسل کر رکھا ہے۔
پچھلے قریباً ایک ہفتے سے میری مواصلات کے ذرائع تک رسائی پر کڑی بندش ہے۔ حالاتِ حاضرہ سے بےخبر رکھنے کیلئے ٹی وی دیکھنے پر پابندی عائد ہے اور اخبار اور کتابوں کی ترسیل بھی معطل ہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی گئی۔ بار بار یاددہانی کے باوجود مروّجہ طریقے کے مطابق 90 دنوں میں میری اہلیہ سے 72 گھنٹے کی ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی۔ میرے ذاتی معالج کو مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی نہ ہی ڈینٹسٹ کو ملوایا جا رہا ہے۔ میرے پارٹی رہنماؤں سے ملاقات بھی نہیں کروائی گئی۔ مجھے مکمل طور پر بے خبر رکھا گیا تا کہ اے پی سی کے بارے میں مجھے علم نہ ہو سکے۔
یہ جو کچھ بھی کر لیں میں ان کی فسطائیت کے آگے نہ ہی پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا- میں پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑا تھا، کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا ۔ چاہے مجھے تمام عمر جیل کاٹنی پڑے۔ میں انشاللہ اپنے ملک اور اپنی قوم کی خودمختاری کے لیے آخری سانس تک لڑوں گا۔”
اپنی نالائقیاں چھپانے پر توجہ دینے کے بجائے اگر کارکردگی پر کام کیا جاتا تو ملک آج بہتر حالت میں ہوتا۔
ملک میں سب سے بڑی آبادی والے صوبے کی لائی گئی سی ایم محترمہ تو واپس والدین پر ذمہ داری ڈال کر بری الزمہ ہو گئیں ہیں۔
ن لیگ نے اتنے سالوں حکومت کر کے بھی اس ملک کو بس سڑکیں اور بسیں دیں ہیں جن پر سفر کرتے کہیں کسی کے ساتھ بھی زیادتی ہو سکتی ہے۔ اور بدلے میں جواب آئیگا والدین کو ساتھ ہونا چاہئیے۔
آفرین ہے ویسے۔
سیکیورٹی ادارے پتہ کریں کہ بڑھتے ان جرائم کے پیچھے کون سے نیٹ ورکس ہیں؟
فائر وال كا استعمال ان ويب سائٹس کے لئیے کریں جو ان جرائم کی وجہ بن رہی ہیں۔
🚨پاکستانی ملٹری انٹیلیجنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بیرسٹر گوہر خان نے فوجی قیادت کو یقین دہانی کراوئی ہے کہ عمران خان کا ایکس /ٹویٹر اکاؤنٹ خاموش رہے گا، اور یہ کام مارچ 2026 سے ہورہا ہے۔
سوالات اٹھتے ہیں کہ، یہ فیصلہ کس نے کیا؟ گوہر خان کو یہ اتھارٹی کس نے دی؟ اور عمران خان کی خاموشی کی کیا قیمت وصول کی؟
انڈیا کے خلاف جنگ کا سیاسی فائدہ اٹھا کر عاصم منیر فیلڈ مارشل بن گیا عاصم منیر نے جنگ میں کیا کیا تھا کام تو ہماری ایئرفورس نے دکھایا تھا اگر فیلڈ مارشل بنانا تھا تو ایئر چیف کو بناتے اور پھر انہوں نے آئین میں ترمیم کر کے اپنے آپ کو پانچ سال کے لیےایک نئے عہدے پر بٹھا لیا ! حامد خان ۔۔
آزاد کشمیر کے لوگوں پر بڑا فخر ہے کہ وہ لوگ ظالم کے آگے ہار نہیں مان رہے۔ ویسے تمام کشمیریوں کی بھی عجیب قسمت ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی فوج ظلم کرتی ہے اور آزاد کشمیر میں پاکستانی فوج کے لوگوں نے ظلم کیا۔
ہر چیز کا علاج کرش کرنا نہیں ہوتا۔ اول تو حق کا نظریہ کبھی کرش ہوتا نہیں اور دوسرا مسلہ یہ ہے کہ ظلم نفرتیں بڑھاتا ہے۔
اگر پورے ادارے کو نفرتیں بٹورنے کی ہر ممکن کوشش کرنے کا شوق ہے تو لگے رہیں۔ اور اگر اتنی ذلت بھری زندگی سے تنگ ہیں تو بات چیت کر کے تمام مسلے حل کریں اور طاقت / بندوق کے زور کو بریک دیں۔ سوشل میڈیا کے زمانے میں نفرتیں ہر جگہ نظر آئیں گی ، بہت ہی غلط زمانہ ہے ظلم کرنے کا۔ سب کچھ ریکوڑڈ ہو رہا ہے ڈیجیٹل آرکائیؤز میں، نسلوں تک سامنے آتے رہیں گے ظلم کے ثبوت!
اسلحے اور طاقت کے زور پر زبردستی نکالے گئے لوگ ہیں۔ سیاسی سوچ تبدیل ہوتی یا کسی لالچ کے لیے جانا ہوتا تو کافی پہلے چھوڑ جاتے۔ سیاسی لوگ تھے کوئی تربیت یافتہ کمانڈوز تو تھے نہیں کہ جرنیلوں سے لڑ جاتے مگر آفرین ہے ڈٹ جانے والوں خصوصاً ان خواتین پر جو یہ لڑائی بھی لڑ گئیں اور آج ملٹری اسٹیبلشمنٹ انہی کی وجہ سے ہلکان ہوئی پڑی ہے۔
اپنی آزادی کیلئے جدوجہد کرنا بہترین جہاد ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے اور اپنی آزادی کیلئے کوشش کرنا اللہ کے نزدیک پسندیدہ ترین عمل ہے۔ اسی وجہ سے آزادی کی خاطر لڑنے والوں کو شہید کا اعلیٰ ترین درجہ دیا گیا ہےاور شہید کا مقام انبیاء کے بعد سب سے اونچا ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں جنہوں نے غلامی کو قبول کیا وہ کبھی بھی ترقی یافتہ نہیں ہو پائیں۔ اس وقت ہم اپنی آزادی کی تحریک میں ہیں جس کے لئے قربانیوں کی ضرورت ہے۔ میں اس آزادی کی تحریک کیلئے اپنی جان بھی قربان کرنے کو تیار ہوں۔ میں اپنے لوگ اور اپنا ملک چھوڑ کر کہیں جاؤں گا۔ میں تو یہیں ملک میں ہوں۔ جتنی مرضی سختی کر لیں یا جو چاہے سزا دے دیں میں ہمیشہ اپنی اور اپنی قوم کی آزادی کیلئے کھڑا رہوں گا۔ فلسطینی اپنی آزادی کی خاطر ہر روز جانوں کی قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ میں بھی ہر سختی کیلئے تیار ہوں۔ اس لئے میں اپنی قوم کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ بھی اپنی آزادی کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے گھبرائیں نہ اس سے پیچھے ہٹیں۔ آزادی آپ کا حق ہے اور آپ کی اس جدوجہد، ان قربانیوں سے اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہوگا۔ ہمارے ملک میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی بلکل ختم ہو چکی ہے جس کے حصول لئے ہمیں کڑی جدوجہد کرنا ہو گی۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
پاکستان زندہ باد۔!
2/2
ابھی حال ہی میں زیارت کے قریب ایک واقعہ پیش آیا، معلوم نہیں ایسا کیوں کیا گیا۔ لیویز اہلکاروں کو بلایا گیا اور انہیں کوئی واضح مقصد بتائے بغیر محض یہ حکم دیا گیا کہ فلاں مقام پر آپ نے جانا ہے۔ اور انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے ہمراہ صرف ایک یا دو میگزین لے کر جائیں۔
دو دو میگزین کے ساتھ ان کو بھیجا گیا۔وہاں ان پر حملہ ہو گیا۔ یہ حملہ کس نے کیا اور کہاں سے ہوا؟
بارہ بجے تک ان کے پاس جو کچھ کارتوس تھے وہ سب ختم ہو گئے۔ وہ اپنے متعلقہ افسران کو ٹیلی فون کرتے رہے کہ ہم پر حملہ ہو رہا ہے اور لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
دن دیہاڑے کوئٹہ چھاؤنی سے بالکل آدھے گھنٹے کے فاصلے پر تھے وہ لیکن امداد نہ پہنچی، یہ ہیلی کاپٹر یہ جہاز کس لیے ہیں؟
کتنے ہی لوگ شہید کردئیے گئے، کتنوں کو زندہ جلایا گیا مگر کسی بھی ذمہ دار شخص نے اس کوتاہی پر نہ تو استعفیٰ دیا، اور نہ ہی حکومت کے فیصلہ سازوں نے کسی ڈی سی، کمشنر، آئی جی یا کسی بریگیڈیئر کو معطل کیا، اور نہ ہی کسی سے بازپرس کی گئی۔ محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی
"Yesterday, the prosecution objected to our evidence, claiming the USB had no forensic verification. Today, we requested an independent forensic examination by an international laboratory, as a government-controlled lab may not provide impartial results due to potential political bias. Once verified, all ministers and journalists featured in the videos must be summoned for cross-examination. Justice requires transparency, not manipulation." _Advocate Faisal Malik
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
بہترین تجزیہ دیا ہے @HabibAkram نے اپنے ولاگ میں جس کا عنوان ہے”آئندہ بھی عمران خان“ - اس کا مفہوم #خان_کی_قید_ملک_کا_نقصان ہے اور اس کے کچھ اہم نکتے یہ ہیں:
- عمران خان کے خلاف سب کچھ کر کے دیکھ لیا مگر بات نہیں بنی
- ایک نئے سروے کے مطابق ۶۲٪ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان ہی پاکستان کے مسئلے حل کرسکتے ہے۔ جو سروے عمران خان کے حق میں ہوتے ہیں، وہ منظر عام پر نہیں آتے۔
- اگلی دو نسلوں کے لیے سیاست کا مہور عمران خان رہیں گے۔
- موجودہ بندوبست محض ایک سراب ہے، اس کا پیچھا کرتے رہے تو سب ہی پیاسے رہیں گے۔
جو لوگ دن رات سوشل میڈیا پر شکوے کرتے ہیں کہ پاکستانی اپنے حق کے لیے نہیں نکلتے وہ جان لیں کہ کشمیر اور بلوچستان میں عوام بڑی تعداد میں اپنے مطالبات کے حق میں باہر نکلے ہیں۔ دونوں جگہوں پر کئی دھرنے جاری ہیں مگر میڈیا میں مکمل بلیک آؤٹ سے خبر دبائی جا رہی ہے۔ اب آپکی ذمہ داری ہے کہ کھل کر انکی کوریج سوشل میڈیا پر کریں انکی آواز کو پوری دنیا تک پہنچائیں۔ تاکہ مایوسی کی جگہ امید جنم لے۔۔۔
علیمہ خان بار بار عمران خان کے لیے بات کر رہی ہیں کہ ان کی قید تنہائی ختم نہیں کی جا رہی اور وہ عوام کو عمران خان کا پیغام دیتی ہیں کہ جو عمران خان نے کہا تھا وہی کیجیے ۔
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
“ملک میں اس وقت آئین و قانون کی نہیں، عاصم لاء کی حکمرانی ہے۔ عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی- اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا- عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے-
اس وقت ملک میں صرف ایک شخص، عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے- جسکی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے- اس دور میں جس طرح عام عوام کا قتل عام کیا گیا، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے سانحات، طاقت کے اس اندھے استعمال کی بدترین مثال ہیں۔ جس طرح نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی گئیں یہ کسی مہذب معاشرے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا-
خواتین پر جتنا ظلم عاصم منیر کے دور میں ہوا ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد بزرگ اور کینسر سروائیوور ہیں، ان کو صرف اس لیے جیل میں ڈالا ہوا ہے کیونکہ انھوں نے تحریک انصاف چھوڑنے سے انکار کیا۔ بشریٰ بیگم کو بھی صرف اس لیے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے تاکہ مجھ پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہ کہاں کا قانون ہے کہ جنھوں نے تحریک انصاف چھوڑ دی ان کے لیے عام معافی اور جو میرے نظریات کا ساتھ دیتے رہے ان پر ہر طرح کا ظلم و جبر۔
ہم غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔
عاصم منیر مجھ پر اور میری اہلیہ پر ہر طرح کا ظلم کر رہا ہے۔ ایسا ظلم کسی سیاسی رہنما کے اہل خانہ کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں نہ ہی میں جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں "یا موت یا آزادی" جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انھیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف نہ فارم 47 حکومت سے مذاکرات کرے گی نہ اسٹیبلشمنٹ سے۔ ایسی کٹھ پتلی حکومت سے مذاکرات کا تو ویسے ہی کوئی فائدہ نہیں جس کا وزیراعظم ہی "پوچھ کر بتاؤں گا" کے تحت چل رہا ہو۔ مذاکرات اس لئے بھی بے سود ہیں کہ جب بھی ہم نے مذاکرات کئے، ہم پر سختیاں اور ظلم مزید بڑھا دیا گیا۔ اس وقت ساری طاقت ویسے بھی ایک فرد واحد یعنی عاصم منیر کے پاس ہے جو اپنی کرسی کی خاطرکسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ ہمارے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اتحادی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کریں گے۔
تحریک انصاف کے تمام عہدیداروں، پارلیمنٹیرنز، آئی ایل ایف اور سینئیر وکلاء کو ہائی کورٹس جانا چاہیے اور وہاں سے تاریخ لئے بغیر نہ اُٹھیں، کیونکہ میرے اور بشری بیگم کے مقدمات کی تاریخیں ہی نہیں دی جا رہیں اور جان بوجھ کر مقدمات کو طوالت دی جا رہی ہے تاکہ ہم جیل سے باہر نہ آ سکیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان مقدمات میں کچھ نہیں رکھا اور آخر کار انہوں نے زمین بوس ہی ہونا ہے لہٰذا ان کو سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں کیا جا رہا۔
سلمان اکرم راجہ پر مکمل اعتماد ہے۔ پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور ملاقات کی لسٹ سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی بھیجی جائیں گی، سلمان اکرم راجہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ہدایات پر عملدرآمد کروائیں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ سے ملاقات میں پیغام۔۔۔ نومبر 4، 2025