"یہ جو میں سب کچھ سن کر بھی انجان بن جاتا ہوں، یہ میرے اندر کے اس درندے کی تسکین ہے جو تمہاری اوقات سے بخوبی واقف ہے؛ اپنی انا کو روندنا میرے لیے اس لیے آسان ہے کیونکہ میرا مقابلہ تم سے ہے ہی نہیں، میرا مقابلہ تو خود میرے اس ضبط سے ہے جو مجھے تمہارا تماشا بنانے سے روکے ہوئے ہے
اک بات بتاؤ ایسا بھی کیا تھا اس میں کے اک عرصہ گزر جانے کے بعد بھی تم اسے بھول نہیں پائی ہو..!!!
کہنے لگی بات یہ ہے کہ اسے عشق کی پہلی شرط معلوم تھی..!!
اسے سننا آتا تھا..!!
وہ آنکھیں پڑھ لیتا تھا..!!! 🍁
ہم یہ تو لکھتے ہیں کہ غریب کو بچے پیدا نہیں کرنے چاہیے، یا شادی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ لیکن ہمیں ان لوگوں کے بارے میں بھی کچھ تو لکھنا چاہیے جن کی وجہ سے غریب اور مڈل کلاس طبقے کی حالت قابل رحم ہے۔
ہمارے معاشرے میں لوگ اپنی زندگی کی اتنی فکر نہیں کرتے جتنی دوسرے کی زندگی کی کرتے ہیں۔ آپ عبادت کرتے ہیں یا نہیں، آپ کی شادی کیوں نہیں ہوئی، آپ کام کیوں نہیں کرتے، آپ کہاں جاتے ہیں، آپ سگریٹ کیوں پیتے ہیں۔ یہ ہر انسان کے ذاتی معاملات ہیں، جیو اور جینے دو۔