فرنٹ لائن پہ رہنے والے اسامہ کو بھی آج وردی میں ملبوس پیشہ ور قاتلوں نے شہید کردیا!
“جوانیاں لٹائیں گے، انقلاب لائیں گے”
واقعی جوانی لٹا گیا اپنے لوگوں کے حقوق کی خاطر.
یہ پہلی وڈیو راولا کوٹ میں داخل ہوتے ہوئے شہید کی آخری تقریر تھی.
دعا ہے کہ ان قاتلوں کو قبر بھی نہ نصیب ہو.
"جب آپ نفرتوں کے اوپر کوئی ideology بناتے ہیں، اُس کا نتیجہ تباہی اور بربادی ہے"
عمران خان کا 2020 میں آزاد کشمیر میں تاریخی خطاب۔ ایک ایک لفظ قیمتی۔
ساتھ کہا
مفاہمت نہ سکھا جبرِناروا سے مجھے
میں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے
”راولاکوٹ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے؟ آخر آزاد جموں کشمیر کی 12 مخصوص نشستوں میں ایسا کیا رکھا ہے جس کیلئے ریاست کے نزدیک لوگوں کا خون بھی حلال ہو چکا ہے ؟ بلوچستان میں بھی صورتحال اسی وقت خراب ہوئی جب وفاقی حکومت نے سادہ معاملات میں بھی سخت پوزیشن اختیار کی۔ اس وقت آزاد جموں کشمیر کے مسئلے کا حل بھی یہی ہے کہ مظفرآباد کی حکومت ہی راولاکوٹ والوں سے بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرے۔“ حبیب اکرم
بریکنگ نیوز 🚨کیسے ملٹری فوج، ظالم ڈکٹیٹر لوگوں کے ذہنوں میں اپنا خوف پیدا کرنے کیلئے ظلم کرتے ہیں؟ اور ہمیں کیسے پچھلے 78 سالوں سے فوج کے معاملے میں بیوقوف بنایا گیا؟ اس پر معید پیرزادہ کا شاندار تجزیہ ملاحظہ کیجیے اور حقیقت سے خود روشناس کیجئے 🔥🔥
آپ جڑانوالہ باغ کے اندر کھڑے ہوتے ہیں اور حیران پریشان رہے جاتے ہیں کہ اتنی چھوٹی سی، تنگ سی جگہ میں جس کے صرف اندر داخل ہونے کیلئے ایک راستہ ہے، جس کے تین طرف اونچی دیواریں ہیں، کوئی باہر نہیں نکل سکتا۔ وہاں پر ایک راستے سے جو ہندوستانی فوج ہے، جنرل ڈائیر کا جو دستہ ہے، وہ اندر Enter کرتا ہے، پوزیشن لیتا ہے، لوگ انکو دیکھ رہے ہیں جو تقریریں کر رہے ہیں، انکو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ ان پر فائرنگ کر سکتے ہیں اور پھر وہ اُنکے اوپر اندھا دھند فائر کھولتا ہے۔ جب جنرل ڈائیر سے بعد میں پوچھا گیا کہ تُم نے یہ بربریت کیوں کی ہے؟ اُس نے کہا میں برٹش امپائر کا خُوف لوگوں کے ذہن میں بیٹھنا چاہتا تھا، میں چاہتا کہ انکو پتہ چلا کہ تُم نے راج کی Obedience کیسے کرنی ہے۔ مطلب اسکو کہتے ہیں Moral Authority۔ پولٹیکل سائنس میں۔ چنگیز خان کھوپڑیوں کے منار کیوں بناتا تھا؟ کیونکہ جس زمانے میں، بارہویں، تیرھویں صدی میں چنگیز خان کی چنگیزیت ہمارے سامنے آئی تھی، تو اُس وقت ویسے بھی رواج یہ تھا کہ جب جنگ ہوتی تھی تو جو Able Bodied Men ہوتے تھے جو جنگی سروس کرسکتے تھے انہیں قتل کر دیا جاتا تھا۔ اُنکی گردن مار دی جاتی تھی، عورتوں کو اور بچوں کو غلام بنا کر بیچ دیا جاتا تھا، تو پھر کھوپڑیوں کے منار بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ کھوپڑیوں کے منانے بنانے کا چنگیز خان نے جو رواج شروع کیا وہ اس لیے تاکہ خوف و ہراس پیدا ہو۔ میسج یہ تھا ہر وہ شہر جس کے لوگ لڑیں گے اور لڑے بغیر سرینڈر نہیں کریں گے وہاں پر یعنی مارا ویسا بھی جاسکتا تھا، لیکن اگر فتح کر لے گی منگول فوج تو اسکے بعد سارے شہر کو آگ بھی لگائے گی اور کھوپڑیوں کے منار بھی بنائے گی اور وہی جو خوف تھا پورے سینٹرل ایشیا کے اندر، مشرقِ وسطیٰ میں، یورپ تک خوف تھا کہ ہمارے ساتھ یہ ہوسکتا ہے۔ Even ہندوستان کے قریب بھی بعض منگول جنگ باز جب آئے تو یہاں پر بھی انہوں نے کھوپڑیوں کے منار قائم کیے۔ نیتن یاہو نے غزہ کے اوپر جو دو سال سے Bombing کی ہے، کیا وجہ تھی؟ Moral Authority، خُوف بیٹھانا، تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ ہم کتنا ظلم تمہارے ساتھ کرسکتے ہیں۔ اب یہ اور بات ہے کہ ہمیں جو کہانی سنائی گئی تھی کہ پاکستانی فوج کی، جرنیلوں کی، ہماری فوج، پیاری فوج، پاک فوج۔ اُس میں ہم یہ Expect نہیں کرتے تھے۔ اصل میں یہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا رہا ہوگا کیونکہ بلوچستان میں تو ہو ہی رہا تھا۔ Former East Pakistan میں تو ہوا ہی تھا۔ کراچی میں خون کی ندیاں تو بہائی ہی گئیں۔ فاٹا کے ساتھ تو ہوتا ہی رہا لیکن اسکے باوجود ہم چونکہ کہ ایک سوہانہ خواب دیکھتے تھے اور جب ہم پیدا ہوئے تو ہمارے جس طرح سے کانوں میں اذان دی جاتی تھی، اسی طرح ہماری پیٹھ کے اوپر بھی انہوں نے ایک لگایا سٹمپ بیوقوفی کا یا کوئی ٹیکہ لگا دیا جس کے نتیجے میں ہمارے دماغ کے خولیے جو ہیں انہوں نے کبھی Grow کیا ہی نہیں اور ہمارے سامنے کی حقیقتیں تھیں کہ ایسٹ پاکستان میں انہوں نے کیا کیا، بلوچستان میں یہ کیا کررہے ہیں، فاٹا میں یہ کیا کررہے ہیں، کراچی میں کیا ہوا، کیسے مختلف گینگ بنائے گئے، کیسے کبھی سپہ صحابہ بنائی گئی، کبھی سپہ محمد بنائی گئی، کیسے قتلِ عام کرایا گیا۔ یہ سب چیزیں ہمارے سامنے تھیں لیکن ہم نے تہیہ کیا ہوا تھا کہ ہماری کھوپڑیاں جو ہیں ایسی ہی رہیں گی اس لیے ہمیں سمجھ نہیں آئی۔ ہمارے سامنے جو اس وقت بہت ہی کرب ناک واقعات ہو رہے ہیں۔ پہلے ہمارے ساتھ اسلام آباد کا واقعہ ہوا 26 نومبر 2024 کا، پھر مریدکے میں واقعہ ہوا 13 اکتوبر 2025 کا، پھر ہم نے آزاد کشمیر کی Valance دیکھی، پھر ہم نے بلوچستان کی Valance دیکھ رہے ہیں۔ یہ تمام چیزوں کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے کہ وہ تمام جھوٹ جو تھا، اس کی تمام کلائی اُتر گئی ہے۔ کسی طرح دیکھاتے ہیں Demon یا ڈائن ہوتی ہے، جس نے بہت خوبصورت میک اپ کیا ہوتا ہے، Horror movies میں دیکھاتے ہیں، بارش ہوجاتی ہے کوئی خطرناک قسم کی، سارا میک اپ اتر جاتا ہے۔ وہ ڈائن جو خوبصورت بنی ہوئی تھی، اسکی جو آٹھ سو سال کی عمر تھی یا آٹھ ہزار سال کی ایک بوڑھیا تھی، وہ وہاں نظر آجاتی ہے۔ یہاں جرنیلوں کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے کہ ان کے چہرے کا تمام رنگ روپ روغن، Pant جو انہوں نے کیا ہوا تھا وہ سارے کا سارا اتر گیا ہے اور انکی اصل حقیقت جو ہے، انکی جو نیچر ہے وہ کھل کر ہمارے سامنے آگئی ہے۔
ایسی ویڈیوز منظرِ عام پر آئی ہیں جن میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ عام شاہراہوں پر نہتے لوگ جان بچانے کی خاطر بھاگ رہے ہیں اور ان پر براہِ راست اس طرح گولیاں برسائی جا رہی ہیں جیسے پرندوں کا شکار کیا جا رہا ہو۔
ہم پاکستان کے ان تمام شہریوں سے—جو جمہوریت، قانون کی بالادستی، اور انسانی حقوق پر کامل یقین رکھتے ہیں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت یا مکتبِ فکر سے ہو—یہ اپیل کرتے ہیں کہ ہم سب کو اس وحشت و بربریت کے خلاف یک زبان ہو کر کشمیری عوام، یا جہاں کہیں بھی غصب شدہ عوامی حقوق کی بات ہو، ان کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے اور اس خون ریزی کی پرزور مذمت کرنی چاہیے۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
@MKAchakzaiPKMAP
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا
بریکنگ نیوز 🚨گیم بدل گئی۔ خُوف کے بُت ٹوٹ گئے۔ فضل الرحمن ایک مرتبہ اسٹبلیشمنٹ پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے۔ تباہی مچادی 🔥🔥
تمہاری حقیقت پوری دُنیا جانتی ہے۔ شہداء کی توہین تذلیل اور تحقیر جو تم لوگوں نے کی ہے وہ کسی اور نے نہیں کی۔ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے تم شہداء کی اوٹ میں چھپنے کی کوشش کرتے ہو۔ کرنل شیر خان کا جنازہ ہم نے ہندوستان کے اصرار کے بعد وصول کیا ہے۔ تم نے اپنے شہداء ہندوؤں کے حوالے کیے۔ تم ان کے جنازے وصول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ تم نے اپنے شہداء کو ہندوؤں کے حوالے کیا اور وہاں سے ایک بیان آیا کہ ہم نے انہیں اسلامی طریقے سے دفن کر دیا۔
سردار امان ان فائر 🔥
ہمارا اس ریاست کے ساتھ مزید گزارا نہیں,
یہ ریاست نہیں بدمعاشو, منشیات فروشوں کا اڈہ ہے, پاکستان میں 99% فیصد منشیات فروشوں کے پیچھے پاکستانی فوجی ہے!! کملمہ پڑھ کر کہہ رہا ہوں!!
سردار امان کی باتیں عوام کی دِل میں تیر ہورہی ہے!!
جاوید ہاشمی ہیرو بن گئے جب عمران خان کے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ اچھے تعلقات تواس وقت بھی خلاف کھڑے ہوگئے
جب نوازشریف گود میں بیٹھے تھے اس وقت بھی کھڑے ہوگئے
نہ ان کی بڑی جماعت ہے
نے آخری پچیس تیس سال شاندار گزارے
مریم نواز کی حکومت نے ان پر بجلی چوری کا پرچہ دیا اندازہ کریں
عمران ریاض خان
پاکستان کی ایجنسیز سمجھتی ہیں کہ نواز شریف کو غیر ملکی ایجنسیز آپریٹ کرتی ہیں یا انکے ساتھ رابطے میں رہتی ہیں!
نواز شریف نے اوسلو ناروے کا ایک غیر ملکی دورہ بنایا، جس دن جانا تھا اس دن پشاور میں دھمکا ہو گیا اور سو کے قریب بندے جاں بحق ہو گئے، ان سے کہا گیا وہ اس غیر ملکی دورے کو ملتوی کر دیں،ل۔ لیکن نواز شریف نے اپنا وہ دورہ ملتوی نہیں کیا، نواز شریف نے بڑی بے رحمی اور بے حسی کا مظاہرہ کیا کہ سو بندہ مر گیا ہے اور وہ اپنے غیر ضروری دورے پر چلے گئے، ریڈیسن ہوٹل میں قیام کی دوران انھوں نے اپنے اسٹاف سے کہا جاؤ تم لوگ اسلو دیکھو میں آرام کرنا چاہتا ہوں جب سارا اسٹاف باہر چلا گیا اب یہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیزز کی رپورٹ ہے کہ اس دن نواز شریف سے ہوٹل میں جو شخص تنہائی میں ملا اسکا نام تھا سجن جندال۔ بعد میں اندازہ ہوا کہ وہ یہ دورہ کیوں نہیں مس کرنا چاہتے تھے،اور سجن جندال صرف بزنس مین نہیں ہے اسکے بارے میں پاکستانی ایجنسیز کو یقین ہے کہ وہ بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ را کا آپریٹر بھی ہے!
لیکن نورین خان کی ایک معمولی سی بات کا تماشہ بنانے والوں نے ملک کے غداروں کو اس ملک پہ مسلط کیا ہوا ہے جو خود را کے ایجنٹوں سے خفیہ ملاقاتیں کرتے رہے آج یہ محب وطن اور باقی سب دشمن ہو گئے ؟!
#PAKWatch🇵🇰: Today, THOUSANDS of Pakistanis led by Iqbal Afridi JOINED THE STREET MOVEMENT in Khyber Pakhtunkhwa.
PAKISTAN IS FED UP WITH MILITARY RULE.
FREE IMRAN KHAN.
بھٹو اور عمران خان کا کوئی موازنہ نہیں۔ بھٹو ایک کمپرومائزڈ انسان تھا، جس کے پاس عمران خان کے مقابلے میں آدھا عوامی مینڈیٹ بھی نہیں تھا۔ عمران خان اس وقت چاروں صوبوں میں عوامی مینڈیٹ رکھتے ہیں۔
یہ لوگ چاہے جو بھی کر لیں، وہ عمران خان کو زیادہ دیر جیل میں نہیں رکھ سکتے۔ ایک مہینہ، دو مہینے، تین مہینے، لیکن آخرکار انہیں عمران خان کو رہا کرنا ہی پڑے گا! جاوید ہاشمی ۔