“1971 میں جب سقوط ڈھاکہ کا افسوسناک سانحہ پیش آیا تب بھی ایک ڈکٹیٹر یحیٰی خان ملک پر مارشل لاء نافذ کر کے کرتا دھرتا بنا ہوا تھا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد حمود الرحمان کمیشن بنا جس نے بتایا کہ یحیٰی خان نے اپنے ذاتی مفاد اور اپنے ناجائز اقتدار کو دس سال تک طول دینے کے لیے ایسے فیصلے کیے جس سے پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔
حمودالرحمان کمیشن رپورٹ اعلیٰ عدلیہ سمیت آرمی، نیوی اور ائیر فورس کے نمائندوں کی تحقیقات کے بعد بنائی گئی۔ ان تحقیقات کے دوران سینکڑوں لوگوں کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے اور 4 سال اس سانحے کی وجوہات پر تحقیقات کی گئیں۔
حمود الرحمان کمیشن کے مطابق ایک شخص کی ہوس اور انا نے ظلم و جبر کا وہ باب رقم کیا جس کے بعد ملک ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔سب سے غلط فیصلہ شیخ مجیب الرحمان کی مقبول ترین جماعت عوامی لیگ کو دبانے کا تھا۔ جس پارٹی نے 162 میں سے 160 نشستیں جیتیں اسے دیوار سے لگا دیا گیا اور مجیب الرحمان کو جیل میں ڈال کر مغربی پاکستان میں اپنی نشستیں بڑھا کر دکھائی گئیں۔ 24 مارچ 1971 کو مجیب الرحمان کے ساتھ مذاکرات شروع کیے گئے مگر اسی رات بنگالیوں کے خلاف آپریشن لانچ کر دیا گیا جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 50 ہزار افراد کا خون بہا جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
آج پاکستان میں وہی حالات بنا دئیے گئے ہیں جو 1971 میں تھے۔ عاصم منیر نے نو مئی کا فالس فلیگ ملک کی مقبول ترین پارٹی تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے کروایا۔ دو راتوں میں تحریک انصاف سے منسلک دس ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ 10 ہزار لوگوں کو دو راتوں میں بغیر تحقیق گرفتار کر لیا جائے؟ اس کے بعد پارٹی کو کچلنے کا سلسلہ شروع ہوا- ملک کی سب سے بڑی جماعت کی تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی، کوئی تحریک انصاف کا پرچم اٹھاتا تو اسے اٹھا لیا جاتا، ہمارے امیدواروں اور ان کی فیملیز کو اغوا کیا گیا۔ ہم سے ہمارا انتخابی نشان تک چھین لیا گیا مگر عوام نے 8 فروری کو باہر نکل کر اس سارے بیانیے کو زمین بوس کر دیا۔”
- عمران خان
#غدار_کون_تھا
#ذہنی_مریض_نامنظور
یہ فاشزم ہے، بدترین آمریت ہے،خوف ہے،انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، انتقام ہے۔۔۔۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید افواہوں کے باوجود آخر ان کی بہنوں اور پارٹی لیڈروں سے ملاقات کیوں نہیں کرائی جارہی؟یہ ان کا بنیادی انسانی حق ہے۔
سنگین ترین کیسز میں قید ملزموں کی بھی قانون کے تحت ملاقاتیں کرائی جاتی ہیں۔ عمران خان کو یہ رعایت کیوں نہیں مل رہی ؟
عمران خان کی ملاقاتیں نہ کرانے کا فیصلہ غلط ، نامناسب، ناجائز اور سخت قابل مذمت ہے۔
Imran Khan has once again been vindicated, as the IMF’s latest report flags serious corruption and governance issues under the current regime.
#ذہنی_مریض_نامنظور
عاصم منیر جیسا ذہنی مریض اقتدار کی لالچ اور طاقت کے نشے میں ہر حد عبور کر چکا ہے۔ اگر عاصم منیر نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہوتا تو آج نمرود ، فرعون اور یزید کے انجام کو دیکھ کر اس سے سبق حاصل کرتا ۔ لیکن شائد قدرت کا یہ اصول ہے کہ وہ ہر ظالم کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیتی ہے اور وہ طاقت کے نشے میں اپنے بد ترین انجام سے غافل ہو جاتا ہے۔
#ذہنی_مریض_نامنظور
🚨🚨
مُحترم انصار عباسی صاحب، پہلی بات جسٹس بابر ستار نے موصوف شوکت صدیقی کی سُپریم جوڈیشل کونسل میں کاروائی کے دوران اُنکی معاونت کی تھی۔ دوسری بات جو بہرحال زیادہ اہم ہے کہ وقت نے ثابت کیا ججز نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کاُ ساتھ نہ دے کر بالکل درست اور دورس سوچ پر مُشتمل فیصلہ لیا کیونکہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کروڑوں روپے کی مراعات “بحالی” کے بعد جوڈیشل کمیشن میں اسٹیبلشمنٹ کے “امپورٹ شُدہ” جسٹس سرفراز ڈوگر کو چیف جسٹس بنانے کے لیے ووٹ دے کر اپنا اصل مکروہ چہرہ قوم کو دکھایا۔ تو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اصل “گٹھ جوڑ” پانچ ججز کا تھا یا شوکت صدیقی کا؟ اب زرا ہاتھ اُٹھائیے اور ایک دُعا آپ اور تمام پڑھنے والے میرے ساتھ کریں۔
“اسٹیبلشمنٹ کے تمام ٹاؤٹ ججز، صحافیوں، سیاستدانوں، وُکلا، صنعتکاروں اور جاگیرداروں پر خُدا کی لعنت ہو۔” آمین
ایک فوجی آفیسر کی یہ جرات کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ عوام کی منتخب کی ہوئی کسی بھی حکومت کو قبول نہ کرنے کی بات کرے۔ یہ غیر آئینی بیان ہے جسکی سیاستدانوں، صحافیوں، وکلا سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو مذمت کرنی چاہئے ۔
“وادی تیراہ میں بمباری سے معصوم بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کے جانی نقصان پر میں شدید رنجیدہ ہوں۔ میں ایک سال سے بارہا اس بارے میں پیغام بھیج رہا ہوں کہ ان علاقوں میں آپریشن نہ کیا جائے اور نہ ہی collateral damage کے نام پر معصوم لوگوں کی جانوں کا ضیاع ہونا چاہیئے، کیونکہ اس سے دہشتگردی میں مزید اضافہ ہوتا ہے- افسوس کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کے ٹریپ میں آگئی ہے۔
ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کی مثال سب کے سامنے ہے۔ ہمارے دور میں اشرف غنی نے ہمیں بتایا کہ آپریشن سے دہشتگردی میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ معصوم لوگ مارے جاتے ہیں اس سے پہلے حامد کرزئی نے امریکیوں کو بتایا تھا کہ جب بھی آپریشن ہوتا ہے بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں اور ان میں سے 90 فیصد طالبان کے ساتھ اس لیے شامل ہوتے ہیں تاکہ اپنے غم و غصے کا اظہار کر سکیں۔
ہم نے اپنے دور میں افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر کیے جس سے ہمارے قبائلی علاقوں میں بھی امن آیا، مگر عاصم منیر نے آتے ہی اس ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ افغانستان کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دئیے گئے، دہائیوں سے مقیم افغان مہاجرین کو خوش اسلوبی سے نہیں بلکہ دھکے دے کر ملک بدر کیا گیا اور وہاں ڈرون حملے کیے گئے جس سے تعلقات مزید خراب ہوئے۔
عاصم منیر کے یہ سب کرنے کے پیچھے یہ مقاصد ہیں
1) خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو غیر مقبول کرنا
2) مغرب میں اینٹی طالبان لابیز کو خوش کرنا اور یہ ظاہر کرنا کہ عاصم منیر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے
عاصم منیر ساری دنیا میں پھر رہا ہے لیکن اگر تدبر سے کام لے تو سب سے پہلے افغانستان جا کر ان سے بات کرنی چاہیے، جو ہمارا برادر اسلامی ملک بھی ہے اور جن کے ساتھ ہم ڈھائی ہزار کلو میٹر کی سرحد رکھتے ہیں۔ قبائلی علاقوں اور خطے کے امن کے لیے ضروری ہے کہ چار فریقین افغانستان کی حکومت، پاکستانی حکومت، قبائلی اور افغانی عوام مل کر بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں تاکہ امن کا راستہ نکلے اور مزید نقصان سے بچا جا سکے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو (24 ستمبر، 2025)
1/2
“The leaked Commonwealth report about the elections of February 8th (2024) has once again revealed the brazen electoral fraud used to shamelessly steal our mandate. According to the Commonwealth, this report had already been officially submitted to the Government of Pakistan, yet individuals like Sikandar Sultan Raja, who are utterly devoid of conscience, played a central role not only in facilitating electoral theft but also in concealing it. The law in Pakistan prescribes severe punishment for election fraud: Article 6 of the Constitution applies. However, every law in our country is currently rendered meaningless, except the ‘Asim Law’.
Individuals like Liaquat Chattha are commendable who prioritized the voice of their conscience over jobs and titles. After this theft, a massacre was perpetrated, and the 26th Constitutional Amendment was imposed. The judges who spoke up against the amendment also deserve to be appreciated.
The time for accepting a government that originated from a rigged election as legitimate is over. That is why resignations from the Senate and parliamentary committees have been tendered.
My message to my party's parliamentarians is to neither fear the ‘Asim Law’ imposed upon the country, nor the prospect of imprisonment. A single individual seeks to crush you merely to satisfy his own lust for power. The more you fear them, the more they will suppress you. You are standing on the side of truth, and truth gives man courage. Victory belongs only to the truth.”
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Family Members in Adiala Jail (September 15, 2025)
1/3
“A false flag operation is being orchestrated along the lines of May 9th (2023) against Afghans and people of the tribal areas. Relations with Afghanistan have been deliberately sabotaged since Asim Munir assumed charge, with continuous provocations to push them into war with Pakistan, all to appease the lobby that opposes the current Afghan government and to project himself before the West as the supposed ‘savior’.
First, grave threats were issued to the Afghan government; then, in blatant violation of religious, moral, and international refugee rights, Afghan brothers who had been residing in Pakistan for three generations were forcibly expelled. Then attacks were launched on Afghan soil, and now, operations have been initiated in the tribal areas under the pretext that ‘terrorists have arrived’.
Because of these policies, our own people are being martyred everywhere: police personnel, soldiers, and innocent civilians being martyred are all our own. This approach can never establish peace. Lasting peace only comes through dialogue.
Now, for the establishment of peace in Afghanistan and the tribal regions, three stakeholders must necessarily be brought together. First, the people of Pakistan’s tribal areas; second, the Afghan government; and third, the Afghan people. No operation can succeed without the cooperation of these three stakeholders, nor can any sustainable solution be found.
What is being attempted in Khyber Pakhtunkhwa is merely to discredit the PTI government. A military operation will only fuel further terrorism, and as the police are diverted to counter rising terrorism, governance and law-and-order will collapse. Such policies were also adopted during the tenure of the ANP government.
All MPAs, MNAs, and Senators of Khyber Pakhtunkhwa must sit together with the Chief Minister to urgently resolve the challenges of the province. Special measures must be taken to maintain peace in those areas recently affected by floods.
Our allies, under the leadership of Mahmood Khan Achakzai, should take a peace delegation to Afghanistan and seek solutions through dialogue.”
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Family Members in Adiala Jail (September 15, 2025)
2/3
“افغانوں اور قبائلی عوام کے ساتھ بھی نو مئی کی طرز پر ہی ایک فالس فلیگ رچایا جا رہا ہے۔ جب سے عاصم منیر کو چارج ملا ہے افغانستان کے ساتھ تعلقات جان بوجھ کر بگاڑے جا رہے ہیں اور انہیں مسلسل پاکستان سے جنگ شروع کرنے پر اکسایا جا رہا ہے، تاکہ موجودہ افغان حکومت کی مخالف لابی کو خوش کیا جائے اور مغرب کے سامنے ایک “نجات دہندہ” بننے کی کوشش کی جائے-
سب سے پہلے افغان حکومت کو سنگین دھمکیاں دی گئیں، پھر مذہبی، اخلاقی اور پناہ گزینوں کے عالمی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین نسلوں سے پاکستان میں مقیم افغان بھائیوں کو دھکے دے کر ملک سے نکالا گیا، اس کے بعد افغانستان کی سرزمین پر حملے کیے گئے اور اب یہ کہہ کر کہ “دہشت گرد آ گئے ہیں” قبائلی علاقوں میں آپریشن لانچ کر دئیے گئے۔
ان پالیسیوں کی وجہ سے ہر جانب ہمارے ہی لوگ شہید ہو رہے ہیں- پولیس اہلکار، فوجی اور عام بے گناہ لوگ جو شہید ہو رہے ہیں سب ہمارے اپنے ہیں۔ اس طرز عمل سے کبھی امن قائم نہیں ہوتا، پائیدار امن ہمیشہ بات چیت سے قائم ہوتا ہے۔
اب افغانستان اور قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے تین فریقوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی عوام، دوسری افغان حکومت، اور تیسری افغانستان کی عوام- ان تین فریقین کی مدد کے بغیر کوئی کامیاب آپریشن یا پائیدار حل نہیں ہو سکتا۔
خیبر پختونخوا میں جو کچھ کرنے کی کوشش ہے وہ صرف تحریک انصاف کی حکومت کو غیر مقبول کرنے کے لیے ہے۔ ملٹری آپریشن سے دہشتگردی مزید بڑہے گی اور جب پولیس اسی بڑھتی ہوئی دہشتگردی کو کنٹرول کرنے میں لگے گی تو گورننس اور امن و امان کا بیڑا غرق ہو جائے گا- ایسی ہی پالیسی اے این پی کی حکومت کے دور میں بھی اپنائی گئی تھی۔
خیبر پختونخوا کے تمام ایم پی ایز، ایم این ایز اور سینیٹرز وزیراعلی کے ساتھ بیٹھ کر وہاں کے مسائل کا جلد سے جلد حل نکالیں۔ خصوصی طور پر جن علاقوں میں سیلاب آیا ہے وہاں امن قائم رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔
ہمارے اتحادی محمود خان اچکزئی کی قیادت میں ایک امن وفد لے کر افغانستان جائیں اور وہاں بات چیت سے مسائل کا حل تلاش کریں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵)
2/3
“مراد سعید میرے وفادار ترین ساتھیوں میں سے ہے اورحقیقی آزادی کی تحریک کا اہم ترین حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔ اس کے بارے میں قیاس آرائیاں بند ہونی چاہییں۔ وہ میری ہدایات پر ہی انڈرگراؤنڈ ہے۔ مجھے باوثوق ذرائع سے اطلاعات ملی تھیں کہ اس کی جان کو شدید خطرات ہیں- مجھے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنا کر میرے خلاف بطور گواہ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اس نے انڈرگراؤنڈ ہونے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ہر موقع پر میری ہدایات کے مطابق حقیقی آزادی کی تحریک میں فعال کردار ادا کیا ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے وکلأ کے ذریعے پیغام۔۔۔ (9 ستمبر، 2025)
3/3
“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے- نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔
ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی لیے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔
فسطائیت اور جبر میں تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-
فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پہلے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔
یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے- اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہے- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔
عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی
کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔
1/2
یہ کھلی قتل کی دھمکیاں ہیں، یہ سیاسی ،عدالتی قتل کے ڈراوے ہیں، ایک مقبول سیاسی رہنما کو 2 سال قید میں رکھ کر مقاصد حاصل نہ ہونے پر پھر میڈیا کے ذریعے کھلے عام اس طرح کی دھمکیاں دینا افسوسناک اور شرمناک ہے۔
عدالتیں اگر چہ کینگرو کورٹس بن گئی ہیں لیکن پاکستان تحریک انصاف کے لیڈرشپ کو کو اپنے اسیر بانی لیڈر کو ملنے والی یہ دھمکیاں عدالتوں کے نوٹس میں لانا چاہئے۔
اقبال اور قائد کے پاکستان میں اختلافی سیاست جرم بن گیا ہے۔
معافی کس سے ؟؟؟
مفافی مانگنے سے نہ صرف سیاسی مصالحت ممکن ہے بلکہ معافی مانگنے سے الیکشن ہار کر بھی حکومت اور وزرات عظمی کاملنا بھی ممکن ہوجاتا ہے۔
اور معافی نہ مانگنے کی صورت میں اڈیالا میں راولپنڈی کی مہمان نوازی ملتی ہے۔
" In these dark days of unprecedented oppression and tyranny, the massive turnout of the Pakistani nation in response to the August 5th call for protest is not only admirable, it is a powerful sign that a new dawn is beginning to break through the long-standing darkness of injustice that has engulfed our country. The way people took to the streets, despite extreme fascism, to assert their constitutional rights is highly commendable.
I extend special appreciation to the people of Punjab, who broke through the shackles of fear despite raids and arrests. The citizens of Sindh, Balochistan, Gilgit-Baltistan, Azad Kashmir, Punjab, and Khyber Pakhtunkhwa, who participated in the nationwide protests on August 5th in such large numbers, deserve admiration. A nationwide protest of such magnitude, despite immense pressure on the leadership, is a remarkable display of public awareness and awakening.
Never before in Pakistan’s history has any dictatorship, even under martial law, perpetrated such levels of cruelty as are being carried out today by Asim Munir under his ‘Asim Law’. This can only be compared to the era of Yahya Khan, when brutal fascism was unleashed upon Mujibur Rahman's party and the public, crushing democratic will and, ultimately, splitting the country in two, all for the sake of holding on to power. What is happening in the country today painfully echoes the Fall of Dhaka. Then too, democracy was strangled, rule of law eliminated, freedom of media and the right to protest denied, and the law of the jungle imposed. Deliverance from this system of oppression is only possible if the nation stands united.
The next significant milestone in our movement is the 14th of August: the day our forefathers, after immense sacrifices, secured independence from British colonial rule. Yet, the nation continues to be deprived of true freedom. Without the restoration of the Constitution and the rule of law, independence will remain an illusion. On August 14th, the entire nation must once again rise against the fascism gripping our beloved country.
We must liberate ourselves from this mafia. And true liberation is only possible when a nation is willing to make sacrifices. I am enduring the most inhumane conditions in prison for the sake of my people. Even fellow prisoners here acknowledge that no ordinary inmate is subjected to the kind of treatment that I am being subjected to. In their futile attempt to break me, my wife Bushra Bibi is also being held in deplorable conditions. Yet, I remain steadfast in my commitment to the supremacy of the Constitution and the restoration of democracy. Achieving genuine freedom will require collective sacrifice from all of us.
I will never bow down before this ‘Dacoits and Duffers Alliance’, nor will I ever accept ‘Asim Law’. Even if I must spend the rest of my life in prison, I am ready.
Remember: no force in the world can defeat a brave nation. I urge all Pakistanis to cast aside the fear of imprisonment. A special message to the leadership of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI): abandon your fear of jail and rise to lead the people, answering the call of democracy.
The military operation in Khyber Pakhtunkhwa is being conducted solely to weaken PTI. A similar operation was launched during the ANP's tenure, and by adopting Musharraf-era failed policies, ANP was eventually wiped out from Khyber Pakhtunkhwa. I have always maintained that military operations are never a solution, they only breed more terrorism, hatred, and destruction. A new operation must not be conducted in the tribal areas. The problems of that region can only be resolved through dialogue with local leaders and elected representatives. The merciless expulsion of Afghan refugees, merely in anticipation of a reaction from Afghanistan that never came, is deeply regrettable. 1/2
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)