اس میں گھر والوں کا اعتبار توڑنے کی ہمت نہیں ہوتی ۔اب سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کوئ نہیں دیکھے گا ملتے ہوئےکوئی نہ بھی دیکھ سکے لیکن وہ ��ب تو ہر بات کا علم رکھتا ہےکیا اس کا دیکھنا کافی نہیں؟جب گھر والے ��نکھیں بند کر کے اعتبار کریں وہ بھی ایمانداری سے ان کی عزت کی حفاظت کرے گی
ایک لڑکی اکیلی تم سے ملنے سے کیوں ڈرتی ہے؟
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کو تم پر اعتبار نہیں ہے۔ایک لڑکی کسی سے صرف بات کرنے پر بھی متفق نہ ہو کہ کہیں وہ اسے بدنام نہ کردے ۔
اس کو تم پہ اعتبار ہے تو تم سے بات کرتی ہے۔
مجھے اس سے محبت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت میں اس ماضی کے جملے کا کوئی وجود نہیں۔
محبت اور چاہت تو ہمیشہ دلوں میں قائم رہتی ہے۔
کوئی پاس رہے یا بہت دور اذیت ہمیشہ رہتی ہے مگر چاہت ختم نہیں ہو پاتی۔
جبکہ انسان خود ختم ہونے لگتا ہے۔
تم سے میری محبت درخت پہ لگے پتوں کی طرح ہے
اور میرا دل ایک ذرخیز زمین کی طرح ہے
پتے، سوکھ کے گر بھی جائیں
لیکن میری دل میں محبت ہمیشہ ایسے قائم رہے گی جیسے پتے سوکھ کر گرنے کے بعد زمین میں مل تو جاتے ہیں لیکن ہمیشہ زمین میں ہی رہتے ہیں۔
عیشہ