آج ایک پوڈکاسٹ میں نوجوان گریجویٹس کے مستقبل، کیریئر اور نئے مواقع پر بہت اچھی گفتگو ہوئی۔ایک بات بار بار سامنے آئی: شعبہ کوئی بھی ہو… اگر مستقل مزاجی ہو تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔
آج کے دور میں اصل طاقت consistency، learning اور patience ہے۔
جو لوگ ڈٹے رہتے ہیں، وہی آگے نکلتے ہیں۔
“There was no concept of shalwar kameez in Karachi during the 60s and 70s,” said Anees Sheikh during KIBTF 2026 session.
#TOKxKIBTF2026#Karachi#TOKReports
بڑی بریکنگ بڑا انکشاف
سابقہ سیکرٹری خارجہ اور سینیٹر جان کیری نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ جنگ کرنا چاہتے ہیں تو اس جنگ کا کوئی مقصد ہونا چاہئے، عوام آپ کے ساتھ ہونے چاہئیں اور آپ کے اتحادی اس جنگ میں آپ کی حمایت کر رہے ہوں مگر یہ جنگ تو صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کی خواہشات پر شروع کردی، نہ اس کا کوئی مقصد ہے نہ عوام ساتھ ہیں اور نہ ہی اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے.
کراچی ہو یا بیرونِ ملک… IT hiring میں ایک عجیب خاموشی چھا گئی ہے۔ وہ رش، وہ demand اب دکھائی نہیں دیتی۔ اپنے جس دوست سے بات کرو… ہر کوئی پریشان ہے، جگہ جگہ layoffs ہو رہے ہیں۔
وجہ سادہ ہے,کمپنیاں اب ہر کام سے پہلے یہ دیکھ رہی ہیں کہ کیا یہ AI سے نہیں ہو سکتا؟ اور اکثر جواب “ہاں” ہوتا ہے۔ ایک بندہ + AI آج تین لوگوں کا کام کر رہا ہے۔
اب Claude اور اس کے Coworker جیسے tools، اور دیگر coding AI tools کے ساتھ… coding صرف keyboard سے نہیں، بلکہ انگریزی بول کر بھی کروائی جا رہی ہے۔
اے آئ کی روزانہ کی بنیاد پر ترقی حیران کر دیتی ہے۔ ویڈیو، کوڈنگ اور ڈیولپمنٹ کی صلاحیتیں ایسی رفتار سے بڑھ رہی ہیں کہ انسانی صلاحیتیں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ آنے والے مہینوں میں جاب انڈسٹری میں یہ ہلچل سب کو صاف نظر آئے گی۔
ہمارے اپنے ادارے میں بھی یہی ہو رہا ہے… جو کام ہم پہلے 25–26 لوگ مل کر نہیں کر پاتے تھے، آج وہی کام 5–6 لوگ AI کے ساتھ زیادہ بہتر اور تیزی سے کر رہے ہیں۔
یہ آئ ٹی میں نئے کیرئیر بنانے کا اختتام نہیں… مگر ایک بہت سخت تبدیلی کا دور ہے۔ اب صرف coding کافی نہیں، AI کے ساتھ کام کرنا ہی اصل skill ہے۔ جو سیکھ گئے وہ آگے نکل جائیں گے، جو ذہنی طور پر تیار نہیں… ان کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ یقینی ہے، یہ مشکل ترین وقت ہے۔
یا تو اے آئ سے شادی کرلیں…
یا دیگر شعبوں کی طرف نکلیں
#techcure
ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جنگ چھیڑ کر دنیا میں افراتفری پھیلا دی۔آپ ان لوگوں کی حمایت نہیں کر سکتے جو دنیا کو آگ لگا دیتے ہیں اور اس آگ سے اٹھنے والے دھویں کا الزام دوسروں پر ڈال دیتے ہیں،سپین کے وزیراعظم کی ٹرمپ و نیتن یاہو پر سخت تنقید
Free and fair elections are the cornerstone of our democracy. But right now, they’re under attack.
Several Republican-controlled states have redrawn their congressional maps to give themselves an unfair advantage in the midterm elections.
Now Virginia has a chance to help level the playing field. If you live in the Commonwealth, early voting begins March 6, and Election Day is on April 21. Vote YES.
🔴🔴🔴مسجد اقصی کو میزائل مار کر گرایا جائے گا پھر وہاں یہودی عبادت خانہ بنایا جائے گا اور الزام لگادیا جائے گا کہ مسجد اقصی پر ایران نے میزائل مارا ہے ۔
امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے اسرائیلی خفیہ پلان بے نقاب کردیا جس میں ایک مذہبی یہودی ربی کے کلپ کا حوالہ دیا گیا
ایران سے امریکا کو کوئی خطرہ نہیں تھا- ٹرمپ نے امریکی فوجی جوانوں کو ایران سے لڑنے بھیج کر غلطی کردی- میں اس کمیٹی میں شامل تھا جس نے بہت سی خفیہ دستاویزات دیکھ رکھی ہیں-
امریکی سنیٹر ٹم کائن
Trump told Iranians to “take the streets and reclaim their government”. So they did, and they are chanting “D€ath to America and Israel” and calling for revenge. I bet Trump excepted a different outcome from Khamenei assassination.
برف گر رہی تھی۔ ہوا تیز تھی۔اور میں کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں ایک پارک میں سخت سردی میں کھڑا تھا۔
میرے سامنے ایک مجسمہ تھا۔
یہ کسی عام سپاہی کا مجسمہ نہیں تھا، بلکہ اُس شخص کا تھا جس نے ایک آنکھ کے ساتھ تاریخ بدل دی —
Léo Major۔
یہ جگہ Quebec City میں ہے۔
خاموشی تھی، برف تھی، ٹھنڈی ہوا تھی…
مگر اُس مجسمے کے پیچھے ایک ایسی کہانی تھی جو دل کو گرم کر دے....
دوسری جنگِ عظیم میں ایک گرنیڈ کے دھماکے نے لیو میجر کی ایک آنکھ چھین لی۔
ڈاکٹروں نے کہا:
“اب تم فرنٹ لائن پر نہیں جا سکتے۔ تم نامکمل ہو چکے ہو۔”
اُس نے جواب دیا:
“مجھے نشانہ لگانے کے لیے ایک آنکھ ہی کافی ہے۔”
سوچیے…
ہم میں سے کتنے لوگ ایک چھوٹی سی رکاوٹ پر ہمت ہار دیتے ہیں؟
اور وہاں ایک سپاہی تھا جو ایک آنکھ کھو کر بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔
ایک آنکھ… اور پورا شہر آزاد
اپریل 1945۔
ہالینڈ کا شہر Zwolle جرمن فوج کے قبضے میں تھا۔
لیو میجر اور اُس کا ساتھی رات کے اندھیرے میں شہر کے قریب پہنچے۔
ساتھی مارا گیا۔
اب وہ اکیلا تھا۔
وہ پیچھے ہٹ سکتا تھا۔
وہ کہہ سکتا تھا: “میں پہلے ہی زخمی ہوں۔”
مگر اُس نے فیصلہ کیا کہ دشمن کو ایسا خوفزدہ کرے گا کہ وہ شہر چھوڑ دیں۔
رات بھر وہ مختلف مقامات پر فائرنگ کرتا رہا، گرنیڈ پھینکتا رہا، جرمن افسران کو گرفتار کرتا رہا اور اُنہیں یہ یقین دلاتا رہا کہ پوری کینیڈین فوج شہر میں داخل ہو چکی ہے۔
صبح ہوئی تو جرمن فوج شہر چھوڑ چکی تھی۔
ایک سپاہی۔
ایک آنکھ۔
اور پورا شہر آزاد۔
Zwolle کے لوگ آج بھی اُسے اپنا نجات دہندہ کہتے ہیں۔
لیو میجر کو برطانیہ کا اعلیٰ فوجی اعزاز
Distinguished Conduct Medal (DCM)
دو مرتبہ دیا گیا — جو بہت کم سپاہیوں کو نصیب ہوا۔
اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ اُس نے میڈل لینے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ اُس وقت کے کمانڈر سے متفق نہیں تھا۔ :)
وہ خوشامد کے لیے نہیں لڑ رہا تھا۔
وہ مقصد کے لیے لڑ رہا تھا۔
اُس مجسمے کے سامنے کھڑا میں سوچ رہا تھا —
آج ہم کتنی جلدی ہمت ہار دیتے ہیں؟
کاروبار میں نقصان ہو جائے تو ہم ٹوٹ جاتے ہیں۔
ذرا سی تنقید ہو جائے تو ہم بکھر جاتے ہیں۔
لیو میجر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:
• کمزوری حتمی فیصلہ نہیں ہوتی
• حالات جتنے بھی سخت ہوں، ذہن مضبوط ہو تو راستہ نکل آتا ہے
• کبھی کبھی ایک شخص بھی تاریخ بدل سکتا ہے
ایک آنکھ کم ہونے سے فرق نہیں پڑتا،
نظر نہیں — نظریہ واضح ہونا چاہیے۔
آج ہمارے ملک میں بھی ایک سیاسی رہنما کے بارے میں آنکھ سے متعلق خدشات کی باتیں ہو رہی ہیں،
کچھ لوگ طنز بھی کر رہے ہیں۔
مگر تاریخ گواہ ہے —
جسمانی کمی قیادت کو کمزور نہیں کرتی۔
کمزور وہ ہوتا ہے جس کا وژن کمزور ہو۔
اصل آنکھ چہرے میں نہیں ہوتی۔
اصل آنکھ ذہن میں ہوتی ہے۔
اصل نظر بصیرت کی ہوتی ہے۔
لیو میجر کی ایک آنکھ کم تھی،
مگر اُس کی نظر دشمنوں پر بھاری تھی۔
لیڈر وہ نہیں جس کے جسم پر کوئی زخم نہ ہو۔
لیڈر وہ ہے جو زخم کے باوجود کھڑا رہے۔
سردی سخت تھی۔
مگر اُس مجسمے کے سامنے کھڑے ہو کر ایک بات دل میں اتر گئی:
اگر ارادہ مضبوط ہو
تو ایک آنکھ بھی دشمنوں پر بھاری ہوتی ہے۔
موسم کبھی پرفیکٹ نہیں ہوگا۔
حالات کبھی آسان نہیں ہوں گے۔
مخالفین کبھی خاموش نہیں ہوں گے۔
اگر نظریہ زندہ ہو
تو تاریخ دوبارہ لکھی جا سکتی ہے۔
برف میں کھڑے ہو کر میں نے یہی سیکھا —
طاقت جسم میں نہیں،
فیصلے میں ہوتی ہے۔
— سہیل بلخی
#LeadershipDevelopment
بریکنگ نیوز 🚨
سعید غنی کو, ایک اورسیز پاکستانی نے گیر لیا,
تم لوگوں نے ہمارے شہر کو تباہ کردیا!!
میں پچھلے 32 سال سے باہر مزدوری کرتا ہوں, لیکن تم لوگوں نے تباہ کردیا میرے شہر کو!
عمران خان نے کہا تھا, تم لوگ جہاں جاؤگے چور چور کے نعرے ہونگے🔥 مرشد یہاں بھی سچا ثابت ہؤا
78 سال کی محنت، باکمال لوگوں کی لاجواب سروس پی آئی اے
وہ قومی ادارہ جس نے فضائی دنیا میں نہ صرف پاکستان کی پہچان بنائی بلکہ دیگر ممالک کی ایئرلائنز کی سرپرستی اور رہنمائی بھی کی۔ بیجنگ سے لندن اور ٹورنٹو تک سبز ہلالی پرچم پاکستان کی شناخت تھا۔
آج اسی قومی اثاثے کو محض 135 ارب روپے میں فروخت کر دیا گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ اس عظیم ادارے کو نقصان پہنچانے والوں کو کٹہرے میں لایا گیا، نہ ہی کسی قسم کی شفاف تحقیقات کی گئیں۔
محترمہ فاطمہ جناح:
غدار بنانے کی فیکٹری چلانے والوں نے انہیں بھی غدار اور بھارتی ایجنٹ قرار دیا
آج تاریخ انہیں اچھے اور غداری کا فتویٰ بانٹنے والے کو برے الفاظ میں یاد کرتی ہے
مگر
“غدار بنانے کی فیکٹری آج بھی چل رہی ہے”
شاہزیب خانزادہ فرام جیو نیوز
بریکنگ نیوز 🚨: آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے جواب میں شاہزیب خانزادہ کا جواب 🔥
خبردار اسکو ریٹویٹ کیے بغیر کوئی نہ گزرے 🚨
قائداعظم نے دو ٹوک وصیت میں کہا تھا کہ پالیسی بنانافوج کا نہیں بلکہ سویلینز کا کام ہے، فوج کا کام صرف ملک کا دفاع ہے مگر افسوس قائداعظم کی بات پر 76 سالوں میں عمل نہ ہوا، بلکہ چار بار مارشل لا لگا اور جمہوری حکومتوں کے تخت الٹ دئیے گئے
عمرایوب حلقے کے لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ ہمارا انتخابی نشان کیتلی ہے جس کا ہینڈل اوپر ہے ایدھی کے جھولے سے ملنے والے سکندر سلطان راجہ نے اسی سے ملتا جلتا نشان چینک بھی الاٹ کیا ہے تاکہ لوگوں کو کنفیوز کیا جا سکے ۔۔۔
ایوان صدر سے 13 کلومیٹر دور آج دھماکہ ہوا جس میں 12 پاکستانی شہید ہوگئے دوسری طرف حکمران ایوان صدر میں آئینی ترمیم کی منظوری کےلیے ڈنر کررہے ہیں۔۔۔یہ ویڈیو ڈنر سے پہلے کی ہے۔۔۔