مفتی محمود نے پہلے پاکستان بننے کی مخالفت کی، ملک بنتے ہی وزارتوں کی لائن میں لگ گئے۔ یہی منافقت اب فضل الرحمان کی سیاست کی اصل بنیاد ہے۔#راشی_ڈیزل_نامنظور
مدرسوں کے مال پر پلنے والا ملا دو پیازہ!!
مدرسے کے نام پر چندہ لیا، اربوں کی جائیدادیں بنائیں، اور غریب بچوں کو دو پیاز پر گزارا کرایا۔#راشی_ڈیزل_نامنظور
اصل سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی اختلاف کو قومی مفاد اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھایا جا سکتا ہے؟ کیا پاکستان سے وفاداری صرف نعروں سے ثابت ہوتی ہے یا عمل سے؟ قوم کو فیصلہ کرنا ہے کہ اقتدار کی سیاست کو ملک سے اوپر رکھا جائے یا ملک کو سیاست سے اوپر۔
#راشی_ڈیزل_نامنظور
تاریخ بتاتی ہے کہ مفتی محمود 1947 میں قیام پاکستان کی مخالفت میں سب سے آگے تھے، ان کے ہاتھ میں NO PAKISTAN کا بورڈ اس کا ثبوت ہے۔ جس خاندان کے بزرگ نے پاکستان بننے کی مخالفت کی ہو، اس خاندان کی نسلوں سے وفاداری کی امید رکھنا قوم کے ساتھ سب سے بڑا فریب ہے۔
#راشی_ڈیزل_نامنظور
آج اسی خاندان کے فضل الرحمان کی سیاست پر نظر ڈالیں تو ماضی اور حال کا فرق صاف نظر آتا ہے۔ کبھی اقتدار کے لیے اختلاف، کبھی اختلاف کے لیے اقتدار، اور ریاستی معاملات پر موقف وقت کے ساتھ بدلتا رہا ہے۔
#راشی_ڈیزل_نامنظور