اگراللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہیں تنہا چھوڑدے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے؟ اور مؤمنوں کو چاہئے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔
﴿سورۃ آل عمران ، ۱۶۰﴾
جو کچھ تمہارے پاس ہے، وہ سب ختم ہوجائے گا، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے، وہ باقی رہنے والا ہے۔ اور جن لوگوں نے صبر سے کام لیا ہوگا، ہم اُنہیں اُن کے بہترین کاموں کے مطابق اُن کا اجر ضرور عطا کریں گے۔
سورۃ النحل
کچھ لوگ ہماری زندگی میں محض رفاقت کے لیے نہیں، بلکہ ہمیں ہم سے ملانے کے لیے آتے ہیں۔ وہ ہمارے بکھرے ہوئے وجود میں بھی امکان تلاش کرتے ہیں اور ہماری خاموشی میں چھپی چیخ کو سن لیتے ہیں۔ ایسے لوگ زندگی کا وہ خوبصورت قرض ہوتے ہیں جسے الفاظ میں ادا کیا جا سکتا ہے، نہ وقت کے ساتھ بھلایا جا سکتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ مضبوط سہاروں کی نہیں، کبھی کبھی صرف ایک ایسے دل کی ضرورت ہوتی ہے جو اُس کی شکست میں بھی اُس کی جیت کا یقین رکھتا ہو۔ ایسے لوگ نعمت ہوتے ہیں، اور نعمتوں کی قدر اُن کے ہوتے ہوئے کرنا ہی اصل دانائی ہے۔
Dua for all the good in this world & the Hereafter:
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
“Our Lord, give us good in this world and good in the Hereafter, and protect us from the punishment of the Fire.”
تم مجھے میرے بد ترین حالات (زوال) میں نہیں سنبھال سکتے تو تمہیں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ تم میرے بہترین وقت میں بھی میرے ہرگز مستحق نہیں ہو ۔
مارلن منرو
سمجھ داری شاید یہی ہے کہ جہاں قدرِ وجود باقی نہ رہے، وہاں شکایت نہیں، فاصلہ اختیار کیا جائے، ہر دروازہ کھٹکھٹاتے رہنا محبت نہیں، کبھی کبھی اپنی عزتِ نفس سے ناانصافی بھی ہوتا ہے۔