نگاہ نیچی کرنے کا حکم صرف آنکھیں نیچی کرنے کا حکم نہیں بلکہ ایک پورے معاشرتی فلسفے کی بنیاد ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں جب حیا اور پاکیزگی کا حکم دیا تو سب سے پہلے مردوں سے فرمایا کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ اس کے بعد عورتوں کو بھی یہی حکم دیا گیا، ساتھ ہی زینت اور پردے کے متعلق مزید ہدایات دی گئیں۔
یہ ترتیب بہت گہری ہے۔ یہ صرف اتفاق نہیں کہ حکم کی ابتدا مرد سے ہوئی۔ کیونکہ اکثر اوقات گناہ کا سفر عمل سے پہلے نظر سے شروع ہوتا ہے۔ نظر دل میں خیال پیدا کرتی ہے، خیال خواہش کو بڑھاتا ہے، خواہش انسان کو دوبارہ دیکھنے، تلاش کرنے اور آخرکار عمل کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے دروازہ شروع ہی میں بند کرنے کی تعلیم دی۔
لیکن نگاہ نیچی کرنے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آدمی سڑک پر چلتے ہوئے اپنی آنکھیں زمین پر گاڑ لے۔ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی خواہش کو ہر چیز کا مالک نہ بننے دے۔ ہر خوبصورت چیز کو دیکھنا ضروری نہیں، ہر تصویر پر رکنا ضروری نہیں، ہر پروفائل کھولنا ضروری نہیں، ہر خواہش کو feed کرنا ضروری نہیں۔
یہاں سے ایک پوری معاشرتی فلسفہ شروع ہوتی ہے۔
ہر مارکیٹ میں demand اور supply ہوتی ہے۔ جس چیز کی demand بڑھتی ہے، اس کی supply بھی بڑھتی ہے۔ آج sexualized content بھی اسی اصول پر چلتا ہے۔ کوئی تصویر زیادہ attention حاصل کرتی ہے، لوگ اسے زیادہ دیکھتے ہیں، like کرتے ہیں، follow کرتے ہیں، پیسے دیتے ہیں، پھر platform دیکھتا ہے کہ لوگ اس content میں زیادہ وقت گزار رہے ہیں، تو وہ اسے مزید لوگوں تک پہنچاتا ہے۔ یوں ایک شخص کی نظر صرف اس کی ذاتی نظر نہیں رہتی، وہ ایک پورے market کو signal دے رہی ہوتی ہے کہ یہ چیز دوبارہ دکھاؤ۔
یہی وجہ ہے کہ مرد کا lower the gaze کرنا صرف اس کی اپنی پاکیزگی کا مسئلہ نہیں۔ یہ demand کو کم کرنے کا بھی ایک طریقہ ہے۔
اگر مرد ہر sexualized تصویر پر رکیں گے، اسے like کریں گے، follow کریں گے، subscribe کریں گے اور پیسے دیں گے، تو پھر معاشرہ حیران کیوں ہو کہ ایسی چیزیں بڑھ کیوں رہی ہیں؟ جس چیز کو attention اور money ملے گا، market اسے زیادہ پیدا کرے گی۔
یہاں مرد کی ذمہ داری بہت اہم ہو جاتی ہے۔ وہ ہر عورت کے کپڑوں کو control نہیں کرسکتا۔ وہ ہر تصویر کو internet سے ختم نہیں کرسکتا۔ وہ algorithm کو بھی مکمل طور پر control نہیں کرسکتا۔ لیکن وہ اپنی آنکھ، اپنی انگلی اور اپنا پیسہ control کرسکتا ہے۔
وہ scroll کر سکتا ہے۔ وہ stare نہ کرنے کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ وہ sexual content کو follow نہ کرسکتا ہے۔ وہ subscription ختم کرسکتا ہے۔ یعنی اسلام اسے دوسروں کو control کرنے سے پہلے خود کو control کرنا سکھاتا ہے۔
اور یہی ایک modest society کی اصل بنیاد ہے۔
صرف عورتوں سے یہ کہنا کہ “پردہ کرو” کافی نہیں، اگر مرد اپنی نگاہ اور خواہش کو مسلسل feed کرتے رہیں۔ کیونکہ اگر demand موجود رہے گی تو supply کسی نہ کسی شکل میں آتی رہے گی۔
اسی لیے قرآن کا پیغام صرف یہ نہیں کہ “اپنی آنکھیں نیچی کرو۔”
گہرا پیغام یہ ہے:
اپنی خواہش کو ہر چیز کا consumer نہ بناؤ۔
اپنی نظر کو market کی demand نہ بناؤ۔
جس چیز کو معاشرے میں بڑھتا نہیں دیکھنا چاہتے، اسے اپنی attention سے reward بھی نہ کرو۔
حیا صرف یہ نہیں کہ جسم کتنا ڈھکا ہوا ہے۔ حیا یہ بھی ہے کہ انسان کیا دیکھتا ہے، کس چیز کو اہمیت دیتا ہے، کس چیز کو reward کرتا ہے، اور اپنی خواہش کو کتنا control کرتا ہے۔
اسی لیے اللہ نے مرد سے پہلے اس کی نگاہ کے بارے میں بات کی۔ کیونکہ ایک پاکیزہ معاشرہ صرف اس وقت نہیں بنتا جب لوگ کم دکھائیں؛ وہ اس وقت بنتا ہے جب لوگ کم دیکھنے، کم consume کرنے اور اپنی خواہش پر اختیار رکھنے کی تربیت بھی حاصل کریں۔
نگاہ نیچی کرنا دراصل آنکھوں کو نہیں، خواہش کو نظم میں لانا ہے۔
People who justify marrying their cousins and say "Allah allowed it who are you" are now citing scientific research to say women having children after 40 is wrong, Allah blessed khadijah with 6 of the prophets children after her 40s,why not turn towards Islam now? Also it's not+
As an architect and graduate of one of the top schools of architecture & building engineering in Britain I agree with my colleague Richard Gage & team that the smaller top section of the Twin Towers can't possibly demolish the entire tower below under any circumstances, unless explosives are unsed on the floors below.
Turkish delight is a delicate thing from the old world, flavored with rose water.
It's hard to appreciate with a palate trained on double-stuffed Oreos and Doritos.