🚨 PARODY ACCOUNT
This is a satire/parody account.
Not affiliated with any real sexual, brand, or organization.
All content is fictional & for humor only
ایسا کالا تگڑا سانڈ جیسا لوڑا جس کے پاس بھی ہوتا ہے عورت اس کے اگے پیچھ جاتی ہے اور اپنے اپ کو اس کی کتیا بنا لیتی ہے تم میں سے بہت سے ایسے حربمی مرد ہیں جن کی بہنیں بیویاں بیٹیاں ایسے لوڑے لے لے کر اپنے جسم کی گرمائش نکالتی ہیں اور تمہارے لن کا مذاق اڑاتی ہیں
شاہ جی نے اپنی بچی کو حلوہ دے کر بھیجا تھا قاری صاحب کے لیے اور قاری صاحب نے حلوہ ک��ا کر شکریہ کرنے کے بجائے شاہ جی کی جوان بچی کو گھوڑی بنا کر خوب رگڑا اور اپنے لن کی ساری گرمی قاری صاحب نے کچھ جھٹکوں میں شاہ جی کی جوان بچی میں ڈال دی
جب لاہوریی چھت پر بسنت منا رہے ہوں گے تو نیچے گھر کے بڑے بزرگ ان کی بہن کو ننگا کر کے اپنی ہوس مٹا رہے ہوں گے اوپر پتنگ اڑے گی اور نیچے تمہاری بہن بڈھے کے لن پہ اچھلے گی خوب موج مستی ہوگی گھر گھر میں چدائی کا ماحول ہوگا کسی کی بہن کسی کے بستر میں ہوگی
ہر گھر میں یہ رسم ہونی چاہیے کہ عورت اپنی پھدی کو ننگا کر کے گھر کے مردوں کو دعوت دے تاکہ و�� اکر گھ�� کی عورت کی پھدی بجاے عورت مکمل پردہ کرے اور جسم کا صرف وہی حصہ ننگا کرے جس کی گرمی نکالنی ہے یعنی کہ اپنی گرم پھدی اور گھر کا مرد اپنا لن نکال کے اس کی خواہش پوری کرے
مارنے والے میں دم ہو تو مروانے والی شوق سے مرواتی ہے
شاہ جی کا حرامی نوکر شاہ جی کی ماں کی اپنے کالے لوڑے سے دمدار چدائ کرتا ہے اور انکی ماں کی پھدی سے دھوے نکلوا دیتا ہے لیکن شاہ جی کی ماں اپنے موٹے چوتڑ اچھال اچھال کر اس حرامی نوکر کے لوڑے کو ��کست دیتی ہیں
سمجھدار عورت مرد کی جیب میں پیسہ نہیں بلکہ اس کی شلوار میں ہتھیار دیکھتی ہے اگر سامنے والے مرد کا لن مضبوط ہے تو پھر تمہاری سگی ماں بہن بیوی کسی بھی مرد کے لوڑے کو پکڑ کے اپنی پھدی پر اس کی ملائی ڈالنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے اور اپنے یار کی رنڈی بننے میں فخر محسوس کرتی ہے
شاہ جی کی بیوی گھر نہی تھی رات کو شاہ جی اپنی بیٹی کے کمرے میں گئے اور اسے دیکھ کر اپنا لن مسلنے لگے بیٹی نے جب یہ دیکھا تو بول" کیسا حرامی باپ ہے بیٹی چودنے اگیا
نکال لن باہر پھدی نہی دینی ��نہ اور ممے سے پیاس بجھا "
شاہ جی شلوار اتار کے بیٹی سے لن چسوا کر اسکے مموں میں جھڑ گے
پھدی ایک ایسا پھول ہے جسے جتنا سونگا جائے چوما جائے چاٹا جائے وہ اتنا ہی نکھر جاتا ہے اس پھول کو جتنا مسلتے رہو جتنا اس پہ ظلم کرتے رہو یہ اتنا ہی رس نکالتا ہے یہ پھول تمھاری ماں بہن بیٹی بیوی سب کے نیچے لگا ہے تو خود بھی اس کا مزہ لو اور دوسروں کو لینے دو