کشمیر مین احتجاج کے معاملہ پر سربراہ جےیوآئی مولانا فضل الرحمان سے جےیوآئی کشمیر کے امیر مولانا سعید یوسف کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات، کشمیر کی موجودہ صورتحال سے مولانا فضل الرحمان کو آگاہ کیا، وفد میں وکلاء اور سیاسی رہنماء شریک تھے،
اسلام آباد:
امریکی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن برائے سیاسی امور ٹیری سٹیئرز گونزالیزاور سابق ڈپٹی چیف آف مشن زیکری ہارکنرائیڈر کی سربراہ جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد
زیکری ہارکنرائیڈر نے مولانا فضل الرحمان سے الوادعی ملاقات کی
زیکری ہارکنرائیڈر نے نامزد ہونے والے نئے ڈپٹی چیف آف مشن برائے سیاسی امور ٹیری سٹیئرز گونزالیز کا مولانا فضل الرحمان سے تعارف کرایا
ملاقات میں خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت کردار پر بات چیت
ملاقات میں خطے میں امن وامان کی صورتحال پر گفتگو
ملاقات میں سیاسی سمیت دلچسپی کے باہمی امور پر گفتگو
ملاقات میں سنیٹر کامران مرتضی اور مولانا اسجد محمود شریک
میڈیا سیل جےیوآئی پاکستان
بجٹ صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں، بلکہ عوام کے مستقبل کا فیصلہ ہوتا ہے۔
صوبائی اسمبلی میں جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر مولانا لطف الرحمٰن نے بجٹ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے امن و امان، تعلیم، معیشت، صوبائی حقوق، سی پیک، بلدیاتی نظام، قبائلی اضلاع، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی فلاح جیسے اہم قومی و صوبائی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے زور دیا کہ حقائق پر مبنی منصوبہ بندی، مضبوط معیشت، بہتر طرزِ حکمرانی اور پائیدار امن ہی عوامی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
پاکستان کی سیاست میں مولانا کا کردار
امریکہ کی پاکستان میں نئے نامزد ہونے والے ڈپٹی چیف آف مشن برائے سیاسی امور ٹیری سٹیئرز گونزالیز نے مولانا فضل الرحمن کے در پر حاضری لگا دی
امریکہ کے پاکستان میں نامزد نئے ڈپٹی چیف آف مشن پاکستانی سیاستدانوں میں سب سے پہلے مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ
کیوں گئے
مولانا فضل الرحمن صاحب نہ حکومت میں ہیں نہ اپوزیشن لیڈر
پھر بھی حکومت اور اپوزیشن سمیت سفارتکار ان کے در پر حاضری لگاتے ہیں
ایسا کیوں ہے کہ پاکستان کی سیاست مولانا فضل الرحمن سے ادھوری ہے
اور ایسا کیوں کہ عہدہ نہ ہونے کے باوجود صدر مملکت، وزیراعظم، وزرا، اپوزیشن لیڈر اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین ان کے در پر حاضری لگاتے ہیں
الرحمان سے الوادعی ملاقات کی
ملاقات میں خطے میں امن وامان صورتحال، سیاسی سمیت دلچسپی کے باہمی امور پر گفتگو ہوئی
میں نے یہ کٹ موشن ڈیمانڈ نمبر 43، سیریل نمبر 11 پر جمع کرائی ہے، اور اس کا تعلق حکومت کی اس ناکامی سے ہے جو سود (ربا) کے خاتمے سے متعلق ہے۔
سب کو یاد ہوگا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں ہم نے یہ شق شامل کی تھی کہ ملک کی معیشت کو سود سے پاک بنایا جائے گا، اور ہمیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ جنوری 2028 تک اس پر مکمل عمل درآمد ہو جائے گا۔ لیکن جب میں بجٹ دستاویزات کا جائزہ لیتی ہوں تو اس میں شامل تمام اسکیمیں سود پر مبنی نظر آتی ہیں، کوئی بھی اسکیم سود سے پاک نہیں۔
پھر میں یہ سوال اٹھاتی ہوں کہ آئین کے آرٹیکل 38(f)، جو سود کے خاتمے سے متعلق آئینی ذمہ داری کی بات کرتا ہے، اس کے تناظر میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اس ایوان میں تو ہم سے وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن سرکاری دستاویزات میں ان وعدوں کا کوئی عکس دکھائی نہیں دیتا۔ میرا بنیادی مؤقف یہی ہے کہ ہمیں آخر مزید کتنا انتظار کرنا پڑے گا؟ میری توقع ہے کہ آئندہ سال سود سے پاک بجٹ پیش کیا جائے گا۔ اگر میں نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم یا دیگر منصوبوں کو دیکھوں تو ان سب میں باقاعدہ سود کی شرح درج ہے۔
جنابِ اسپیکر! اگر تنخواہ دار طبقے کی بات کی جائے تو صرف 7 فیصد اضافہ کسی صورت کافی نہیں۔ اضافہ مہنگائی کے تناسب سے ہونا چاہیے۔ حکومت کی اپنی رپورٹ کے مطابق افراطِ زر 11.66 فیصد ہے، لیکن تنخواہوں میں صرف 7 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ مختلف براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ بھی اسی طبقے پر ڈالا جا رہا ہے، اس لیے کم از کم اس اضافے پر نظرِ ثانی ہونی چاہیے۔
ہمارے ملک کا ایک بڑا مسئلہ نااہلی اور کرپشن ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم آئی ایم ایف کی شرائط اور مشاورت کے تحت بجٹ بناتے ہیں، لیکن کرپشن کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔ میری نظر میں نااہلی بھی کرپشن کی ایک شکل ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ نظام میں خامیاں کہاں ہیں، وسائل کہاں ضائع ہو رہے ہیں اور اداروں کو مؤثر کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے شفافیت کو فروغ دینا ہوگا اور روایتی بجٹنگ نظام سے آگے بڑھ کر ایسا جدید ماڈل اختیار کرنا ہوگا جس سے اداروں کی کارکردگی اور دیانت داری کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
اگر ایف بی آر کی بات کی جائے تو ہر سال ریونیو کا ایک بڑا ہدف مقرر کیا جاتا ہے، لیکن اکثر وہ اسے حاصل نہیں کر پاتا۔ اس کے باوجود بجٹ کے بعد ادارے کے افسران کو لاکھوں روپے کے الاؤنسز دیے جاتے ہیں۔ اس تضاد کو ختم کرنے اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
مالیاتی امور پر تو بہت طویل گفتگو کی جا سکتی ہے، کیونکہ پورا بجٹ ہی اس سے متعلق ہے۔ تاہم، میں بطور جمعیت علماء اسلام کی ایک ادنیٰ کارکن، خصوصاً سود کے خاتمے کے حوالے سے حکومت کو اس کے وعدے کی یاد دہانی کرانا چاہتی ہوں۔ 26ویں آئینی ترمیم کے وقت ہم سے جو وعدہ کیا گیا تھا، اس بجٹ میں اس کی عملی جھلک نظر نہیں آتی۔ لہٰذا گزارش ہے کہ ایوان کو اس معاملے پر تسلی بخش جواب دیا جائے کہ ہمیں سود سے پاک معیشت کے قیام کے لیے آخر مزید کتنا انتظار کرنا ہوگا۔رکن قومی اسمبلی جمعیۃ علماء اسلام شاہدہ اختر علی
ہم رواداری اور مسلکی ہم آہنگی کے سب سے بڑے نقیب ہیں۔
لیکن یہ ہم آہنگی کے نام پر اکثریت کو دیوار میں چنوانا بھی ظلم عظیم ہے مراد رسول خلیفہ دوئم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شان اقدس میں کانفرنسز تک کرنے پر پابندی یہ ناقابل معافی اور ناقابل برداشت ہے۔
پاکستان سب مسالک کا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا چارسدہ میں خطاب ۔۔۔۔
اگر مجھے پر ہاتھ ڈالا گیا ، میں کسی کے خلاف مقدمہ نہیں کرونگا بلکہ میں پاکستان کے ریاست کو اپنے قتل کا زمہ دار کہونگا
آپ یہ مت سمجھیں کہ ہم کسی کی جان لے کر تحریک ختم کرسکتے ہیں۔ اگر مجھے ہاتھ ڈالا گیا ، میں کسی کے خلاف مقدمہ نہیں کرونگا، میں پاکستان کے ریاست کو اپنے قتل کا ذمہ دار کہونگا، اور پھر جو ہوگا اسکے ذمہ دار بھی آپ ہونگے۔ مولانا فضل الرحمان کا چارسدہ میں خطاب
چارسدہ میں جمعیت علمائے اسلام کی شیخ ادریس شہید کانفرنس نے خیبر پختونخوا کی سیاسی تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں اپنا نام درج کروا لیا۔ کانفرنس میں عوام کی غیر معمولی شرکت نے صوبے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال پر نئی بحث چھیڑ دی ۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران عام تاثر یہ تھا کہ تحریک انصاف کی مقبولیت کی لہر نے عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام جیسی روایتی سیاسی جماعتوں کو صوبائی سیاست کے حاشیے پر دھکیل دیا اور اس سیاسی خلا میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) جیسی مرکز سے نسبتاً فاصلے پر کھڑی تحریکوں نے جگہ بنائی۔
تاہم حالیہ سیاسی منظرنامے میں تحریک انصاف کی مقبولیت میں آنے والی کمی کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو پُر کرنے میں جمعیت علمائے اسلام نمایاں ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر ماضی میں ضم شدہ قبائلی اضلاع میں جمعیت کو زیادہ سیاسی رسائی اور سرگرمیوں کے مواقع میسر آتے تو ممکن ہے کہ وہاں پی ٹی ایم جیسی مرکز گریز تحریکوں کے لیے سیاسی جگہ اتنی وسیع نہ بنتی۔
چارسدہ کانفرنس کو اسی تناظر میں جمعیت علمائے اسلام کی بڑھتی ہوئی عوامی پذیرائی اور صوبے میں اس کے سیاسی اثر و رسوخ کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
@juipakofficial@PTIKPOfficial@ANPMarkaz@pmln_org@MediaCellPPP
عوام کا مطالبہ ہے کہ ایوان بالا(سینٹ)اس بل کو روک کر زمین بوس کرے۔۔۔ یہ قوم پر بڑا احسان ہوگا۔
یہ بل عوام دشمنی کا بدترین مثال ہے۔۔
قومی اسمبلی سے یہ،،ٹیلی کمیونیکیشن بل،،کیسے پاس ہوا؟
کیا اراکین اسمبلی سوئے ہوئے تھے؟ یا ان کی مرضی شامل تھیں۔
قومی اسمبلی سے پاس شدہ مبینہ ٹیلی کمیونیکیشن بل۔
مکان خالی کرو ٹاور لگانا ہے ورنہ مکان لیناہے، ساتھ 5 کروڑ روپے جرمانہ لگاناہے۔ قانون کے ذریعے شہریوں کو چھت سے محروم کرنا آئینی اور انسانی حقوق پر ڈاکہ ہے۔
مولانا فضل الرحمن کو کبھی بندوقوں کے سائے میں نہیں دیکھا
لیکن
آج حالات کا تقاضا ہی کچھ اور تھا
شدید خطرات اور دھمکیوں کے باوجود مولانا فضل الرحمن چارسدہ پہنچے اور طویل وقت سٹیج پر گزارا جامع خطاب کیا
اللہ تعالی مولانا فضل الرحمن کی حفاظت فرمائے
آمین