فیض کہہ گئے تھے:
بس نام رہے گا اللہ کا، جو غائب بھی ہے، حاضر بھی.
یہ تخت گرا دیے جائیں گے، یہ تاج اچھالے جائیں گے —
اب نہ ضمیر بکیں گے، نہ آوازیں دبیں گی۔
ہم وہ قافلہ ہیں جو ظلم کے ہر ایوان سے ٹکرا جائے گا۔
#فیض#انقلاب#اینٹی_اسٹیبلشمنٹ#ظلم_نامنظور#آزادی_رائے
یہ اپنی مرضی سے سوچتا ہے اسے اٹھا لو
اٹھانے والوں سے کچھ جدا ہےاسے اٹھا لو
اسے بتایا بھی تھا کہ کیا بولنا ہے کیا نہیں
مگر یہ مرضی سے بولتا ہے اسے اٹھا لو
یہ پوچھتا ہے کہ امن عامہ کا مسئلہ کیوں
یہ امن عامہ کا مسئلہ ہے اسے اٹھا لو
#EnoughIsEnough#ReleaseShahbazGill
تمہاری دہشتگردی کا دعویٰ کہاں گیا، تم دہشتگرد کرواتے ہو بلکہ تم خود دہشتگردی کرتے ہو!
عاصم منیر کی کوئی حیثیثت نہیں، اسکی حیثیت صرف امریکہ کے ملازم کی ہے۔
واپس ملک آؤ۔ دیکھو ملک ڈوب رہا ہے! تم سعودی عرب کا بھی نقصان کرو گے!
It has been 30 days since my mother and my aunts, Dr. Uzma and Noreen Niazi, were unlawfully detained under the MPO. Throughout their detention at Kot Lakhpat Jail, they have been denied access to family and legal counsel.
No one, especially women, should be subjected to such treatment. With the detention order now ending, they must be released immediately.
آج مجھے ہاؤس اریسٹ سے رہا کر دیا ہے۔ اس سے تمہیں کیا فائدہ ہوا ہے؟ کیا تم مجھے روک سکے ہو؟
میں فوج اور فوجیوں کی عزت کرتا ہوں، لیکن نہ عاصم منیر کو فوجی مانتا ہوں اور نہ انہیں فوج۔
میرے ساتھ چلنے والے غریب لوگوں پر ٹارچر کیوں کیا؟ اپنا زور انڈیا پر دکھاؤ! بلوچستان میں دکھاؤ! طالبان کے خلاف دکھاؤ! غریب کو مارنے سے طاقتور نہیں ہوجاؤ گے۔
ہمارے محسنوں پر انہوں نے ظلم کیے ہیں۔ قائدِاعظم سے لے کر مشرقی پاکستان تک، ایک ایک کا حساب تم سے لوں گا۔ جب تک میری سانس ہے اور جب تک تمہاری سانس ہے، یہ جنگ جاری ہے۔
حسینی طریقے پر ہیں اور انشاءاللہ اُسے نبھائیں گے۔ کوئی پرواہ نہیں نتیجہ کیا ہوتا ہے!
سہیل آفریدی نے جنگ لڑی ہے اور قربانی دی ہے۔ جتنا اُس کی طاقت میں تھا اُس سے زیادہ کیا ہے۔
مولانا اور محمود خان اچکزئی پر محسن نقوی کے الزامات پر میرے رد عمل۔
میرے اوپر انگلی اٹھانے والوں! یہ ہیں میری خدمات!
اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناجائز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعلی اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور چیخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔
بیرسٹر گوہر کی کل اسمبلی میں کی جانیوالی تقریر سننے لائق ہے ضرور سنیں اور شیئر کریں
اب کوئی نیچے آ کر یہ نہ کہے کہ اسکا کیا فائدہ ہوتا ہے
یہ احتجاج ہر جگہ پر ریکارڈ کروایا جاتاہے کل کو لوگ اسی کا حوالہ بھی دیا کریں گے
As Pakistan’s government arrests opposition leaders and suspends an elected provincial government, President Trump continues to embrace its military chief.
The United States should stand with the Pakistani people, not enable political repression. We must press for the release of political prisoners, including Imran Khan.
https://t.co/evitvY5gwk
آپ نے عمران خان کے مقابلے کے لیے لنگوٹ باندھ کر حملہ کیا، اس پارٹی کا انتخابی نشان چھینا۔
اس پارٹی کو الیکشن میں حصہ لینے سے منع کیا۔
اس کی پارٹی کے کارکنوں نے یہ غلطی کی کہ دو سو انتخابی نشانوں پر الیکشن لڑ کر آپ کے تمام تماشے کو الٹا کر دیا۔ کیا اس کی سزا آپ دے رہے ہیں؟
پارلیمانی پارٹی والو! آپ مذاکرات کی باتیں کر کے اپنی اہمیت صفر مت کریں۔ آپ عمران خان کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں۔ آپ ایسی باتیں کر کے اس سسٹم کو وقعت دے رہے ہیں۔ اُس کی اجازت کے بغیر ایسے عمل نا کریں۔
آپ نے ایک مہربانی کی، آپ شیخ مجیب کو گھر میں جا کر اس کو گرفتار کرکے لاہور لے آئے تھے۔ آپ نے یہ مہربانی کی کہ ہمارے آفریدی وزیراعلیٰ کو پکڑ کر، ہاتھ پاؤں باندھ کر یہاں نہیں لائے۔ کر دیجیے، بسم اللہ، یہ بھی کر دیجیے! کیا کر رہا تھا وہ؟
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا قومی اسمبلی سے خطاب
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نہیں پی ٹی آئی کے خاتمے کے لیے لگائی۔ اس وقت دہشتگردوں کے خلاف ایک کاروائی نہیں ہوئی تین دن سے تمام ادارے پی ٹی آئی کارکنان،عہدیداران اور ممبران اسمبلی کے اغواء،گھروں میں توڑ پھوڑ اور پی ٹی آئی کے صوبے بھر میں کروائے گئے کاموں کی تختیاں اتارنے میں مصروف ہیں۔