I ask you again respected Fawad Chaudhary Sahib - Sialkot Massacre by Ahmadis, iska saboot de dein. After Mission Noor ki Khichdi, this is yet another interesting claim.
Or Delete that tweet, it won’t hurt your ego I promise you that.
Every genocidal chapter in history had an early page like this, a signature here, a ban there. Rwanda had ID cards that labelled ethnic groups. Nazi Germany had synagogue bans and fines for practicing faith! RIP article 20
Only to target Ahmadis, state of Pakistan will go to any lengths of stupidity—making forms & fines out of sheer bigotry. This isn’t governance. It’s religious extortion, turning worship into a crime & believers into targets. Unbelievable!
When state demands money for the ‘crime’ of praying or sacrificing, its no longer governance, its ransom. That's what Nazi Germany looked like in its early laws: legal ink before bloodshed!
As Eid-ul-Adha approaches, Ahmadis in Pakistan are being harassed, detained, and pressured by police to sign illegal affidavits stating that they would not perform qurbani even within their own homes.
@homedptpunjab@OfficialDPRPP@MaryamNSharif@CMShehbaz@MohsinnaqviC42
As Eid-ul-Adha approaches, Ahmadis in Pakistan are being harassed, detained, and pressured by police to sign illegal affidavits stating that they would not perform qurbani even within their own homes.
@homedptpunjab@OfficialDPRPP@MaryamNSharif@CMShehbaz@MohsinnaqviC42
This is not a joke!
#Ahmadis in #Pakistan are now being told to;
pay to pray.
Pay to sacrifice.
Pay to exist...
Qurbani karni hai? Pehlay challan katwayen !🤐
The Punjab government is making Ahmadis sign this statement where they say that if they pray on Eid or carry out ritual sacrifice they will deposit $1800 in the treasury as a fine. This is as clear a violation of Article 20 of the Constitution as can be. Shameful.
Electricity? Nah.
Healthcare? Forget it.
But yes, we did form a task force to chase sacrificial goats with suspicious theology.
#Ahmadiapartheid#Pakistan
Rawalpindi DC sends instruction to Police to carry out “necessary action” if Ahmadis are seen praying Eid Namaz or doing Qurbani.
For many of us it’s going to be a calm Eid, but Ahmadis will be arrested, prosecuted and put in jail.
Being #Ahmadi in #Pakistan is like playing 'Guess Who?' with friendships, flip the wrong tile (your faith) and watch them say 'Oh... I didn't know that.' Game over.
This girl is absolutely right. Every Ahmadi knows what it feels like to have a friend like this.
A friend who seems kind—until you reveal your faith.
So many Ahmadis live in silence, not because they’re ashamed, but because they know the cost: losing a friend, facing insults, or becoming a target.
And when they finally gather the courage to speak their truth, the backlash is often immediate. The same people who once laughed with them, called them family, and swore “it doesn’t matter”—are often the first to walk away… or worse, turn against them.
Anti-Ahmadi hatred isn’t just in the news or on the streets. It lives quietly in schools, homes, WhatsApp groups—even in friendships. It’s so normalized, so deeply rooted, that those closest to you can carry it without even realizing.
And one day, you learn the hardest truth: your enemies weren’t the only ones to fear. Sometimes, the ones you trusted most were just wearing kinder masks.
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے:
✔ جنازے رکوا دیے
✔ بچوں کو اسکولوں سے نکال دیا
✔ قبریں اکھاڑ دیں
✔ عبادت گاہیں مسمار کروائیں
✔ زندہ لوگوں کو کافر کہا
✔ مرنے والوں کی قبروں سے کلمہ مٹایا
لیکن جب قانون ان پر پلٹا—تو رونا شروع کر دیا۔
اسلام کو خطرہ نہیں، آپ کی اجارہ داری کو ہے۔
Since Jan 2025, 269 Ahmadi graves have been desecrated across Pakistan, often with police involvement. Year on year, Ahmadi gravestones are routinely destroyed by mobs or state authorities throughout the country.
Apparently, you'r a ‘top 20% earner’ if you make 64,000 PKR/month in Pakistan. Which is cool, but it mostly means you can finally afford that extra topping on your pizza. Living the dream, right? 😂 #VIPLife#PakistaniElite"
My heart goes out to the Muslim community in London who have faced repeated acts of hate and violence. The attack this week against a Muslim family in a park is abhorrent and unacceptable.
Islamophobia is deadly, and we need to name it and condemn it—loudly—wherever we see it.
کیا واقعی سپریم کورٹ نے قادیانیت کے حوالے سے کوئی ایسا فیصلہ دیا؟
حقیقت کیا ہے؟
قادیانی شہری کو سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کا کیس:
فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :
ملزم کے خلاف مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ C-295, 298 اور پنجاب کے اشاعت قرآن ایکٹ کے دفعہ سات اور نو کے تحت چھ دسمبر دو ہزار بائیس کو اس وجہ سے ایف آئی آر درج کرائی جاتی ہے کہ ملزم پر یہ الزام تھا کہ وہ قادیانی مذہب کی مشہور تفسیر " تفسیر صغیر " کی تقسیم میں ملوث ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ ملزم پر بنیادی طور پر تین الزامات تھے جو ک�� زیل ہیں :
الف ) پنجاب قرآن ( پرنٹنگ اینڈ ریکارڈنگ ) ایکٹ دو ہزار دس کے دفعہ سات اور نو کے تحت تفسیر صغیر کی تقسیم کا الزام۔
ب ) مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ دو سو پچانوے-بی کے تحت توہین قرآن کا الزام۔
ج ) مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ دو سو اٹھانوے-سی کے تحت قادیانی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا خود کو مسلمان ظاہر کرنے کا الزام۔
مندرجہ بالا الزامات کے تحت چھ دسمبر دو ہزار بائیس کو ایف آئی آر کے اندراج کے بعد بالآخر ملزم کو سات جنوری دو ہزار تئیس کو گرفتار کر دیا جاتا ہے جس کے بعد بالترتیب دس جون اور ستائیس نومبر کو ایڈیشنل سیشن جج اور لاہور ہائی کورٹ سے ملزم کی ضمانت خارج کردی جاتی ہے جس کے بعد اس کیس کی ابتدا سپریم کورٹ میں ہوتی ہے اور سپریم کورٹ میں یہ کیس چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب اور جسٹس مسرت ہلالی صاحبہ پر مشتمل دو رکنی بینچ کے سامنے مقرر ہوتا ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
نوٹ :یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے اس کیس میں دو سوالات تھے جن میں پہلا تو ملزم کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست تھی اور دوسرا معاملہ ملزم پر جو فرد جرم عائد کیا گیا تھا تو اس فرد جرم سے مختلف جرائم کو حذف کرنے کی درخواست تھی۔
سپریم کورٹ میں اس کیس کی ابتدا ملزم کے وکیل کی جانب سے دلائل پر ہوا جو کہ زیل ہیں:
ملزم کے وکیل نے پہلا نکتہ یہ اٹھایا کہ ملزم کے خلاف چھ دسمبر دو ہزار بائیس کو جو ایف آئی آر کاٹی گئی ہے تو اس کے مطابق ملزم نے پر الزام یہ ہے کہ اس نے دو ہزار انیس میں تفسیر صغیر تقسیم کیا ہے جو کہ پنجاب کے اشاعت قرآن قانون کے تحت جرم ہے لیکن یاد رہے کہ ایسی کوئی تفسیر تقسیم کرنے پر پابندی دو ہزار اکیس میں لگی ہے یعنی اگر دو ہزار اکیس کے بعد اگر کوئ ایسی تفسیر تقسیم کرے گا تو وہ جرم کے ضمرے میں آئے گا تو یہاں پر دو مسئلے آئے۔ پہلا تو یہ کہ ملزم پر الزام یہ تھا کہ اس نے تفسیر صغیر دو ہزار انیس میں تقسیم کی ہے تو تب یہ جرم نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ فوجداری مقدمات میں مقدمہ بروقت دائر کرنا بہت زیادہ اہمیت کا متقاضی ہوتا ہے لیکن اس کیس میں دو ہزار انیس کے الزام کی بابت ایف آئی آر دو ہزار بائیس کے آخر میں درج کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس حوالے سے آئین پاکستان کا آرٹیکل بارہ نہایت ہی واضح ہے جو کہ صراحت کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ کسی کو بھی کسی ایسے جرم کی سزا نہیں دی جا سکتی کے کرتے وقت وہ کام کسی قانون کے تحت جرم کی تعریف میں نہ ہو تو اس لئے چونکہ تفسیر صغیر دو ہزار انیس میں تقسیم کرنا جرم نہیں تھا تو اس لئے پنجاب اشاعت قرآن قانون کے تحت ملزم کے خلاف فرد جرم نہیں عائد کیا جا سکتا تھا۔
تفسیر صغیر کی تقسیم کا معاملہ واضح کرنے کے بعد سپریم کورٹ نے بقیہ دو الزامات یعنی توہین قرآن اور خود کو مسلمان ظاہر کرنا تو اس حوالے سے ملزم کے خلاف نہ تو ایف آئی آر اور نہ ہی پولیس کے چالان میں مندرجہ بالا الزامات کے بابت کوئ بات ہے، اس وجہ عدالت نے مندرجہ بالا دونوں دفعات فرد جرم سے حذف کرنے کا فیصلہ کیا۔
سپریم کورٹ ک�� سامنے چونکہ دو سوالات تھے تو پہلا معاملہ واضح کرنے کے بعد فیصلے میں قرآن مجید کے مندرجہ ذیل آیات کا حوالہ دیا گیا ہے:
الف ) سورة البقرة کی آیت نمبر دو سو چھپن۔
ب ) سورة الرعد کی آیت نمبر چالیس۔
ج ) سورة یونس کی آیت نمبر ننانوے۔
سپریم کورٹ نے اس کے بعد ملزم کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری کا رخ کیا ہے جس کا آغاز سپریم کورٹ نے یوں کیا ہے کہ ملزم پر فرد جرم تو فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ انیس سو بتیس کے دفعہ پانچ کے تحت تو عائد نہیں کی گئ لیکن ایف آئی آر اور چالان کے مندرجات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملزم نے یہ مندرجہ بالا دفعہ کے تحت جرم کیا ہے جس کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا چھ مہینے ہے اور ملزم نے پہلے سے ہی تقریباً تیرہ ماہ سے ��یل میں ہے تو اس لئے عدالت نے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
سپریم کورٹ نے فیصلے کے آخر میں نہایت ہی اہم بات لکھی ہے کہ اس طرح کے کیسز کا بنیادی تعلق کسی عام آدمی یا اس کی پراپرٹی کے ساتھ نہیں بلکہ ریاست کے ساتھ ہے۔
تحریر: ذوالقرنین ایڈوکیٹ - ٹیم ممبر قانون دان
Statement of the Prosecutor of the International Criminal Court, Karim A.A. Khan KC, on the Situation in the State of Palestine: receipt of a referral from five States Parties | International Criminal Court https://t.co/gJ98XCOWsu
Husam Zomlot, Palestinian Ambassador to the UK, spoke about the atrocities being committed on the people of Gaza with 70% of people killed being women and children
@hzomlot also mentioned that 76% of the British public, the majority, want a ceasefire now
#VoicesForPeace
Activism mode on! 250 letters are ready to be mailed out to our government officials. Our Ahmadiyya community will wage the war of pen and make our voices heard in a peaceful way! #voicesforpeace