@SherA64200 sad to see the frustration across the nation. coming online and directing hate at ppl with diff ideologies, perceptions, and preferences is becoming a common venting outlet.
@RShahzaddk accidentally came across it and found it very convincing and logical. personal choices are not just a part of your personality, they are actually your personality.
@DrRamshaMir ugh, lost of follow-up due to the stigma and social judgement attached with HIV. bemari se zada tu logun ki mashkook nigahen aur zehreeli zubanain mareez ko khaa jati hain.
@DrRamshaMir male ego is the most fragile thing in this entire universe. jou halaat inn ke chal rahay hain pori mard biradri ko apna munh band hee rakhna chahye, yahan baat howi nahi wahan innki cheekhain satvain asmaan ko choo rahi hoti hain ke haye haye "all men" kesay keh dia 😑
عورت کی شخصیت، نیت اور شعور کو مشکوک بنا دینا دراصل معاشرے کے اصل اخلاقی بحران سے نظریں چرانے کی ایک پرانی عادت ہے،
افسوس یہ ہے کہ ہر خرابی، ہر فتنے اور ہر بے راہ روی کا بوجھ عورت کے لباس،آزادی،تعلیم،ملازمت اور محض اُس کی موجودگی پر ڈال دیا جاتا ہے جبکہ مرد کی تربیت،کردار اور ذمہ داری پر گفتگو سے گریز کیا جاتا ہے،
اگر مسئلہ صرف عورت کی موجودگی سے جنم لیتا ہے تو پھر اُن اداروں میں ہونے والے مظالم، ہراسگی اور بچوں کے ساتھ زیادتیوں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی جہاں عورت موجود ہی نہیں ہوتی؟
یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ جرائم کا تعلق عورت کی آزادی سے نہیں بلکہ بیمار ذہنیت،طاقت کے غلط استعمال، اخلاقی زوال اور جوابدہی کے فقدان سے ہوتا ہے،
اگر واقعی معاشرے کی اصلاح مطلوب ہے تو لوگوں کو جھوٹ، بددیانتی، دھوکہ،کرپشن،تشدد،نفرت اور استحصال سے روکنا ہوگا،
مگر بدقسمتی سے سب سے آسان راستہ یہی سمجھ لیا گیا ہے کہ ہر مسئلے کی جڑ عورت کو قرار دے دیا جائے تاکہ اپنی سوچ، اپنے کردار اور اپنے رویّوں کا محاسبہ نہ کرنا پڑے،
عورت ایک مکمل انسان ہے ،شعور رکھنے والی ،
اور مہذب معاشرے وہی ہوتے ہیں جو عورت کو شک اور خوف کی نظر سے نہیں بلکہ احترام،اعتماد اور برابری کے ساتھ دیکھتے ہیں،
#نیک
ایک شخص گھر آیا تو اس کی بیوی نےکہا :۔
"ہمارے غسل خانے کے پاس جو درخت ہے اسے کٹوا دو ، میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ جب غسل کررہی ہوں تو پرندوں کی نظر مجھ پر پڑے۔"
وہ بیوی کی اس بات سے بہت متاثر ہوا اور درخت کٹوا دیا۔
وقت گزرتا رہا۔۔۔۔
ایک دن وہ خلافِ معمول اچانک گھر آیا تو دیکھا بیوی کسی مرد کے ساتھ مشغول تھی۔
اسے بہت دُکھ ہوا۔ وہ اپنا گھربار چھوڑ کر بغداد چلا گیا۔ اور وہاں اپنا کاروبار شروع کرلیا۔
اللہ نے کاروبار میں خوب برکت دی ، اور اپنے روز افزوں کاروبار کی بدولت وہ بغداد کے سرکردہ شہریوں میں شمار ہونے لگا۔ یہاں تک کہ بغداد کے کوتوال تک رسائی بھی حاصل کرلی۔
ایک دن کوتوال کے گھرچوری ہوگئی۔
پولیس نے مجرم کا سراغ لگانے اور پکڑنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہی۔
اس نے دیکھا کہ ایک شیخ کا کوتوال کے گھر آنا جانا ہے ، اور کوتوال ان کی بے حد تعظیم کرتا ہے۔
لیکن ایک بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ شیخ آدھے پاؤں پر چلتے ہیں ، پورا پاؤں زمین پر کیوں نہیں رکھتے۔
اس نے کسی سے وجہ پوچھی تو اسے بتایا گیا:۔
"یہ پورا پاؤں زمین پر اس لیے نہیں رکھتے کہ کہیں کیڑے مکوڑے نہ کُچلے جائیں۔"
وہ شخص فوراً کوتوال کے پاس گیا اور اسے کہا:۔
"جان کی امان ہو تو عرض ہے ، آپ کی چوری اِسی شیخ نے کی ہے۔"
جب تحقیق کی گئی تو مال مَسرُوقہ اُسی شیخ سے برآمد ہوا۔
کوتوال نے حیرانی سے کہا:۔
"ہم نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ شیخ بھی ایسا کرسکتے ہیں۔ تمہیں کیسے معلوم ہوا؟"
اس نے کہا:۔"میرے گھر میں ایک درخت تھا ، جس نے مجھے نصیحت کی تھی:
"جو لوگ ضرورت سے زیادہ "نیک نظرآنے" کی کوشش کرتے ہیں ، وہ عموماً نیک نہیں ہوتے۔"
@TahirIqbal87@iqrarulhassan رہی بات جواد احمد کی، آپ ہزار اختلاف کیجیے لیکن انکی سیاسی جدو جہد پہ نہ تو قدغن لگا سکتے ہیں اور نہ ہی انکا مذاق اڑانے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ اچھی کہی کہ انوکھے لاڈلے کے مخالف جو بھی ہوگا اسے جینے نہیں دینگے
@TahirIqbal87@iqrarulhassan مزید یہ کہ ہم سب کو معلوم ہے جواد احمد کسی کھلے عام مخالفت کی وجہ سے سے جانے جاتے ہیں، جواد احمد کا نام لے کر جملہ کسنہ اپنی ڈیوٹی کے اوقات میں کھلے عام اس افسر کی سیاسی وابستگی ظاہر کرتا ہے۔
@UrduVirsa مجموعہ ڈپٹی نظیر احمد، بچوں کی کہانیوں کے بعد میری پہلی غیر نصابی کتاب تھی۔ اس میں بھی مراۃ العروس سب سے پہلے پڑھا تھا غالباً پانچویں/ چھٹی جماعت میں۔ اس سے پہلے اخبارِ جہاں، ڈالڈا کا کچن میگزین، تعلیم و تربیت، ہونہال اور جنگ سنڈے میگزین آتے ہی فوراً چاٹا جاتا تھا 😂❤️