چکوال کے دوست انور بی بی کا خاندان تلاش کرنے میں ہماری مدد کریں۔۔!!
انور بی بی کا کہنا ہے کہ وہ تقریبا دس سال کی تھی جب گھر سے بچھڑ گئی تھی۔چکوال سے کراچی مومن آباد شفٹ ہوئے تھے۔ والدہ فوت ہوئی تھی۔بہن بھائی چھوٹے تھے۔کوئی سنبھالنے والا نہیں تھا۔ بڑے بھائی کی شادی ہوگئی تو میں بھائی کےپاس رہتی تھی۔ بھائی کی ڈانٹ سے ڈر کر میں گھر سے نک�� کر ٹرین اسٹیشن پہنچ گئی کہ وہاں سے گاوں جاکر پھوپھی کے پاس رہونگی, پھوپھی بہت پیار کرتی تھی۔
لیکن ٹرین نکل گئی تھی اور لوگوں نے کمسنی کی وجہ سے روک لیا کہ غلط ہاتھوں میں چلی جائےگی۔
مجھے پولیس کے حوالے کردیا،پولیس نے مجھے گھر بھیجنے کا کہا لیکن میں نے ان سے کہا کہ بھائی مجھے مارےگا دل میں بھائی کا خوف تھا۔
پولیس نے عارضی طور پر ایک شیلٹر جانے کا کہا میں وہاں جمع ہوگئی۔
تین سال بعد میں شیلٹر سے کسی طرح نکل گئی ایک فیملی نے مجھے رکھ لیا، میری شادی کروادی۔
ابھی میرے بچے ہیں۔شوہر چھوڑ چکا ہے۔
مجھے میرے بھائی اور بہن بہت یاد آتے ہیں۔خدارا کے لئے مجھے اپنوں سے ملائی��
انور بی بی کے والد کا نام غلام رسول ہے،والدہ فاطمہ فوت ہوچکی تھی۔
بھائیوں کے نام عاشق حسین،ساجد حسین،اور عابد حسین اور ایک بہن سمیرا کے نام یاد ہیں۔
دادے کا نام کرم الہی اور چچا نذیر دوسرا حاجی فیض رسول۔
ایڈریس:چکوال،چوا سیدن شاہ، گاؤں ڈنڈوٹ ۔
سال 1997 میں کراچی میں اپنے گھر سے نکلی تھی۔
انور بی بی کی داستان مکمل ہم لکھنے سے فیصل الحال قاصر ہیں۔اللہ کسی دشمن کو بھی اس طرح کے دن نا دکھائے۔
آپ نے اگر کسی بے بس اور مظلوم انسان کی دعا لیکر اپنا بیڑا پار کروانا ہو تو اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں اسکے اپنے مل گئے اور وہ ایکسپٹ کرنے کو تیار ہوجائیں تو بہت ساری دعائیں آپکے حق میں کرےگی جو ان شاءاللہ رد نہیں ہونگیں۔
کسی بھی اطلاع کے لیے نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں۔
+923162529829
27 june 2026
#waliullahmaroof
مجھ سمیت سب کو اسکا۔حساب دینا۔پڑے گا کہ ایک طرف یہودی مسلمانوں کو زندہ جلاتے رہے اور دوسری طرف مسلمان یہودیوں کی حمایت کرتے رہے
وہ وقت دور نہیں ہے کہ سب کو ایک جگہ جمع کیا جائے اور
اپنے بھائی کے بارے میں دریافت کیا جائے گا
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ہمارے حکمرانوں کو بھی کچھ احساس ہو کہ ی�� یہودی کتنے ان کے دوست ہیں
لعنت ہے ایسی دوستی پر اور ایسی حکمرانی پر
@SidrahDar Jis ka koi nahii hota us ka sirf ALLAH hi hota ha aghar kisi k sth ziyati ho rhi ha to ALLAH Dunia main hi usy ruswa kar dita ha . Jo boya ha wohi katna ha
ویسے تو ایک طویل فہرست ہے مگر تین ایسے کارنامے ہیں اگر وہ تحریک ا نصاف کی حکومت نہ کرتی تو عوام کی ہڈیاں اب تک نچوڑ ی جاچکی ہوتی اور ملک کا دوالیہ ��کل چکا ہوتا ۔ اور افسوس یہ کہ ا نکی زیادہ تشہر بھی نہیں کی جاتی ۔ اعدادوشمار سے ا ن تین عظیم کاموں کی تفصیل دیکھتے ہیں ۔
1)
سال 2009 میں جب لوڈشیڈ نگ کا بحرا ن شدید تھا تو پیپلزپارٹی حکومت نے ترک کمپنی کارکے سے رینٹل پاور پلا نٹ کا معاہدہ کیا۔ جسے 2012 میں معطل کر دیا گیا ۔ کارکے کمپنی اس فیصلے کے خلاف عالمی عدالت چلی گئی اور 2017 میں عالمی عدالت نے اسکے حق میں فیصلہ دے دیا اور حکومت پاکستان پر 800 ملین ڈالر جرمانہ کردیا جس پر ماہانہ 59 کروڑ سود تھا۔ سال 2019 تک یہ جرمانہ 1.2 ارب ڈالر ہو چکا تھا۔ اس وقت وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے خصوصی درخواست کی اور یہ جرمانہ معاف کروا کر اس مصیبت سے نجات دلوائی ۔ اب اندازہ کریں کہ ایک ڈیڑھ ارب ڈالر کی قسط لینے کے لیے ائی ایم ایف کی کیسی کیسی شرائط ماننی پڑتی ہیں اور عوام پر بھاری ٹیکس لگانے پڑتے ہیں ۔ اگر یہ جرمانہ معاف نہ ہوتا تو یہ پیسے سرکاری خزانے سے جانے تھے اور بوجھ عوام پر ہی پڑنا تھا
2)
سال 1993 میں حکومت نے ایک اسٹریلین کمپنی کے ساتھ بلوچستان مین سونے کے زخائر نکالنے کا معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ 75 فیصد اور حکومت کا حصہ 25 فیصد تھا۔ سال 2011 میں بلوچستان کی حکومت نے اس کمپنی کی لیز منسوخ کردی جس پر کمپبی ورلڈ بنک عدالت چلی گئی ۔ سال 2017 میں عدالت نے حکومت پاکستان کا موقف مسترد کرتے ہوئے اربوں ڈالر کا جرمانہ کردیا جو بڑھتے بڑھتے 12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ۔ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت نے کامیابی سے مزاکرت کیے اور وہ جرمانہ معاف کروا کر اس کمپنی کے ساتھ دوبارہ معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ کم کر کے 50 فیصد کروایا گیا جبکہ بقیہ میں سے 25 فیصد بلوچستان حکومت اور 25 فیصد وفاق کا حصہ کروایا ۔
یہ یقینا بہت بڑی کامیابی تھی جسے اس لیول کی پزیرائی نہیں مل سکی ۔ پاکستان میں جعلی دانشوروں کے نزدیک پندرہ بیس ارب کے پل سڑکیں بہت بڑا پراجیکٹ تصور ہوتا ہے جبکہ پرانی حکومتوں کی نااہلی کا دس بارہ ارب ڈالر کا جرمانہ معاف کروانا کوئی بات ہی نہیں ۔ تصور کریں اگر حکومت یہ جرمانے ادا کرنے پر مجبورہو جاتی تو مہنگائی کا کیا لیول ہوتا ۔ ڈیفالٹ تو کب کا ہو چکا ہوتا۔ مگر حکومت کو داد دینے کی بجائے اسکے خلاف پراپیگنڈہ کیا گیا۔
3)
تحریک انصاف کی حکومت میں جب ہر چند ماہ بعد بجلی کی قیمتیں بڑھانی پڑتی تو وزیر اعظم عمران خان نے اسکا نوٹس لیا اور ایک اعلی سطح کمیٹی بنائی ۔ پتا چلا کہ پچھلی حکومتیں ائی پی پیز سے ایسے خوفناک معاہدے کر کے گئی ہیں جس کے تحت بجلی مہیا ہو یا نہ ہو انکو ڈالروں میں ادائیگی ہوتی رہے گی ۔ اب یہ معاہدے کینسل تو کر نہیں سکتے تھے کیونکہ پہلے ہی کارکے اور ریکودیک معاہدے منسوخ کرنے پر اربوں ڈالر کے جرمانوں کا سامنا تھا ۔ عمران خان حکومت نے کامیابی کے ساتھ کئی ائی پی پیز کو معاہدوں میں ردوبدل پر راضی کیا اور ادائیگیوں کے لیے ڈالر ریٹ کو 148 پر فکس کروا دیا ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سے حکومت کو سالانہ 120 ارب روپے کا فائدہ ہوا اور ائندہ چند سالوں تک مجموعی 836 ارب روپے کے فائدہ کا تمخینہ ہے۔ اب اندازہ لگائیں 836 ارب میں کتنے پل سڑکیں بن سکتی ہیں۔ مگر افسوس متعصب میڈیا اس عظیم کامیابی کو وہ پزیرائی نہ دے سکا جو اسکا حق تھا۔ افسوس ہماری عوام کو سکھایا گیا کہ صرب ��ل سڑکیں ہی کامیاب پراجیکٹ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ نظر اجاتے ہیں چاہے ان میں کرپشن ہو ، یا وہ غیر ضروری ہوں۔ کامیاب سفارتکاری اور حکومتی مداخلت سے جو اربوں ڈالر کا فائدہ کروایا گیا وہ کسی کھاتے میں ہی نہیں اتا۔ اس لیے جعلی دانشور دھڑلے سے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت کا کوئی پراجیکٹ ہی نہیں۔
سڑکیں بھی بنی ، پل بھی ، یونیورسٹیاں بھی اور ہسپتال بھی سب تفصیل موجود ہے ۔ لنگر خانے بھی چلے اور پناہ گاہیں بھی کھلیں ۔ ہر پاکستانی کے پاس دس لاکھ روپے کا صحت کارڈ بھی تھا اور نوکریاں بھی اتنی ملی کہ فیصل اباد جیسے شہر میں مزدور ملنا مشکل ہو گیا تھا۔ کئی نئے ڈی��وں پر کام شروع ہوا اور اس دھائی کو ڈیموں کی دھائی کہا گیا اگر وہ منصوبے وقت پر مکمل ہو جائیں تو عوام کو سستی بجلی مل سکے گی ۔ کسان نے اتنی ترقی کی کہ تین سال میں وہ سب بنا لیا جو دہایوں میں نہیں بنا سکے تھے ۔ تعمیرات کے شعبے میں انقلاب اگیا تھا غرض یہ کہ ہر شعبہ ترقی پر تھا۔ تھوڑی بہت مہنگائی تھی مگر معشیت بہترین 6 فصد گروتھ پر تھی ۔ 1/2
ایک ماں کی فریاد۔۔۔!!
میرا بیٹا فیصل ولد محمد فضل…
جب وہ صرف 15 سال کا تھا، 13 جون 1996 کو اپنے والد کی سختی سے دل برداشتہ ہوکر ��ھر سے نکلا…
اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔
ہم اس وقت کراچی، سول اسپتال کے قریب رینبو سینٹر کے پاس رہتے تھے۔
بیٹا…
تمہارے جانے کے بعد میری زندگی وہیں رک گئی…
میں نے 1996 سے آج تک ایک بھی رات سکون سے نہیں سوئی۔
ہر دن، ہر رات، ہر دعا میں صرف تمہارا نام ہوتا ہے۔
آج بھی…
جب کسی انجان نمبر سے کال آتی ہے…
یا دروازے پر ہلکی سی دستک ہوتی ہے…
میرا دل دھڑک اٹھتا ہے…
کہ شاید میرا فیصل واپس آگیا ہے…
بیٹا…
اگر یہ پیغام تم تک پہنچ جائے تو بس ایک بار لوٹ آؤ…
میں تم سے کوئی سوال نہیں کروں گی…
کوئی شکوہ نہیں ہوگا…
بس تمہیں گلے لگا کر اپنی باقی زندگی گزار لوں گی۔
تمہارے بغیر می��ی دنیا ویران ہوچکی ہے…
دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل ہے
ایک ماں کے درد کو سمجھیں…
اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں…
شاید کسی ایک شیئر سے یہ آواز فیصل تک پہنچ جائے…
کسی بھی اطلاع کے لیے واٹس ایپ کریں:
03162529829
تاریخ: 7 مئی 2026
#WaliullahMaroof
ارشاد بھٹی: اگر آپ عمران خان کو اتنا بڑا لیڈر سمجھت�� ہیں تو جیل جا کر ان سے ملے کیوں نہیں ۔
خلیل ارحمن :
یار وہ اتنا بڑا آدمی ہے کہ میں اس بندے کو سلاخوں کے پیچھے نہیں دیکھ سکتا ۔ میری ہمت ہی نہیں پری ۔ بھٹی میرے بس کی بات نہیں ۔ بھٹی آپ ملے ہیں خان کو جا کر جیل ؟
ارشاد بھٹی : میں دو دفع گیا جب شروع کی سماعتوں میں صحافیوں کو آجازت تھی عدالتی سماعت دیکھنے کی ۔
خلیل الرحمن : یار بہت ہمت ہے تمہاری پھر اگر تم ملنے گے۔ لیکن میرے میں ہمت نہیں کہ میں اتنے بڑے انسان کو اس خالات میں جیل میں سلاخوں کے پیچھے دیکھو ۔
خلیل الرحمن: جب میں نے زندگی میں پہلی دفعہ ان کو دیکھا تو قسم سے میں پانچ منٹ بس ان کو دیکھتا ہی رہا میں نے نظریں نہیں ہٹائیں ان سے اور میں نے یہ دیکھا کہ وہ پرائم منسٹر کی کرسی اس انسان کے سامنے بہت چھوٹی تھی ۔ وہ ایک عظیم انسان ہے ۔
کالج حکومت ایس��سی ایٹ کالج برائے خواتین، رکن کالج، ملکوال (ضلع منڈی بہاؤالدین) کے طلباء و طالبات، احترام کے ساتھ ایک اہم معاملہ آپ کی توجہ میں لانا چاہتے ہیں۔
ایک گارڈ، جس کا نام آفتاب ہے اور جو باضابطہ طور پر سیکیورٹی کے فرائض انجام دینے کے لیے مقرر ہے (C-IV اسٹاف)، باقاعدگی سے کالج میں کلرک کے فرائض انجام دے رہا ہے۔ اس کی اصل ذمہ داری صرف نگرانی اور حفاظت ہے؛ تاہم، وہ طلباء کی فیس اور جرمانے جیسے امور بھی دیکھ رہا ہے۔ مزید برآں، وہ کبھی کبھار لیکچر کے اوقات میں بھی طلباء کو اپنے دفتر بلا لیتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف تعلیمی ماحول کو متاثر کرتی ہے بلکہ طلباء میں شدید بے آرامی اور غیر محفوظ ہونے کا احساس پیدا کرتی ہے۔
اس کے علاوہ، اس کے رویے کو طلباء اور بعض خواتین عملے کے ساتھ اکثر نامناسب اور غیر پیشہ ورانہ سمجھا جاتا ہے، جس سے کالج میں اضطراب اور بے چینی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ کالج میں پہلے ہی ایک باقاعدہ ہیڈ کلرک تعینات ہے، تاہم وہ بظاہر مؤثر انتظامی کردار ادا نہیں کر رہا۔ اس کے بجائے، کلرک کے کام ایک گارڈ (C-IV آفتاب) کو سونپے جا رہے ہیں، جو بظاہر قواعد و ضوابط کے خلاف ہے۔
مزید یہ کہ یہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ مذکورہ ملازم اپنا زیادہ تر وقت پرنسپل کے دفتر میں گزارتا ہے، اور کئی مواقع پر اسے پرنسپل کی کرسی پر بیٹھتے بھی دیکھا گیا ہے، جو ادارے کے نظم و ضبط اور مناسب رویے کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔
طلباء کے مشاہدات کے مطابق، مذکورہ C-IV اسٹاف ممبر کالج کی انتظامیہ، خاص طور پر پرنسپل میڈم حفصہ ریاض کی مسلسل حمایت حاصل کر رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب بھی اس کے تبادلے کا معاملہ سامنے آتا ہے، تو بظاہر اسے روکا جاتا ہے۔
مزید برآں، کالج میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ پرنسپل خود کو انتہائی بااثر ظاہر کرتی ہیں اور سینئر افسران، خاص طور پر ڈی ڈی سی جناب آصف انصاری کے قریب تعلقات رکھنے کا دعوی کرتی ہیں، جس کی وجہ سے مذکورہ شخص کے حوالے سے کسی کارروائی یا تبادلے کو بظاہر روکا جاتا ہے۔ اس صورتحال نے طلباء میں تشویش اور بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ طلباء کا خیال ہے کہ مذکورہ C-IV اسٹاف ممبر کو پرنسپل کی مسلسل حمایت حاصل ہے۔ پہلے ہمارے ایک ہم جماعت نے متعلقہ اتھارٹی (آمبڈز مین) کے پاس C-IV اسٹاف کے خلاف درخواست دی تھی، تاہم طلباء کی سمجھ کے مطابق، یہ مسئلہ بظاہر سابقہ ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر کالجز (ڈی ڈی سی) جناب فاروق اور پرنسپل میڈم حفصہ کی مداخلت سے حل کر دیا گیا، اور کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس سے طلباء میں اپنے خدشات کھلے طور پر ظاہر کرنے کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔
مندرجہ بالا حقائق کے پیش نظر، ہم احترام کے ساتھ درخواست کرتے ہیں کہ:
اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔
گارڈ آفتاب (C-IV اسٹاف) کو فوری طور پر ایسے کلرک کے فرائض سے سبکدوش کیا جائے جو اس کی سرکاری ذمہ داریوں میں شامل نہیں ہیں۔
طلباء اور عملے کے ساتھ اس کے نامناسب رویے کے بارے میں شکایات کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔
اگر کسی قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ افراد کے خلاف مناسب قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے۔
کالج کے طلباء کے لیے محفوظ، باعزت اور تعلیمی لحاظ سے صحت مند ماحول یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
ہمیں پوری امید ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور طلباء کے خدشات کے حل کے لیے جلد از جلد مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔
ابوظہبی کی حکومت قرضہ رول اور سےانکار کر دیا ھے ۔ اگر واپس نہیں کیا گیا تو اقتدار پر چور دروازے سے براجمان اشخاص (ن لیگ اور پیپلز پارٹی ) کے یو اے ای میں جائیدادیں نیلام کردی جائے گی ۔اس کے لیے اب پاکستانی عوام ایک اور مہنگائی کے طوفان کے لیے تیار ھو جائے ۔ جس کے لئے بجلی اور پٹرول مزید مہنگا کیا جائے گا ۔
یہ ہر پاکستانی کو دیکھنا اور سمجھنا چاہیے، امریکہ حالت جنگ میں ہے، امریکی حکومت اپنی قوم کے سامنے اس جنگ کو امریکی سلامتی کیلئے ضروری قرار دے رہی ہے، امریکی صدر اس جنگ کو امریکی قوم کی زندگی اور موت کا مسئلہ بنا کر پیش کر رہا ہے، لیکن اس کے باجود امریکی پارلیمنٹ Director intelligence committee کا اس جنگ پر قوم کے سامنے براہ راست محاسبہ کر رہی ہے، قوم کی اکثریت حکومت کی مخالفت کر رہی ہے، میڈیا حکومت کو جھوٹا کہہ رہا ہے اور مخالف سیاست��ان سرعام ٹرمپ کو قاتل کہہ رہے ہیں لیکن حالت جنگ میں ہونے کے باوجود ان تمام تنقیدی آوازوں اور سوالات کو نہ کوئی غدار کہہ رہا ہے اور نہ غیر ملکی ایجنٹ کے فتوے بانٹے جا رہے ہیں۔ اگر پاکستانی پاکستان کی خارجہ پالیسی یا جنگوں پر سوال یا تنقید کریں تو قومی سلامتی خطرے میں کیوں پڑ جاتی ہے؟
🚨 اے آر وائی انتظامیہ نے پہلے رات 10 بجے مریم نواز کے جہاز پر چلتا پروگرام کاٹ دیا اور وہی پروگرام جب رات 2 بجے repeat ہونا تھا تو 2 بجے چلایا ہی نہیں گیا ،
دیکھی پھر میری میڈیا منیجمنٹ ؟؟؟
اگر محمد ما��ک کے سوالات غلط ہیں تو ان پر بھی کوئی ڈیفامیشن یا پیکا کا کیس کریں ناں جناب
🚨🚨لگثری جہاز پر کڑوے سوالات، اچانک پروگرام میں بریک آگئی
لگثری جہاز کے بارے محمد مالک کے 17 سوالات، محمد مالک نے کہا، پلیز دھمکیاں نہ دیں، ہم نہ جھوٹ بول رہے ہیں اور نہ ہی بہتان لگا رہے ہیں، سادہ سوالات کے جواب دیں، اور پھر پرواگرام اُڑ گیا، اچانک بریک پر چلے گئے۔۔۔!!!
سوال یہ ہے کہ بجٹ میں ان رقوم کو کس مد میں مختص کیا جاتا ہے۔ ان اخراجات کا تخمینہ کیسے اور کون لگاتا ہے، بجٹ میں یہ اخراجات کہاں درج ہوتے ہیں۔ @IMFNews@imfcapdev کیسے ان پر روک نہیں لگاتا اور حساب نہیں مانگتا۔ کیا ان بیس ارب کی رسیدوں کا حساب کیا جاتا ہے، کیا وہ ساری رسیدیں اصلی ہوتی ہیں، ان سب کا آڈٹ کون کرتا ہے، اس کی رپورٹس کو کون دیکھتا ہے، کون اس کا ایکشن پلان بناتا ہے یا ی�� سب لوٹ مار کا بازار آپس میں مل ملا کر غریبوں کے ٹیکسوں، پیٹرول، بجلی، گیس کے بلوں میں زبردستی شامل کر دیا جاتا ہے۔ کون ذمہ دار ہے جس کا گریبان پکڑنا ہے بقول محمد مالک کے 🤪🤪 @81ShahbazRana
آج اتنا رونا آ رہا ہے جب سے شوکت خانم سے کال آئی ہے کہ کل 19 فروری کو آپکا سی ٹی اسکین ہے ٹائم سے پہنچ جائیے گا۔۔۔ کیوں نہیں آؤں گا میں نے آج تک ایک بھی اپوائنٹمنٹ مس نہیں کی۔۔۔
ساتھ ہی فون پہ صاحب بولے چھیالیس ہزار ٹیسٹ کی پیمنٹ ہے جو اپنے کرنی ہوگی میں پریشان نہیں ہوا کیونکہ یہ پہلی دفعہ نہیں ہو رہا ۔ جب آپ 8 مہینے بعد صرف ٹیسٹ کی غرض سے جا رہے ہوں تو بعض اوقات سٹیٹس چینج کرانا ہوتا ہے میں نے بولا سر میں فری والا ہوں تو ادھر سے بھی پیار سے بولا گیا اچھا میں ابھی آپکا سٹیٹس تبدیل کروا دیتا ہوں آپ پریشان نا ہوں اور پھر 5 منٹ بع�� دوبارہ کال آئ کی آپ کے ڈاکٹر سے بات کر لی ہے آپ سکون سے آ جائیں ۔
اتنا خیال تو گھر والے بھی نہیں رکھتے جب آپ مسلسل 8 سال بغیر کچھ دیے مفت میں گھر والوں پہ بوجھ بن جائیں۔😭😭
میں ان کا کیا لگتا ہوں یہ میرا اتنا خیال کیوں رکھتے ہیں 😭😭
پھر مجھے عمران خان صاحب کے وہ الفاظ یاد آ گئے جو انھوں نے شوکت خانم ہسپتال کے افتتاح کے موقع پر بولے تھے۔
" اگر آپکے پاس کوئی ایسا مریض آئے جس کے بال صحیح نا بنے ہوں اور کپڑے صاف نا ہوں آپ نے یہ نہیں دیکھنا وہ کیسا لگ رہا ہے آپ نے یہ دیکھنا ہے کہ مریض آیا ہے"
میرا دل پھٹ رہا ہے میں ایسے شخص کے لیے کچھ بھی نہیں کر پا رہا
کوئی تو میرے خان کو بچا لے یار اسکے بعد سب ختم ہے کچھ بھی نہیں بچے گا ۔۔۔ یا اللّٰہ مدد بھیج
محمد نعمان کی وال سے
امریکہ کے ویزے کے لئیے نئی شرائط۔
اپنے سوشل میڈیا کی پانچ سال کی ہسٹری۔ تمام ای میل تک رسائ۔ جس جس سے فون پر بات ہوئ اُس کا ریکارڈ۔ اسرائیل کے خلاف کوئ پوسٹ کی ہے یا نہیں۔ وغیرہ وغیرہ
فری اسپیچ کا جنازہ نکلا ہے۔ ہمیشہ کہتا تھا کہ امریکہ کو اسرائیل چلاتا اب دنیا دیکھ رہی ہے۔