کی فی لیٹر قیمت 378 روپے سے کم ہو کر 311 روپے پر آ جائے گی۔ اس کا مطلب کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی کا ریلیف عوام کو منتقل نہیں کیا جا رہا۔ عمران خان کے دور حکومت میں تیل 120ڈالرز فی بیرل تھا اور پاکستان میں 149 روپے فی لیٹر م��تا تھا جبکہ اج کل 73ڈالرز فی بیرل ملتا ہے۔
ایران کی جنگ سے پہلے عالمی منڈی میں تیل 76 ڈالر پر تھا اور پاکستان میں اس کی قیمت 250 روپے اور ڈیزل کی قیمت 280 روپے تھی آج عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 73 ڈالر ہے اور پاکستان میں پٹرول کی قیمت قیمت 373 روپے سے کم ہو کر 299 روپے پرآجائےگی،جبکہ ڈیزل
آج عالمی منڈی میں پیٹرول عمران خان کے دور سے کم و بیش 30 فیصد کم قیمت پر میسر ہے تو حکومت کو فوراً عوام کو ریلیف دینا چاہیے۔
یاد رہے کہ رجیم چینج آپریشن کے وقت قیمت 150 روپے فی لیٹر تھی۔