آج کے دن اگر کوئی ایک ٹویٹ لکھنی چاہیے تو وہ حامد میر کے بارے میں لکھنی چاہیے
سیاست کو لے کر آپ بے شک ان کے خیالات سے مطابقت نہ رکھتے ہوں لیکن انسانیت کو لے کر آپ کو آج حامد میر کو سراہنا ہی پڑے گا
اس وقت جب مظلوم بلوچ عورتیں اور بچے اپنے جمہوری حق کیلئے اسلام آباد ' جس پر ان کو بھی اتنا ہی حق ہے جتنا باقی پاکستان کا ' وہاں دس دن کے مارچ کے بعد پرامن طریقے سے اکٹھے ہویے تھے اور سوال بس ان گمشدہ لوگوں کے بارے میں تھا جن کو گھروں سے گیے زیادہ نہیں یہی کوئی دس پندرہ سال ہو چلے تھے '
ایسے میں جب ان پر دسمبر کی سردی میں واٹر کینن اور ڈنڈے برسایے جارہے تھے اور وہاں نہ کوئی سیاست دان تھا اور نہ بڑے بڑے اینکرز ' ایسے میں حامد میر جس طرح ان بلوچ عورتوں کے حق میں چیخ رہے تھے وہ قابل تحسین ہے اور لائق تحریر ہے
ڈوبتے کو تنکے کا کنارہ بھی کافی لگتا ہے
جس طرح وہ مظلوم عورتیں بچے حامد میر کے پیچھے پناہ لے رہے تھے اور ان سے لپٹ رہے تھے ' اس نے صرف حامد کو نہیں بلکہ سب دیکھنے والوں کو بھی اشکبار کردیا
حامد میر کے پروگراموں پر آپ لاکھ تنقید کریں لیکن یہ بات درست ہے کہ کیپیٹل ٹاک کی تقریبا ہر قسط میں انہوں نے کسی نہ کسی طرح گمشدہ بلوچوں اور ان کے مطالبات کی بات کی ہے , اور مسلسل اور بلا جھجھک کی ہے - 👏👏❤️
ایسا نہ ہو یہ درد بنے درد لادوا ۔ ایسا نہ ہوکہ تم بھی مداوا نہ کر سکو ۔۔۔ اپنے تابع شخص کو وزیر اعظم بنانے میں بد مست ہاتھیو ! تم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر امریکی غلامی میں جو کانٹے بوئے ہیں تمہارے گریبان تک آچکے ہیں۔ یہ عوام ہے تو یہ وطن ہے اور یہ وطن ہے تو تم ہو