@mohsin__zaid چوری کی بجلی بھی حرام نہیں ہے پاکستان میں۔ جتنا ٹیکس حکومت لیتی ہے اس حساب سے حکومت کی بجلی استعمال کر لو۔ کوئی گناہ نہیں کوئی حرام نہیں۔
اگر آپکو لگتا ہے کہ فضل الرحمان صاحب کی بغاوت اصلی بغاوت ہے اور اس کے پیچھے جنرلز نہیں ہیں تو پھر بد قسمتی سے آپ stunted growth کا شکار ہیں۔ اللہ آپ پر رحم کرے۔
یہ بس ایک نیا جرنیلی پراجیکٹ ہے۔ اور کچھ نہیں۔
جب تک مولانا پر دہشت گردی کے پرچے نہیں ہوتے،ایف آئی اے دفتر کے چکر نہیں لگتے،پیکا ایکٹ کے تحت انکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند نہیں کروائے جاتے،انکے گھر سیل نہیں کیے جاتے انکے پاسپورٹ بالک نہیں کئے جاتے تب تک ہمیں یقین نہیں ائے گا:)
مولانا فضل الرحمن کو اسٹیبلشمنٹ نے آخری کوشش کے طور پر اس مقصد کے ساتھ لانچ کیا ہے کہ جاو اور جا کر اداروں پر تنقید کرو ہو سکتا ہے کہ قوم عمران خان کو بھلا کر مولانا کی جانب چلی جائے اور اگر ایسا ہوگیا تو مولانا تو اپنا ہی ہے
لیکن ناجانے یہ بیوقوف کیوں بھول جاتے ہیں کہ عمران خان ایک نظریہ ہے اور نظریہ ختم نہیں ہوتا بلکہ مزید پھلتا اور پھولتا ہے اور ویسے بھی قوم اب ان کے ہتھکنڈوں کو اور مولانا کے وقتی ڈراموں کو سمجھ چکی ہے
@iRaiSaqib ایسی نورا کشتیاں بہت دیکھ چکے ہیں ہم۔ پہلی سمجھ کم اتا تھا اب عمران خان سارے پردے اٹھا چکا ہے۔ قوم کو پھدو بنانے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ عوام ڈر تو گئی ہے لیکن مزید بیوقوف نہیں بن رہی اب
@enkidureborn عوام مولانا اور فوج کی نورا کشتی پر چسکے لیتی ہے۔ مولانا کو بھی تھپکی دیتی ہے فوج کو بھی للکارا مارتی ہے۔
امریکی ریسلنگ کی طرح سب کو پتہ ہوتا ہے سب ڈرامہ ہے پھر بھی شوق سے دیکھتے ہیں۔ 😂
پاکستانی تجزیہ کار موٹر سائیکل پر چڑھتے ہیں کلچ دباتے ہیں ، پوری ریس دیکر کلچ چھوڑتے ہیں اور پھر اگلا ٹائر ہوا میں کرتے ہوئے شروع ہوجاتے ہیں مولانا نے فوج پر تنقید کی ہے ، اب مولانا عوام میں مقبول ہوجائے گا ، اب پھر عمران خان آہستہ آہستہ بھلا دیا جائے گا ، پھر تحریک انصاف ختم ہوجائے گی ، پھر اس ملک کے لاکھوں کروڑوں یوتھیے یوتھیے کھٹے رنگ کی پگڑیاں باندھ لیں گے اور اسکے بعد پھر راوی چین ہی چین لکھے گا۔ ان ون ویلر تجزیہ کاروں کے پیچھے انکے لاڈو رانیاں بیٹھی ہوتی ہیں جو یہی والے جھولے جھولتے ہوئے شروع ہوجاتی ہیں کہ ہائے اللہ اب کیا ہوگا۔
خدا کے بندو ، سیاسی بیانیے ایسے سلف سٹارٹ انجن نہیں ہوتے نا ہی مقبولیت ایک دو تقریروں کی ناک پر دھری ہوتی ہے۔ ایک سیاستدان کا ٹریک ریکارڈ ، اس کی استقامت ، اس کا موقف ، اسکی اصول پرستی پھر حالات ایک طویل جدوجہد کے ساتھ مل کر اسکے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر اتنی جلدی مقبولیت ملتی ہوتی تو فوج سب سے پہلے خود کو مقبول کرتی۔ اگر مولانا نے کسی اصول پرستی کا مظاہرہ کرنا ہوتا تو پچھلے تیس چالیس سال میں دو چار آٹھ دفعہ دس دفعہ تو کرتے۔
ریس کم کریں ، کلچ آہستہ سے چھوڑیں اور اپنے تجزیے آرام آرام سے چلائیں۔
@pakistanii32@TurgayEvren1 Saudia Kuwait helped and funded america to attack Iraq. Iran is fighting Israel and america. While other so called Muslim countries are joining israel in abarahm accords and sending their armies and money against Palestinians.
@81ShahbazRana@Fahdhusain But we see it differently. There is no space for civilian government. Everything is controlled by military. courts civil administration foreign relations power generation airline fertilizer cement bank dairy fmcgs. No government can deliver under these circumstances
بیس سال بعد...
اس کلپ کو غور سے سنیے۔
ممکن ہے آپ اس میں کی گئی ہر بات سے اتفاق نہ کریں، ممکن ہے آپ اسے محض ایک تجزیہ سمجھیں یا ایک پیش گوئی، لیکن آج جب ہم 2026 میں کھڑے ہو کر پیچھے مڑ کر دیکھ رہے ہیں تو ایک بات ضرور محسوس ہوتی ہے: ہم اس طوفان کے کنارے پر نہیں، بلکہ اس کی آنکھ میں کھڑے ہیں!
اس خطاب میں مقرر کہتے ہیں کہ اگر آپ دنیا کے مالیاتی نظام کو غور سے دیکھیں تو "تحریر دیوار پر لکھی جا چکی ہے"۔ انکے مطابق ایک نیا عالمی مالیاتی نظام جنم لینے والا ہے، جس میں امریکی ڈالر اپنی مرکزی حیثیت مکمل طور پر کھو دے گا۔ اور جب امریکی ڈالر گرے گا تو اسکے ساتھ امریکی معیشت بھی شدید بحران کا شکار ہو جائے گی۔
وہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کا موازنہ 1940 کے اس واقعے سے کرتے ہیں جس نے دوسری بڑی جنگ عظیم کی راہ ہموار کی تھی۔ انکے مطابق افغانستان اور عراق پر حملے اور دنیا میں امریکی بالادستی کا پھیلاؤ، دراصل ایک بڑے جغرافیائی اور سیاسی منصوبے کا حصہ ہیں۔
ان تمام واقعات کا مقصد ایک ایسی بڑی جنگ کے لیے ماحول تیار کرنا تھا جس کے نتیجے میں اسرائیل اپنی سرحدوں کو نمایاں طور پر وسعت دے گا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض مذہبی اور سیاسی تصورات کے مطابق "مقدس سرزمین" کی حدود دریائے مصر سے دریائے فرات تک بیان کی جاتی ہیں، حالانکہ وہ خود اس تشریح سے اختلاف کا اظہار کرتے ہیں!
اسکے بعد وہ یہ مؤقف پیش کرتے ہیں کہ اگر ایسی کوئی بڑی جنگ وقوع پذیر ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف خطے کی جغرافیائی سیاست تبدیل ہوگی بلکہ سویز کینال، خلیجی تیل اور عالمی تجارت کے اہم راستے بھی نئی طاقتوں کے زیر اثر آ سکتے ہیں۔ ایسی صورت حال امریکی ڈالر پر ایک شدید حملے کا باعث بنے گی اور اگر ڈالر گرتا ہے تو کاغذی کرنسی پر قائم پورا عالمی نظام بھی ہل کر رہ جائے گا۔
مقرر کا خیال ہے کہ اس ممکنہ جنگ میں ایسے ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں جنہیں دنیا نے پہلے کبھی نہ دیکھا ہو، اور اسکے نتیجے میں عالمی طاقت کا مرکز امریکہ سے منتقل ہو جائے گا۔ پہلے برطانیہ عالمی طاقت تھا، پھر امریکہ اور اسکے بعد ایک تیسری اور آخری قوت ابھرے گی۔
اس تناظر میں وہ پاکستان کی جوہری صلاحیت اور ایران کے میزائل پروگرام کو اہم عوامل قرار دیتے ہیں، کہ جب تک یہ رکاوٹیں موجود ہیں، خطے میں مکمل جغرافیائی تبدیلی آسان نہیں ہوگی۔ انکے مطابق دنیا بھر میں جاری سفارتی کشمکش، اتحاد، پابندیاں اور پراکسی تنازعات دراصل اسی بڑی شطرنج کا حصہ ہیں۔
آخر میں اسلامی آخرتی تصورات کا حوالہ دیتے ہوئے دجال اور اینٹی کرائسٹ کے تصور کو موجودہ عالمی حالات سے جوڑتے ہیں، اور یہ کہ انسانیت ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں دہشت گردی، جنگ، معاشی عدم استحکام اور عالمی انتشار اپنی انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔
آج، بیس سال بعد، اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو کیا دیکھتے ہیں؟
ایک ایسی دنیا جہاں امریکی قرضہ تاریخ کی بلند ترین سطحوں پر ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں چین، روس اور دیگر ممالک متبادل مالیاتی نظاموں پر بات کر رہے ہیں۔ ایک ایسی دنیا جہاں مشرق وسطی مسلسل کشیدگی کا شکار ہے، ایران اور اسرائیل براہ راست ایک دوسرے کے سامنے آ چکے ہیں اور عالمی طاقت کا توازن پہلے سے کہیں زیادہ غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔
اس خطاب میں کی گئی تقریبا ہر بات درست ثابت ہو چکی ہے۔
بیس سال بعد، شاید سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ انھوں نے کیا درست کہا اور کیا غلط۔
بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے:
"کیا ہم واقعی اس دور میں داخل ہو چکے ہیں جس کے آثار دو دہائیاں پہلے بیان کیے گئے تھے؟"
کیونکہ اگر آپ آج کی دنیا کو غور سے دیکھیں، تو اس احساس سے بچنا مشکل ہے:
ہم طوفان کو آتا ہوا نہیں دیکھ رہے۔
ہم طوفان کی آنکھ میں کھڑے ہیں۔
تو پھر نورین نیازی نے کیا غلط کہا ہے ؟!
“جب بھارت کوٹلی مریدکے اور مظفر آباد پر مزائیلوں سے حملے کر چکا تھا 48 پاکستانی شہید ہو چکے تھے اس وقت بھی رانا ثناءاللہ بیان دے رہا تھا کہ بھارت اب بس کرے ہم جواب نہیں دیں گے اور آرمی چیف بھی جواب نہیں دینا چاہتے۔”