کراچی: صدیوں کی کتھا (قسط 24 ) https://t.co/xmJzfZSCcw via @humsubcompk
فی الحال ناؤنمل کو چھاؤنی میں چھوڑتے ہیں کہ وہ فوجی عدالت کا جج ہونے پر بہت خوش ہے۔
فتح باغ، جہاں اب کوئی باغ نہیں https://t.co/PYWV0sInRD
کشش کا یہ دھاگا مجھے بھی فتح باغ لے گیا۔ آپ اگر حیدرآباد سے بدین کی طرف چلیں تو ماتلی سے کچھ کلومیٹر آگے انصاری شوگر مل سے مغرب کی طرف ایک لنک روڈ نکلتا ہے جو آپ کو وہاں تک لے جائے گا۔
کراچی: صدیوں کی کتھا (قسط 22 ) https://t.co/Lr7KsVee27 via @humsubcompk
اس عرصہ میں شب خون کی افواہیں بھی کیمپ میں اُڑتی رہیں۔ ان ہی دنوں میں ایک سپاہی جس کا نام چاند دین تھا اور جس کا تعلق پانچ بمبئی کی نیٹیو انفنٹری سے تھا، وہ میرپور خاص کے شیر محمد خان کی قید سے بھاگ آیا تھا
سونڈا: صدیوں کی داستانیں کہتا قبرستان https://t.co/Q81BMFGDvs
اس دھند میں ایک سحر پوشیدہ ہوتا ہے جو آپ کو ماضی کے ان دنوں میں لے جاتا ہے، جو ہم نے کبھی نہیں دیکھے، بس کتابوں کے اوراق پر جمے الفاظ ہمیں سناتے ہیں اور ہم ذہن میں ان دنوں کو بننے لگ پڑتے ہیں۔
کراچی: صدیوں کی کتھا (قسط 21 ) https://t.co/VSuiAuNSZR via @humsubcompk
سندھ کے حاکموں کے لئے زمین سکڑنے لگی تھی اور پریشانیوں اور ذہنی دباؤ کی کانٹے دار جھاڑیاں اب درخت بننے والی تھیں، اِس برس کے سرد دنوں میں ان سے بہت کچھ چھیننے کی پلاننگ ہو رہی ہے۔