ایبٹ آباد میں علیمہ خان کے استقبالیہ کے مقام پر پہلے ہی ہزاروں افراد جمع ہیں جبکہ مزید عوام راستوں میں ہے جو کہ عمران خان کی بہن کے استقبالیہ اور " آزادی یا شہادت " جدوجہد کا حصہ بننے کیلئے پہنچ رہی ہے
عمران خان کو ظالموں نے قید تنہائی میں اس لیے رکھا ہوا تاکہ اس کی آواز آپ تک نہ پہنچ سکے
آپ نے عمران خان کی قید تنہائی ختم کرانے ان کے علاج کروانے کے لیے سڑکوں پر نکل کر حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے۔
علیمہ خان
بشری بی بی نے بھی عمران خان کی رہائی کیلئے سنجیدہ کوششیں کی تھیں
پی ٹی آئی کی کمپرومائز قیادت نے خود کہہ کر بشری بی بی کو سزا دلوا دی
اب وہی کھیل علیمہ خان کے ساتھ بھی کھیلا جائے گا، دشمن سے زیادہ غدار خطرناک ہوتے ہیں
اور بدقسمتی سے برصغیر میں آنے والے پہلے وائسرائے سے لے کر موجودہ وائسرائے تک ، سب کو غدار ہمیشہ وافر ملے ہیں
اس خطے کے عوام جب تک خود نکل کر سب کچھ اپنے ہاتھ میں نہیں لے لیتے
کچھ بھی تبدیل نہیں ہو گا
کہ قدرت کو آخر کیا پڑی ہے کہ ان منافقوں ، غداروں، کاہلوں اور بزدلوں کیلئے سب کبھ تہہ و بالا کر دے ؟
#پاکستان
سیاسی بونوں کو علیمہ خان کے چترال دورے سے ڈر پیدا ہو گیا ہے اور انہوں نے کہنا شروع کردیا ہے عمران خان کی تحریک انصاف میں موروثیت نہیں ہے
لیڈرشپ بہت گھبرائی ہوئی ہے کہ علیمہ خان صاحبہ نے یکطرفہ ہی مزاحمت کا اعلان کردیا ہے اور سوشل میڈیا خاص کر ورکر اس سے خوش ہیں
شہزاد اکبر
جس طرح ایران کی مدد کو کوئی نہیں آیا وہ جیت گیے ایسے ہی عمران خان کی مدد کے لیے بھی پارٹی سمیت سب غائب وہ بھی جیت جائے گا۔ ۔۔۔انشالله
اب کمپرومائزڈ قیادت علیمہ خان کو گرفتار کرنے کی کوشش کرے گی۔ انہیں چاہیے کہ کے پی میں رہیں وہاں سے گرفتار کریں تاکہ سب کو پتہ چلے
“مجھے بار بار ڈیل آفر ہوئی اور کہا گیا کہ ملک چھوڑ کر چلا جاؤں یا خاموش ہو جاؤں تو میرے کیسز ختم کر دئیے جائیں گے، لیکن پہلے دن سے میرا موقف ہے کہ میں ان مقدمات کا سامنا عدالتوں سے کر کے ہی باہر آؤں گا کسی ڈیل کے نتیجے میں ہرگز نہیں۔ اسی لیے مجھ پر بے بنیاد 300 مقدمات بنائے گئے ہیں۔ کوئی بھی اور شخص ہوتا تو ان مقدمات کا سامنا نہیں کر پاتا لیکن میں جانتا ہوں کہ میں بے گناہ اور حق پر ہوں۔
اب توشہ خانہ کا جھوٹا کیس بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے گواہان برگیڈیر احمد اور کرنل ریحان نے اقرار کیا ہے کہ توشہ خانہ کے تحفے میرے گھر نہیں گئے بلکہ توشہ خانہ میں جمع کروائے گئے اور ان کے کاغذات مکمل ہیں۔
اب اس مقدمے میں ایک دن میں بریت ہو جانی چاہیئے، خصوصی طور پر بشرٰی بیگم کی ضمانت تو ہو جانی چاہیئے کیونکہ وہ خاتون ہیں اور اس کیس میں ان پر aiding and abetting کا ہی جھوٹا الزام ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ چھبیسویں ترمیم والی عدالتیں اوپر سے لکھے لکھائے فیصلے ہی سناتی ہیں جو قانون کے مطابق نہیں عاصم لأ کے مطابق ہوتے ہیں۔ ترتیب بھی یوں رکھی جائے گی کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا سنائی جائے گی پھر القادر میں ضمانت کا فیصلہ آئے گا۔ یہی سکرپٹ ہے اور عدلیہ فی الحال قانون کے بجائے سکرپٹ پر ہی چل رہی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو(24 ستمبر، 2025)
2/2
ہم نے عمران خان کو اس لیے باہر نکالنا ہے تاکہ عمران خان ہمارے ساتھ مل کر ہمیں اور پاکستان کو بچائیں آج ہم نے اس ظلم کے خلاف جہاد نا کیا تو ہمارے بچے ان کے بچوں کی غلامی کریں گے ۔
دیر بالا واڑی میں @Aleema_KhanPK کا خطاب
#ReleaseImranKhan
علیمہ خان کو اگلی پیشی یا اسکے بعد والی پیشی پر بوگس کیس میں سزا سنا کر جیل بھیجا جائے گا۔
لیکن بہادر بھائی کی بہادر بہن جانے سے پہلے بھی عوام کے درمیان آئی۔
عمران خان کے نام پر ممبران اسمبلی ،وزیراعلی بننے والوں کو باور کروا رہی ہیں جس عمران خان کی وجہ سے عہدے دار بنے ہو اسکے لیے کچھ تو کر لو۔