ڈی ایس پی عمران الدین شہید جب ناصر باغ تھانے میں ایس ایچ او تھے تب شہید نے نہ صرف مراد سعید کی فیملی کے خلاف پرچہ دینے اور گرفتار کرنے سے انکار کیا تھا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا تھا کہ مراد سعید کے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئی ایس آئی کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے، تب انہیں معطل کر دیا گیا تھا۔
کرک کے علاقے لاتمبر میں حملے کے شہدا میں سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی عمران الدین، ایس ایچ او لاتمبر افضل اعوان، سی ٹی ڈی اہلکار کاظم اور بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار امجد شامل ہیں۔
محبِ وطن پولیس افسران کو جعلی دہشت گردی کے حملوں میں شہید کرنا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLa
تحریکِ انصاف کے سینیٹرز، ارکانِ اسمبلی اور عہدے داروں کی سیاسی حیثیت عمران خان کی مرہونِ منت ہے۔ آج عمران خان قید میں ہیں اور خیبرپختونخوا کی حکومت بھی چھن چکی ہے۔ سوچنا ہوگا کہ اس نظام کا حصہ رہ کر وہ حاصل کیا کر رہے ہیں یا محض اسے سہارا دے رہے ہیں؟ اسمبلی کے اندر فوٹو سیشن، رسمی تقاریر اور بےنتیجہ سرگرمیوں سے عمران خان کو کیا ریلیف ملا؟ آخر عہدے مقصد کے لیے ہیں یا مقصد عہدوں کے لیے!
اغوا سے دو تین روز قبل اقبال آفریدی صاحب نے بتایا تھا کہ پارٹی احتجاج کے لیے انہیں سپورٹ نہیں کر رہی!
اقبال آفریدی صاحب سے اغوا سے دو تین روز قبل میری بات چیت ہوئی تھی اور ان کا انٹرویو بھی ریکارڈ کیا تھا، جو بدقسمتی سے ایپ کے مسئلے کی وجہ سے نشر نہ ہو سکا۔
گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ وہ عمران خان صاحب کی رہائی، احتجاج اور لانگ مارچ کے لیے پُرعزم ہیں، لیکن انہیں پارٹی قیادت کی جانب سے مطلوبہ حمایت نہیں مل رہی۔ محمود خان اچکزئی سمیت بعض رہنماؤں اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے قریبی ساتھیوں سے رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے تحفظات بھی بیان کیے۔
اقبال آفریدی صاحب نے یہ بھی بتایا کہ پارٹی کے متعدد رہنماؤں نے انہیں کہا کہ آپ بہت سخت مؤقف اختیار کرتے ہیں، اس انداز میں بات نہ کیا کریں، اس سے پارٹی کو نقصان ہوتا ہے اور آپ کے لیے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کے بقول، یہ باتیں بھی ان کے ساتھ کی گئی تھیں، جن کا انہوں نے مجھ سے ذکر کیا۔
انہیں عمران خان صاحب کی رہائی اور احتجاجی تحریک کی فکر تھی۔ وہ اپنے لیڈر کے لیے آواز اٹھانا چاہتے تھے، مگر اب خود اغوا ہو چکے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اقبال آفریدی صاحب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے، خیریت سے رکھے اور جلد بازیاب فرمائے۔ آمین۔
تحریکِ انصاف کے کسی بھی رکن نے اپنے نام پر ووٹ نہیں لیا۔ یہ ووٹ، یہ نشست، یہ عزت اور یہ اقتدار سب عمران خان کے نام پر خیبرپختونخوا کے عوام نے دیا ہے۔ اس لیے عمران خان کے منتخب نمائندوں کے حق میں آواز اٹھانا ہمارا فرض ہے۔
نہ سہیل آفریدی میرے دوست ہیں، نہ علی امین گنڈاپور۔ لیکن جب علی امین بارہ اضلاع کا سفر طے کرکے اسمبلی پہنچے تو میں نے ان کے حق میں بھی آواز اٹھائی، کیونکہ وہ عمران خان کے منتخب کردہ وزیراعلیٰ تھے۔
عوام سب دیکھ رہی ہے، پارٹی اور اس کے رہنماؤں کے بارے میں اپنی رائے قائم کر رہی ہے۔ آج نہیں تو کل، ہمیں دوبارہ عوام کی عدالت میں جانا ہوگا، اور اُس وقت ہمارے آج کے رویے بھی یاد رکھے جائیں گے۔
ایس ایچ او عمران الدین شہید کو خصوصی خراجِ تحسین، جس نے ایک پختون خاتون پر اور مراد سعید پر جھوٹی ایف ائی آر کرنے سے صاف انکار کردیا تھا، کاش عمران الدین کی طرح اس کے آفیسرز بھی غیرت کا مظاہرہ کرتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
کل رات جب میں تحریک انصاف کے MNA اقبال آفریدی کا انٹرویو کر رہا تھا اس دوران انہیں اغواء کیا گیا، کیمرے میں مناظر قید ہوئے، اقبال آفریدی کا انٹرویو جارہانہ تھا، لانگ مارچ سے متعلق کیا حکمت عملی بنائی سب بتا دی
https://t.co/UtaiOLtddZ
پارٹی نے شوکاز نوٹس بھیجنے کے بجائے ریمو کرنے میں ہی عافیت سمجھی، کیونکہ مشال نے دھمکی دی تھی، میری خواہش ہے مجھے شوکاز نوٹس دیا جائے تاکہ میں تمام حقائق سامنے لا سکوں اور سوشل میڈیا پر ایک نیا محاذ کھولو۔ لیکن پارٹی نے ان کی یہ آخری خواہش پوری نہیں کی۔ اسے کہتے ہیں تڑپ تڑپ کر مارنا۔۔
تحریک انصاف جو بھی کرئے۔ ان کی اپنی مرضی۔
لیکن اللہ گواہ رہے۔ میں اور علامه راجه ناصر عباس صاحب کسۍ قیمت پہ عمران خان کو اکیلا نہیں چھوڑے گے-
مشر محمود خان اچکزی
عمران الدین پولیس افسر جس نے آئی ایس آئی کے کہنے پہ مراد سعید کے گھر والوں کی عزت پامال کرنے سے انکار کیا۔ کسی کے پاس اس غیرت مند پولیس والے کی تصویر ہے؟
کرک میں ڈی ایس پی ،عمران الدین، ایس ایچ او لتمبر افضل اعوان، امجد اور کاظم کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور اس بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔
ہم شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
ڈی ایس پی عمران الدین تب ناصر باغ تھانے میں ایس ایچ او تھا تب عمران نے مراد سعید کی فیملی کے خلاف پرچہ دینے اور گرفتار کرنے سے انکار کیا تھا اسے معطل کر دیا گیا
جب عمران معطلی کے بعد تھانے سے جانے لگا تو والہانہ استقبال عوام نے کیا تھا
بڑی زبردست ڈیولپمنٹ!!
مشال یوسفزئی کو پارلیمنٹیرینز گروپ سے باہر کردیا گیا,
اب مشال یوسفزئی کے دوستوں کو بھی نکال باہر کیا جائے!!
شکریہ سلمان اکرم راجہ صاحب
@salmanAraja