یہ فوج ہی پاکستان اور پاکستانیوں کو انڈیا سے زیادہ اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ ہمیں کچلنے کے لیے دہشت گرد بناتی ہے۔ پختونخوا حکومت گرانے کے لیے اپنے ہی لوگوں کو کیوں مار رہے ہو؟ تمہاری یہ ذہنیت کب بدلے گی؟ مجھے افسوس ہے، نہیں بدلے گی۔
تمہاری پالیسی پہلے دن سے یہ ہے کہ امریکا کی دلالی کرو اور ڈالر گھر لے جاؤ۔ 9/11 کے بعد امریکا ہماری معاونت کرتا تھا کہ افغانیوں کو پکڑ کر ان کے حوالے کرو ۔ آج وہ معاونت ہم��ں افغانیوں سے بچانے کے لیے کر رہا ہے۔
میں نے مشرقی پاکستان میں تمہیں نہتے بنگالیوں کو شکار کے شوق میں مارتے دیکھا ہے۔ وہ وزیرستان ہو یا تربت، سانحہ APS کا مجرم ہو یا دہشت گرد، وہ تمہارے گھروں میں پناہ لے رہے ہوتے ہیں! اپنی دہشت گردی سے باز آ جاؤ۔
آج ستمبر کی اٹھائیس ہے دن ہے سوموار کا اور سال ہے 2026 اور آپ دیکھ رہے ہیں ٹوئٹر یعنی ایکس۔ آج کے دن تک فوج ناکام ہے ، عمران خان مقبول ہے۔ کٹھ پتلیاں رسواء ہیں۔ عوام کے سینوں میں نفرت ابل رہی ہے۔ فوج کیلیے جگہ جگہ مصیبتیں بڑھتی جارہی ہے اور دووور دوووور تک فوج کا اس سے نکلنے کا کوئی امکان نہیں۔ نشریات ختم ہوئیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وژن کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں پہلے نمبر پر آچکا ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ جس ملک کی سپاہ ہی دہشت گردوں کی سہولتکار ہوں، انہیں لا کر بسانے کی دلیلیں فراہم کرتی رہی ہوں اور تو اور ان کو ساتھ ملا کر سیاست دانوں کو اغوا کرتی ہوں۔ وہاں امن تو پھلنے پھولنے سے رہا۔
ذیل میں پاکستان میں دہشت گردی کی واپسی میں اس مافیہ کے کردار کی تاریخ کے متعلق اپنی کتاب ”دزدِ نیم شب کا رقیب“ کے متعلقہ اقتباسات جو پاکستان میں دہشت گردی کی واپسی کی ٹائم لائن ہے۔ پڑھیے اور سر دھنیے کہ کیسے آپ کو ایندھن بنانے کا سامان کیا گیا۔ اور آپ کے ٹیکس کے پیسوں سے ہی آپ کے قاتلوں کو حسبِ منشاء لایا لے جایا جاتا رہا۔ پڑھیے اور اپنی قسمت پر ماتم کیجیے کہ جن کے محافظ ان کا سودا کرآئیں اُن کا اپنی قسمت پر رونا ہی بنتا ہے۔
1/5
گورنر راج لگانے کی تمہاری اوقات نہیں، نہ تم ووٹ آف نو کانفیڈنس لا سکتے ہو۔ قوم تمہیں پہچانتی ہے، تمہاری حیثیت جانتی ہے۔ ڈر کے مارے جتنا مرضی زور لگا لو، پاکستان کا ایک ہی کانفیڈنس ہے، اور اُس کا نام عمران خان ہے!
عاصم منیر، تمہارے پاس ایک ہی راس��ہ ہے۔ براہِ راست مارشل لاء لگاؤ، اور وہ بھی تم 10 دن سے زیادہ نہیں چلا سکو گے۔ تمہارے اپنے تمہارے ساتھ وہ کرے گی جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہوگا۔
سب سے بڑی بہادری ٹریگر دبانا نہیں بلکہ غلط ہونے پر اسے دبانے سے انکار کرنا ہے۔ ہر سپاہی کو ایک سوال کا جواب دینا ہوتا ہے کیا یہ حکم عادلانہ ہے؟ یاد رکھیں، اللہ کے حضور جوابدہی ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
جو قومی سلامتی کے الزامات سہیل آفریدی پر لگائے جا رہیں ہیں یہ الزامات جرنل ایوب خان، فیلڈ مارشل نے پختونستان کے حوالے سے فاطمہ جناح پر بھی لگائے تھے۔
ہر ڈخٹیٹر کی یہی واردات، ہٹلر ، موسیلینی سے لے کرفیلڈ مارشل تک
Former Prime Minister Imran Khan's Message – July 8, 2025
Note: This is a repost of the tweet posted on July 9, 2025.
“When a nation rises for its rights, no force on earth can suppress it. I remain a free man, even in jail, but my nation is trapped in a prison where there is no independent judiciary, no genuine democracy, and no free media. Every Pakistani must rise up for their true freedom!
For two years, I have remained imprisoned solely for the sake of the Pakistani nation, so that no one can enslave you. Now, the time has come for you to stand up for your own freedom and defeat this oppressive system.
I repeatedly called for dialogue in the best interest of the country. But the time for negotiations has now passed. After the 26th Constitutional Amendment, the rule of law, the Constitution, and the very concept of justice have been buried. Any hope of receiving justice from the courts has been completely extinguished. The Pakistani nation now has only one path forward: a nationwide protest movement. Nothing short of this can pull us out of this quagmire of lawlessness.
A complete roadmap for the nationwide movement will be announced this week. I will have completed two full years of unjust imprisonment on August 5th. One that very day our nationwide protest campaign will be at its peak.
There will be no further negotiations of any kind with anyone anymore! The only path forward is mass protest in the streets, so the nation can rid itself of the puppets forcibly imposed upon it as its rulers.
Let me be clear: any officeholder in Pakistan Tehreek-e-Insaf who cannot shoulder the weight of this movement should step aside immediately. Those who have submitted to these oppressors must remember: these very people will eventually crush you, and the people will never forgive you either.
Even leaders like Nelson Mandela and Gandhi were allowed to meet other prisoners, read books, and write. I am enduring a form of solitary confinement where I am locked for 22 hours a day in a 6x8 foot cell. Police officers are forbidden from speaking to me. I have been denied books for the past six months. I am not allowed to speak to my children. My lawyers and colleagues cannot visit me. My family is allowed only a few minutes of visitation each week, and many of them are often denied even that. My personal physician has not been allowed to examine me for the past ten months. Even my access to newspapers and television has been cut off for the last week. Books sent by my family are withheld and kept in the superintendent’s office. My wife is also being held in inhumane conditions in solitary confinement.
Behind all of this is the establishment and its pawns. All of this is being done to break me. But I will continue to stand against tyranny until my very last breath.
We restored the constitutional and legal rights of the tribal areas after decades and provided full resources for reconstruction and development. The current regime not only withheld their rightful funds for three years but is now actively working to roll back their constitutional rights, an action that is utterly condemnable. I commend our parliamentarians and representatives for boycotting these unlawful measures.
As for our Punjab MPAs who were suspended for protesting during the fraudulent government’s budget session, the real reason behind it was that their protest against Maryam Nawaz was intolerable for the regime, although it is a long-standing tradition to protest during budget sessions.”
امریکہ میں جھوٹ بولنے کو Lying کہتے ہیں سعودی عرب میں کذاب کہتے ہیں اور پاکستان میں سینیئر تجزیه کار!
فوجی پراڈکٹس کا بائیکاٹ! ⬇️
منیب فاروق، شاہ زیب خانزادہ، انصار عباسی، منصور علی خان، عامر الیاس رانا، عادل عباسی، عادل شاہزیب، سلیم صافی، غریدہ فاروقی، ابصار عالم، طلعت حسین، اعزاز سید، حسن ایوب، بینش سلیم، سہیل وڑائچ، عاصمہ شیرازی، نجم ولی خان، رضی دادا، رؤف کلاسرا، کامران شاہد، جاوید چودھری، وقار ستی، نصر اللہ ملک، کوثر کاظمی، عمار مسعود، عمران وسیم، قیوم صدیقی، فخر درانی، اختیار ولی، فہد حسین، سلمان درانی، فیصل واڈا، شہزاد اقبال، مخدوم شہاب الدین۔
#BoycottFaujiProducts
عاصم منیر کی گردن پھنس چکی ہے۔ دھرنے کو مؤخر کرنے کی اسٹریٹجی نے عاصم منیر کی گردن کو پھنسا لیا ہے۔ اس کے اپنے تیار کردہ ہاتھیوں نے اس کے لشکر کو کچل دیا ہے۔
جو ہتھیار منگوائے گئے ہیں، نیٹ کیچر وغیرہ، وہ اسے پہلے صرف اسرائیل نے فلسطینیوں پر استعمال کرتے ہوئے دیکھے ہیں۔ تم خود کو CDF کہتے ہو اور خواہش تمہاری IDF بننے کی ہے۔
روزانہ فورسز میرے گھر کو گرانے اور چھاپہ مارنے آ جاتی ہیں، بزدلو! مجھے گرفتار کرنا ہے تو کرو، میری نیند کیوں خراب کرتے ہو!
آپ کا انجام ابراہا اور ٹیرکوٹا فوج کا ہوگا۔ پورا ملک، پختون، سندھی، بلوچ اور پنجابی، تمہارے خلاف کھڑا ہے۔
پھر مشورہ ہے اڈیالہ جاؤ! عمران خان کے آگے سرینڈر کرو!
یا تو عاصم منیر رہے گا یا پاکستان رہے گا، اور پاکستان ہمیشہ رہے گا۔ جتنا آپ پریشان ہو رہے ہو، مجھے تو کچھ دن کے مہمان لگ رہے ہیں۔
آج کے دن عمران خان ہی پاکستان ہے۔ آپ پاکستان کو زیادہ دیر قید نہیں رکھ سکتے۔
یہ جنگ حسینیت او�� یزیدیت کی ہے۔ حق اور باطل کی ہے۔ باطل کا کوئی نام لیوا نہیں رہے گا۔
ادھر آ ستمگر، ہنر آزمائیں
تو تیر آزما�� ہم جگر آزمائیں
اسی چیز کی نشاندہی کی تھی کہ ایک دن آئے گا معتدل آوازوں میں سے کوئی نہیں بچے گا۔ آپ کی لاشوں کا مذاق اڑانے والوں کی اکثریت ہوگی۔ آپ میڈیا میں بیٹھ کر روئیں گے کہ ہمارے جنازوں پر نہیں آتے۔ یہ وقت تو ہمارے اندازے سے بھی بہت پہلے آگیا۔ اب بھی اگر فوج اپنی روش نہیں بدلے گی تو ایک اور بیرئیر ٹوٹے گا۔ یہ نفرت پھر کسی خوفناک ردعمل میں تبدیل ہوگی۔ آپ کو ابھی یہ مذاق لگ رہا ہوگا۔ بالکل ویسے جیسے تب لگا تھا جب آپ کو بتایا تھا کہ سوشل میڈیا پر آپکی لاشوں پر ہنسنے والوں کی اکثریت ہوگ��۔
ایک دن یہ نفرت کسی خوفناک ردعمل میں تبدیل ہوگی۔