جہالت کے خلاف میرا جہاد ہمیشہ جاری رہتا ہے
کل سے کچھ سوشل میڈیا اکاؤنٹس ایران کو دعوت دے رہے ہیں کہ امریکی ائیر کرافٹ کیرئر اکیلا گھوم رہا ہے، اسے کھڑکا دو۔
جسے نیول وار فیر کا علم نہیں، صرف وہ ایسے احمقانہ مشورے دے سکتا ہے-
آئیر کرافٹ ایک موونگ ٹارگٹ ہے جسکی حفاظت کیلئے ڈسٹرائرز، فریگیٹس، آبدوزوں اور فضائ دفاع کا نظام ہوتا ہے، ایک زمینی فکسڈ ٹارگٹ پر حملہ نسبتا آسان ہے کہ لوکیشن بدلتی نہیں، ائیر کرافٹ کیرئر مسلسل حرکت میں ہوتا ہے جبتک کہ وہ پورٹ پر واپس نہیں آ جاتا، ائر کرافٹ کیرئر کبھی اکیلا نہیں ہوتا، اُس کے اردگرد layers میں کئی دفاعی نظام موجود ہوتے ہیں۔ ائیر کرافٹ کیرئر اب کسی حملے یا دہشت کے قابل نہیں رہا لیکن اپنا دفاع بخوبی کر سکتا ہے۔
ایران جس جنگ کو متعارف کروا چکا ہے، اُس کے بعد 5-10 سالوں میں ائیر کرافٹ کیرئر سیاحت میں کروز شپ کیلئے استعمال ہوگا۔ایران نے اسکی اہمیت دو ٹکے کی کردی ہے۔
Everyone can see horizon, few can see beyond…..
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
پراکسی کیا ہے؟
حزب اللہ یا حماس یا یمن کو ایران کی پراکسی کہنا بند کرو، یہ مغربی پروپگینڈا ہے، وہ تمہیں انگریزی کا کوئ لفظ سکھا دیتے ہیں اور تم جاہلوں کی طرح اُسکا استعمال کرتے ہو۔
یمن اور حزب اللہ اسرائیل کے خلاف وہ مزاحمت ہے جو پورے عالم اسلام سے آنی چاہیے تھی۔ دونوں فلسطین کی اُمید ہیں اور انکی عسکری اور مالی مدد ایران کرتا ہے تاکہ فلسطین آزاد ہو جاۓ اور اسرائیل جیسی غیر قانونی ریاست کا خاتمہ ہو جاۓ۔
پراکسی کیا ہوتی ہے؟ اسرائیل امریکہ کی پراکسی ہے، یوکرین امریکہ اور یورپ کی پراکسی ہے؟ احمد الشرح کا شام امریکہ اور اسرائیل کی پراکسی ہے، اُردن، بحرین، مصر ، امریکہ اور اسرائیل کی پراکسیز ہیں، جرمنی امریکہ کی پراکسی ہے، تائیوان امریکہ کی پراکسی ہے، اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک امریکہ کی پراکسی ہیں۔
اگر پڑھے لکھے نہیں تو پڑھنے کی کوشش تو کیا کرو-
Everyone can see horizon, few can see beyond…..
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
تابش ہاشمی کی ایک دن کی زندگی جرنیلوں، شریفوں، زرداریوں، انصار عباسیوں، سہیل وڑائچوں، ایم ایفوں، ابصار عالموں، راویوں اور عسکری راتب خوروں کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے!
ایران کی جیت - امریکی دانشوروں کے مطابق
پروفیسر مائر شامیر امریکہ کا ایک سکالر ہے جو شگاگو یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس پڑھاتا ہے اور امریکہ میں سیاسی تجزیے پر ایک اتھارٹی رکھتا ہے۔
کیا امریکہ کو شکست ہوئ؟
اس سوال پر امریکی پروفیسر کا جواب دیکھیں اور سر دُھنیں:
امریکہ اور اسرائیل اس جنگ میں چار اہداف حاصل کرنے کیلئے داخل ہوۓ:
۱- رجیم چینج
۲- ایرانی یورینیم افزودگی کو روکنا
۳- ایرانی میزائل پروگرام کو روکنا
۴- حوثییوں، حزب اللہ اور حماس کو ایرانی مدد روکنا
امریکہ کو چاروں اہداف میں شکست ہوئ اور کوئ بھی ہدف حاصل نا ہوسکا۔
اسکے برعکس 27 فروری کو آبناۓ ہُرمز کھلی تھی، آج آبناۓ ہُرمز پر ایران کا کنٹرول ہے۔
امریکہ کی تمام جنگی حکمت عملی ناکام ہوئ:
۱- ائیر سٹرائیکس
۲- آبناۓ ہُرمز کا بلاکیڈ
۳- میزائل حملے
۴- اصفہان پر ناکام زمینی حملہ
۵- آبناۓ ہُرمز میں متوازی بحری راستہ ناکام
اور اگر یہ کم ہے تو مشرق وسطی میں تمام امریکی اڈوں کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا جو ایرانی حملوں میں تباہ ہوۓ۔ امریکہ میں مہنگائ کا طوفان آیا، عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگا۔
اس سوال کے جواب میں کہ ٹرمپ کو کیا کرنا چاہیے؟ پروفیسر صاحب نے کہا کہ ٹرمپ کو فورا نیا معاہدہ کرنا چاہیے لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا کہ ایران اب آسانی سے مزاکرات کی میز پر نہیں آۓ گا۔
جب امریکی دانشور، صحافی اور تجزیہ کار اسے امریکہ کی بد ترین شکست قرار دے رہے ہیں تو پھر یہ ماننے میں کیا حرج ہے کہ ایران نے دو سُپر پاورز کو بدترین شکست دی۔
Everyone can see horizon, few can see beyond…..
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
عمران خان کی واپسی کا اعلان کر چکا ہوں، وہ بھی ہوگا
قدرت عالمی منظر نامے پر عمران خان کیلئے سونگ باؤلرز کیلئے موزوں پچ تیار کر رہی ہے اور اس پچ پر عمران خان سونگ باؤلنگ کا مظاہرہ اپنی رفتار اور سوئنگ سے کرے گا،
میں کسی کی زندگی اور موت کی پشین گوئ نہیں کر سکتا، لیکن پاکستان کے مستقبل کے متعلق بار بار کہہ چکا ہوں کہ پاکستان کی سالمیت عمران خان کی زندگی اور رہائ سے جُڑی ہے۔ ہمیں ہر حال میں پاکستان کی سالمیت کی حفاظت کرنی ہے۔مجھے عمران خان کیوں عزیز ہے؟ کیونکہ وہ پاکستان کی تمام قومیتوں، فرقوں اور ذات کا متفقہ لیڈر ہے اور اسوقت ہمیں ایسی کامن گراؤنڈ چاہئے جس پر قوم کو اکھٹا کیا جا سکے اور وہ کامن گراؤنڈ عمران خان کے علاوہ کوئ اور نہیں ہے۔
علیمہ خان ایک بڑی سیاست دان اور لیڈر کے طور پر اُبھرے گی، یہ بھی دیکھ لینا۔علیمہ خان نے لیڈرشپ، جرات، بہادری، تدبر، دانائ، استقامت اور جدوجہد کا زبردست مظاہرہ کیا ہے۔ اگر کوئ غلط قدم اُٹھایا گیا تو قدرت فاطمہ جناح کا بدلہ علیمہ خان کے ذریعے ظالموں سے لے گی۔علیمہ خان نے مزاحمت کی موروثیت کو زندہ کر دیا ہے۔
میں نے بار بار ذکر کیا ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نظام نہیں چل سکتا” حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہی ہر موقع پر میرے تجزیوں کے درست ہونے کی بنیاد ہے۔
Everyone can see horizon, few can see beyond…..
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
ٹرمپ کا امریکن صدر کے طور پر امریکہ کی تاریخ کا بد ترین دور گُنا جاۓ گا۔ اسکی چند بنیادی وجوہات:
۱- ٹرمپ خالصتا ایک کاروباری شخص ہے جو نفع نقصان دیکھکر ڈیل کرتا ہے۔ اسرائیل کیلئے یہ ایک سنہری موقع تھا کہ وہ ایک کاروباری شخص کے ساتھ کاروبار کی آڑ میں اسرائیل کا سب سے خطرناک کھیل کھیلے۔ ٹرمپ کی بیٹی سے کٹر یہودی فیملی کے جیراڈ کشنر کی شادی رچائ گئی، یہودی لابی ٹرمپ کے گھر کے اندر گُھس گئی۔
۲- ٹرمپ کی کابینہ میں بد ترین انتخاب سیکریٹری آف سٹیٹ مارک روبیو ایک ڈفر ثابت ہوا جسمیں خارجہ پالیسی کی کوئ صلاحیت نہیں ہے۔ جسکی باڈی لینگویج اور گفتگو ایک لا اُبالی اور بگڑے ہوۓ نوجوان کا تصور دیتی ہے۔ جو ایران سے جنگ ہارتے ہوۓ تاج محل کے سامنے بیوی کے ساتھ تصویر کھنچوا رہا تھا۔بھارت نے اُسے جوتے کی نوک پر رکھا اور وہ بے چارہ تاج محل پہنچ گیا۔
۳- دوسرا بد ترین انتخاب پیٹ ہیگسیتھ ہے، جو گلی کے غنڈے یا مافیا ڈان یا کسی فلمی ولن کا تصور پیش کرتا ہے جو اپنی باڈی لینگویج سے انتہائ منفی تاثر دیتا ہے۔ امریکی سینٹ میں سوالوں کے جوابات سے اسکی علمی استطاعت اور صلاحیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
ٹرمپ اور اُسکی موجودہ ڈفر ٹیم امریکہ کے متوقع زوال کے 50 سالہ سفر کو 5 سال پر لے آئ ہے۔
Everyone can see horizon, few can see beyond…..
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
ایرانی طاقت کا شاندار مظاہرہ
امریکی اڈوں کی تباہی وہ کام ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد کوئ ملک نا کر سکا، دُنیا سے امریکی اڈوں کا ختم ہونا دُنیا کے امن کیلئے ضروری ہے، فلسطین کی آزادی کیلئے ضروری ہے، مسلمانوں کے مستقبل کیلئے اہم ترین ہے۔دُنیا سے امریکہ فرینڈلی رجیم چینج اور نا انصافی پر مبنی ڈکٹیٹرشپ ختم کرنے کیلئے کیلئے ضروری ہے۔
ایران صرف مسلمانوں کیلئے نہیں لڑ رہا بلکہ پوری دُنیا کیلئے لڑ رہا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل موہبی، جو اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے ترجمان ہیں، نے تسنیم نیوز ایجنسی کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا:
🔹 15 روزہ مدت (8 جولائی تا 22 جولائی) کے دوران ایرانی مسلح افواج کی “فیصلہ کن اور کامیاب کارروائیوں” کے نتیجے میں خطے میں امریکی فوج کو پہنچنے والے نقصانات درج ذیل ہیں:
▪️ ریڈار اور فضائی دفاع
7 کمانڈ اور کنٹرول مراکز
3 سیٹلائٹ مواصلاتی نظام
6 پیٹریاٹ فضائی دفاعی ریڈار (ترجمان کے مطابق، پیٹریاٹ نظام اس حد تک متاثر ہوئے کہ ایرانی میزائل اور ڈرون بغیر روکے اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے)
3 فضائی و بحری نگرانی اور مانیٹرنگ ریڈار
8 ارلی وارننگ(Early warning)ریڈار سسٹمز
7 فضائی میزائل دفاعی ریڈار
3 ای پی ایس (EPS) ریڈار سسٹمز
2 ای پی ایس-117 (EPS-117) ریڈار
5 طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے ریڈار
2 فضائی دفاعی ریڈار
1 ٹیکٹیکل ریڈار کمپلیکس
▪️ لاجسٹکس سپورٹ
6 لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے مرمت مراکز
3 لاجسٹکس اور سپورٹ مراکز
12 ایندھن ذخیرہ کرنے کے ٹینک
17 بحری جہازوں اور طیاروں کے ہتھیاروں اور اسپیئر پارٹس کے گودام
6 میزائل ذخیرہ کرنے والے بنکر
▪️ آپریشنل انفراسٹرکچر
6 MQ-9 ڈرون ہینگر
1 F-15 لڑاکا طیارے کی تیاری کی سہولت
1 ڈرون ہینگر، جس میں 8 بالکل نئے ڈرون موجود تھے
2 کمانڈ سینٹر
1 طیارہ بردار بحری جہاز کے لیے ایندھن بھرنے کا پلیٹ فارم
1 P-8 طیارے کا ہینگر
4 HIMARS میزائل لانچ پلیٹ فارم
5 لڑاکا طیاروں کے حفاظتی شیلٹر
4 پیٹریاٹ فضائی دفاعی کمپلیکس
6 میزائل لانچ پلیٹ فارم
1 ایندھن پمپنگ اسٹیشن
2 سگنل کمیونیکیشن مراکز
1 انٹیلی جنس ڈیٹا سینٹر
1 مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیٹا پروسیسنگ سینٹر، جو ایمیزون سے وابستہ تھا
1 Unmanned Surface Vessels کا ڈپو
1 ایندھن کی جیٹی (Fuel Pier)
4 مضبوط حفاظتی طیارہ شیلٹر
6 فلائٹ ریمپس اور پارکنگ ایریاز
▪️ فضائی اثاثے
11 لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر (زمین پر موجود)
17 جاسوسی اور جنگی ڈرون (جن میں سے 8 بالکل نئے تھے)
1 F-15 لڑاکا طیارہ (شیلٹر کے اندر)
1 P-8 بحری نگرانی کا طیارہ
1 C-17 ٹرانسپورٹ طیارہ
8 فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیارے
4 بھاری ہیلی کاپٹر
6 ذخیرہ شدہ میزائل
ایرانی حملوں کی precision اور accuracy دیکھیں کہ ایک بھی مسلمان ان حملوں میں نشانہ نہیں بنایا گیا، صرف امریکی اہداف کو سو فیصد precision کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
ترقی یافتہ ممالک میں جی ڈی پی کے مقابلے میں قرضوں کا زیادہ تناسب کیوں ہوتا ہے؟
اکثر خود ساختہ جاہل معاشی ماہرین آپ کو اکثر امریکہ کے قرضے بتا کر امریکہ کے زوال کی کہانیاں سُناتے ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک (جیسے جاپان، امریکہ، اٹلی، فرانس وغیرہ) میں اکثر ڈیٹ ٹو جی ڈی پی تناسب بہت زیادہ ہوتا ہے (100% سے زیادہ، جاپان 200-250%، امریکہ 120-125% ) جبکہ بہت سے ترقی پذیر ممالک میں قرض کا تناسب نسبتاً کم ہوتا ہے۔ یہ معاشی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کا متوازن نظام ہے جہاں عوام کو بنیادی سہولیات دینا اولین ترجیح ہوتی ہے۔ کچھ وجوہات کی وضاحت حاضر ہے۔
۱- سستے قرض لینے کی وافر سہولت:
ترقی یافتہ ممالک کے پاس مضبوط مالیاتی منڈیاں، مضبوط ادارے اور خاصی بڑی کریڈٹ ریٹنگ ہوتی ہے۔ سرمایہ کار (ملکی اور غیر ملکی) ان ممالک کے گورنمنٹ بانڈز کم شرح سود پر خریدتے ہیں۔ ایسے ممالک بغیر کسی دقت کے زیادہ قرض برداشت کر سکتے ہیں۔مثال کے طور پر 3-4 فیصد منافع پر گورنمنٹ بانڈز مقامی سرمایہ کار کیلئے پُر کشش آفر ہے اور وہ گورنمنٹ بانڈز خرید لیتا ہے اور یہ سرمایہ گورنمنٹ پر قرض کے طور پر نظر آتا ہے۔ گورنمنٹ اس سرمائے کو عوامی فلاح و بہبود اور انفراسٹرکچر پر لگاتا ہے، اس لین دین سے مقامی سرمایہ کار، حکومت اور عوام تینوں فائدہ حاصل کرتے ہیں۔
۲- فلاحی ریاست پنشن، صحت، بے روزگاری الاؤنس اور اولڈ ایج نگہداشت پر بہت زیادہ خرچ کرتی ہے۔ عمر رسیدہ آبادی (یورپ، جاپان، امریکہ) اخراجات بڑھاتی ہے۔
۳- کورونا وبا، جنگوں، اور معاشی کرائسس کے دوران حکومتیں قرض لے کر امداد اور بحالی کے لیے خرچ کرتی ہے۔ بحرانوں میں بھی قرض کم کرنے کی بجائے مفاد عامہ پر خرچ جاری رکھا جاتا ہے۔
دوسری طرف ترقی پذیر ممالک کے لیے 60-70% سے زیادہ قرض انتہائی خطرناک ہوتا ہے کیونکہ ترقی پذیر ممالک قرض واپس کرنے کیلئے قرض لیتے ہیں اور بہت زیادہ شرح سود پر قرض لیتے ہیں جیسے پاکستان میں ہوتا ہے۔
Everyone can see horizon, few can see beyond…..
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
میں مستقبل کا ٹور گائیڈ ہوں، آؤ بچو تم کو سیر کرائیں “مستقبل” کی۔
فرعون کو اُسکے جرنیلوں نے سمجھایا کہ تنگ پہاڑی راستے سے ایک بڑی فوج کے ساتھ موسیٰ کا پیچھا کرنا پوری فوج کو خطرے میں ڈال سکتا ہے لیکن فرعون کی انا، تکبر، غصہ اُسے موسیٰ کا تعاقب کرنے پر مجبور کرتا رہا اور بلآخر فرعون اُس مقام پر پہنچ گیا جہاں قدرت نے اُسکے انجام کا بندوبست کیا ہوا تھا۔
آج امریکہ، اسرائیل اور ان دونوں کے اتحادی اُسی تکبر، انا، غصے کی بنا پر ایسے ہی تعاقب کو جاری رکھے ہوۓ ہیں جو انکی موت ثابت ہو گا۔ جو سمجھ دار ہیں وہ اس تعاقب میں شامل نہیں ہیں۔ تعاقب سے دستبردار ہو رہے ہیں۔
آپ کے ساتھ کیا ہوگا؟ یہ ہمیشہ تاریخ میں پہلے سے موجود ہوتا ہے، آپ کا رویہ، راستہ اور انتخاب آپکے انجام کو طے کرتا ہے، یہ انجام تاریخ میں بار بار واضح الفاظ میں موجود ہوتا ہے، لیکن فرعونی شخصیت اس انجام کو پڑھ نہیں سکتا، اگر پڑھ سکتا ہے تو سمجھ نہیں سکتا، اگر سمجھ سکتا ہے تو عمل نہیں کر سکتا، کیونکہ اللہ نے ہر راستے کا انجام طے کیا ہوا ہے۔
ایران امریکہ جنگ کا انجام کیا ہوگا؟ میں نے پشین گوئ تاریخ سے کی ہے ورنہ مجھے ستاروں کا علم نہیں، میں تاریخ کو پڑھتا ہوں، سمجھتا ہوں۔ امریکہ اور امریکی اتحادیوں کا انجام کیا ہوگا؟ مجھے معلوم ہے۔
تاریخ میں جو پڑھا اسکے دوبارہ ظہور پذیر ہونے کا وقت قریب آ چکا ہے۔ میں تاریخ کے اس انتہائ دلچسپ موڑ سے اسلئے سب سے زیادہ لطف اندوز ہو رہا ہوں کہ مجھے پتہ ہے کہ موڑ کے بعد کیا ہوگا۔ میں آپ کو بھی لطف اندوز ہونے کا موقع دینا چاہتا ہوں، موڑ کے بعدسرپرائز بتا کر۔
میری تحریریں مستقبل کا پتہ دیتی ہے، تاریخ سے وارننگ بھی دیتی ہیں، میں مستقبل کا ٹورگائیڈ ہوں۰۰۰۰میں مستقبل کو دیکھتا ہوں، ماضی اور حال کو جوڑ کر۔
⬅️ایران جنگ جیت چکا ہے،مکمل نتیجہ آتا رہے گا۔
⬅️عمران خان جیت چکا ہے،مکمل نتیجہ آتا رہے گا-
⬅️امریکہ ہار چکا ہے، مکمل نتیجہ آتا رہے گا،
⬅️اسرائیل تباہی کی طرف رواں دواں ہے۔مکمل نتیجہ آتا رہے گا۔
⬅️دُنیا سے بادشاہت اور ڈکٹیرشپ کا خاتمہ شروع ہے، مکمل نتیجہ آتا رہے گا۔
⬅️ چین، روس اور ایران دُنیا کا طاقت ور ترین دفاعی اور معاشی اتحاد بن چکا ہے، مکمل نتیجہ آتا رہے گا۔ “کنے کنے جانا اے بلو دے گھر، ٹکٹ کٹاؤ، لین بناؤ” “پہلے آئیے، پہلے پائیے” “ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا”
⬅️دُنیا کا سب سے بڑا زمینی تجارتی روٹ چین، افغانستان، وسطی ایشیائ ریاستوں، ایران، روس، ترکیہ، یورپ کے درمیان بن چکا ہے، مکمل نتیجہ آتا رہے گا۔
⬅️پاکستان سے موروثی سیاست کا اختتام سیاسی اور عوامی سطح پر ہو چکا ہے، مکمل نتیجہ آتا رہے گا۔
⬅️بھارت چپکے چپکے چین کے بعد دوسری پوزیشن کیلئے درست راستے پر چڑھ چکا ہے، مکمل نتیجہ آتا رہے گا۔
⬅️بنگلہ دیش بلآخر سیاسی استحکام کی تمام سیڑھیاں چڑھ چکا ہے اور اب چھت پر پہنچ کر لمبے لمبے سانس لے رہا ہے، تاکہ ترقی کا سفر نئے جذبے سے شروع کرے۔ مکمل نتیجہ آتا رہے گا۔
⬅️ ترکیہ یورپ کی سب سے بڑی قوت بننے کے راستے پر رواں دواں ہے، مکمل نتیجہ آتا رہے گا۔
⬅️ایران عسکری طاقت کے بعد اب معاشی طاقت بنے گا، چوتھی سُپر پاور بنے گا، مکمل نتیجہ آتا رہے گا۔
⬅️افغانستان وسطی ایشیائ ریاستوں کا دوبارہ حصہ بننے جا رہا ہے، مکمل نتیجہ آتا رہے گا۔ افغانستان کا وسطی ایشیائ ریاستوں سے تاریخی اور ثقافتی راستہ ہزاروں سال پرانا ہے۔ہماری پابندیوں کیوجہ سے افغانستان نے اپنا مستقبل وسطی ایشیائ ریاستوں، چین، ایران، بھارت اور روس سے جوڑ لیا ہے۔
⬅️یوکرین روس کے سامنے ہتھیار ڈالے گا اور مستقبل میں روس کا اتحادی ہوگا، مکمل نتیجہ آتا رہے گا۔
⬅️پٹرو ڈالر ختم ہونے کی طرف رواں دواں ہے، مکمل نتیجہ آتا رہے گا۔
⬅️فرعون موسی کے تعاقب میں قریب پہنچ چکا ہے، سونامی کے قریب پہنچ چکا ہے، مکمل نتیجہ آتا رہے گا۔
⬅️پاکستان کی سالمیت صرف سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی میں ہے۔کوئ اور راستہ صرف تباہی ہے۔ مکمل نتیجہ آتا رہے گا۔
Everyone can see horizon, few can see beyond
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
جیت کسے کہتے ہیں؟
ہر دن جب امریکہ آبناۓ ہُرمز کھولنے میں ناکام ہوتا ہے، وہ ایران کی جیت ہوتی ہے، مسلسل پانچ ماہ سے ایران ہر روز جیت رہا ہے۔
ہر امریکی حملے کے بعد ایران کا امریکی اڈوں پر خوفناک حملہ ایران کی جیت ہے۔
اسرائیل کا جنگ سے پیچھے ہٹنا ایران کی جیت ہے۔
پچھلے پانچ ماہ سے ہر روز ٹرمپ کی اپنی عوام میں مقبولیت کم ہو رہی ہے اور ایرانی لیڈرشپ کی اپنی عوام میں مقبولیت بڑھ رہی ہے، یہ بھی ایران کی جیت ہے۔
امریکی تاریخ میں سب سے غیر مقبول جنگ ایران کے خلاف ہے۔ امریکہ کی اکثریتی عوام ایران سے جنگ کے حق میں نہیں ہے۔ یہ بھی ایران کی جیت ہے۔
روس، چین،شمالی کوریا، عراق، یمن، اومان، حزب اللہ کا ایران کا ساتھ دینا بھی ایران کی جیت ہے۔
فیفا ورلڈ کپ میں ناقابل شکست رہنا بھی ایران کی جیت ہے۔
عالمی عزت و احترام حاصل کرنا بھی ایران کی جیت ہے۔
امریکہ کا عالمی ذلت سے دوچار ہونا بھی ایران کی جیت ہے۔
درجن یورپی ممالک کا حال ہی میں فلسطین کو تسلیم کرنا بھی ایران کی جیت ہے۔
ٹرمپ کا سپین اور اٹلی سے ذلیل ہونا بھی ایران کی جیت ہے۔
پہلی دفعہ نیٹو کا امریکی جنگ میں شامل ہونے سے انکار بھی ایران کی جیت ہے۔
پہلی دفعہ امریکی جنگ میں امریکی زمینی فوج کا شامل نا ہونا بھی ایران کی جیت ہے۔
اصفہان پر امریکی تاریخ کا ناکام ترین کمانڈو حملہ بھی ایران کی جیت ہے۔
ابراہام معاہدہ تاریخ کے کچرے میں چلا گیا، یہ بھی ایران کی جیت ہے۔
انسانی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ بھی ایران کی جیت ہے۔
ایرانی لیڈرشپ کی شہادت بھی ایران کی جیت ہے۔
کہاں تک سُنو گے، کہاں تک سُناؤں
ایران سے اسرائیل کے خوف کی کیا وجہ ہے،
اسرائیل کو کسی اور اسلامی ملک سے کوئ شکایت نہیں، صرف ایران کے خلاف ہے، کیونکہ اُسے پتہ ہے کہ ایران اسلامی نظریات اور روایات کو پورے خلیجی علاقے میں پھیلا سکتا ہے اور اُس سے اسرائیل بھی تباہ ہو سکتا ہے۔
اسرائیل ہمیشہ غداروں کی تلاش میں رہتا ہے اور ایران میں شاہ ایران کے بیٹے کو حکمران بنانے کی سازش کو ایران نے ناکام بنا دیا ورنہ ایک اور امریکی/اسرائیلی رجیم ایران میں بھی آ جاتا اور اسکے بعد اسرائیل کو کوئ نہیں روک سکتا تھا۔
ایران نے نا صرف اپنا ملک بچایا ہے، بلکہ عالم اسلام کی آخری اُمید کو بھی بچایا ہے، انشاللہ یہاں سے اسلام کے عروج کا آغاز ہوگا، جو مسلمان کسی غلط فہمی کی بنا پر گریٹر اسرائیل کی پشین گوئ کر رہے تھے، اُن کی خدمت میں عرض ہے کہ گریٹر اسرائیل نہیں بلکہ سمالر اسرائیل کا آغاز ہے اور اختتام اسرائیل کے خاتمے سے ہوگا۔ انشاللہ
امریکہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل امریکہ کے حوالے کرے۔
امریکی خواہش کا احترام کرتے ہوۓ ایرانی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) ان میزائل کو امریکی اڈوں کی طرف اور باقی کو اسرائیل کی طرف بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔ 🚀
انشاللہ ساری ڈیلیوری نشانے پر لگے گی 💥
اسی طرح امریکہ ایران سے یورینیم حوالے کرنے کا بھی مطالبہ کر رہا ہے، اسلئے اگر ضرورت پڑی تو ایران یورینیم بھی فضا سے سیدھا اسرائیل روانہ کر سکتا ہے۔ 💣
ایران دنیا کا سب سے زیادہ قابلِ احترام ملک بن چکا ہے۔
اس کا اندازہ ایک سادہ حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے:
جب بھی ایرانی میزائل خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بناتے ہیں، تو اڈے کے آس پاس رہنے والے لوگ جشن مناتے ہیں۔
اس جنگ میں یہ ایران کی سب سے بڑی کامیابی ہے، اور امریکہ اور اسرائیل کی سب سے بڑی شکست۔
ایران ہر آزاد روح کے دل میں بستا ہے۔ایران ہر منافق کیلئے خوف ہے۔
غریب کے لیے
آسانی پیدا کرنا صرف ایک نیکی نہیں،
بلکہ انسانیت کی سب سے
خوبصورت پہچان ہے۔
جو دل دوسروں کے درد کو محسوس کرے،
وہی حقیقی معنوں میں زندہ دل
ہے ۔۔۔ ❤️🌷🙏
@aamirmuslim@RoymukhtarRoy اور 8 سال عراق ایران جنگ جو 1979 سے 1987 تک جاری رہی جس میں تمام مغرب عراق کی پشت ہہ تھا وہ معلوم نہیں ہمیں کیوں یاد نہیں رہتی۔ بھائی۔ اگر مارو گے تو مار بھی کھاو گے۔ یہ تو ہوگا۔
بریکنگ نیوز 🚨جین زی چھا گئی، کمال ہوگیا۔ عمران خان پر ڈاکومنٹری بنا ڈالی 🔥🔥
بڑے بڑے دانشور سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ دس سالہ بچے نے 78 سالہ نظام کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔ سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہے، سب آخر تک دیکھو اور وائرل کردو۔ تُم ہار چکے ہو وہ اگلی تین نسلیں تیار کرچکا ہے۔