Well fought, Hasan Nawaz. That's exactly how you respond with performance after being unjustly sidelined to accommodate senior players who are proven failures.
مکہ معاہدہ اب استنبول میں ادارہ سازی اور نظام سازی کے مرحلے میں ہے، لیکن اسے فوراً ملتِ اسلامیہ کا اتحاد کہنا درست تجزیہ نہیں۔ سعودی عرب کو اپنی سکیورٹی، داخلی شاہی مسائل، یمن، قطر، امارات، ایران، اسرائیل اور امریکی تحفظ پر کم ہوتے اعتماد کے باعث اس معاہدے کی ضرورت ہے۔ ترکیہ بھی اپنے مفاد، دفاعی صنعت اور گریٹر ترکیہ کے تصور کے ساتھ اس میں شامل ہوا ہے۔
پاکستان اس اتحاد کا سب سے اہم دفاعی فریق ہے، ایٹمی طاقت، میزائل پاور اور تجربہ کار فوج اس کی اصل قوت ہیں۔ اس لیے پاکستان کو صرف دوسروں کی سکیورٹی کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے، بلکہ اس دفاعی قوت کے بدلے اپنی معیشت، دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کو مضبوط کرنا چاہیے۔
اسرائیل اور ابراہیمی معاہدہ بھی اس پورے بندوبست کا بنیادی امتحان ہیں۔ ترکیہ کے اسرائیل سے سفارتی و تجارتی تعلقات ہیں، سعودی عرب ابراہیمی معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ پاکستان کے اسرائیل سے تعلقات نہیں۔ اسرائیل ایران کے بعد پاکستان کو اپنے بڑے دشمنوں میں شمار کرتا ہے۔
سعودیہ اپنی سکیورٹی دیکھ رہا ہے، ترکیہ اپنا مفاد، پاکستان کو بھی اپنی ایٹمی اور دفاعی قوت کی پوری سیاسی اور معاشی قیمت اپنے قومی مفاد میں حاصل کرنی چاہیے۔
#pakistan