An Australian hospital cancelled a planned talk by 2 surgeons about their experiences working in conflict zones after raising concerns about a perceived “pro-Palestinian bias”
“Pro-Palestinian bias” is Doctors sharing their firsthand experiences treating children under horrific, high-pressure conditions is!
Israel is truly the antithesis of humanity.
🚨🇵🇸🇮🇱 This is the area around Al-Qadisiyah School in Rafah, before and after the Israeli campaign...
Everything around it has been wiped off the map.
Were there terrorists in every building???
Source: @clashreport on TG / Writer: Michael
Israel burned a human being twice today.
Believe it or not:
At noon today, local time, Israel bombed a car in Deir al-Balah, instantly killing Jabr Muqbil and leaving his body charred.
Three hours later, at 3:23 p.m., as Jabr’s family was transporting his body to Gaza City, where they are from, to bury him, Israel struck the vehicle again in the Sheikh Ajleen neighborhood.
At least 15 people, including some of Jabr’s relatives, were critically injured. Jabr’s body was completely burned again in the second strike.
The first photo shows the second strike. The second photo shows the first strike that killed Jabr, with his charred body circled.
In the comments i’m putting a video of the second car while it’s burning.
میں نہیں جانتی کہ کیوں
لیکن میں جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری خطبہ پڑھتی ہوں تو آخر تک پہنچتے پہنچتے میرا دل بھیگ جاتا ہے۔۔
اور جب میں یہ پڑھتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف چہرہ مبارک اٹھا کے فرمایا
"اے اللہ گواہ رہنا۔۔
میں نے تیرا پیغام تیرے بندوں تک پہنچا دیا،،
تو یہاں میرے آنسو آنکھوں سے بہ پڑتے ہیں۔
ہمارا اللہ کتنا مہربان ہے اس نے کتنا سادہ اور مکمل دستورِ حیات دیا ہے ہمیں
آئیے 9 ذوالحج 10 ہجری کو دئیے گئے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔۔
1۔ اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔
2۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں۔ (تم اس کو چھیڑ نہیں سکتے )۔
3۔ لوگوں کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،
4۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو۔ تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔
5۔ یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے، اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔
6۔ جاہلیت کے تمام سود ختم کر دئیے گئے اور سب سے پہلے میں عباس بن عبد المطلب کا سود معاف کرتا ہوں۔
7۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔
8۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (بیویاں)ہیں۔انہیں تم نے اللہ کی امان میں اپنے نکاح میں لیا ہے اور یہ بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔
9۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔
10۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو۔ اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔
11 ۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر,
عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔
تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔
برتری صرف تقوی کی وجہ سے ہے۔
12۔ یاد رکھو! تم نے ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو!
میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔
13۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جائے گا۔ میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔
14۔ میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، ( بعض کتب میں خلفائے راشدین) اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔
15۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا۔ اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں۔اور یہ ممکن ہے کہ بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کر سکیں۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا،
16۔ اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے بندوں تک پہنچا دیا۔
تاریک صدیوں کا سکوت اور تاریخِ انسانی کا عظیم ترین موڑ: سیرتِ مصطفیٰ ﷺ
( حصہ دوم)
یہ رمضان کا مہینہ تھا اور غارِ حرا کی اس پرسکون تنہائی میں تاریخِ انسانی کا وہ سب سے بھاری، ہیبت ناک اور کائناتی لمحہ نازل ہونے والا تھا جس کی بازگشت قیامت تک سنائی دینی تھی۔
رسول اللہ ﷺ حسبِ معمول اپنے طویل مراقبے میں غرق تھے کہ اچانک ایک ایسی ہستی نمودار ہوئی جو زمان و مکان کی مادی حدود سے ماورا تھی۔
یہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے، جنہیں اسلامی الٰہیات میں 'ناموسِ اکبر' کہا جاتا ہے۔
انہوں نے قریب آ کر ایک ایسا لفظ ادا کیا جس نے عرب کے اس ناخواندہ اور امّی معاشرے میں علم، شعور اور وحی کی ایک نئی بنیاد رکھ دی؛
انہوں نے کہا:
"اقرأ"
(پڑھو)۔
رسول اللہ ﷺ نے، جو کسی دنیاوی مکتب کے پڑھے ہوئے نہیں تھے، سچائی اور حیرت کے ساتھ جواب دیا:
"ما أنا بقارئ"
(میں پڑھنے والا نہیں ہوں)۔
اس پر اس نوری فرشتے نے آپ ﷺ کو پکڑا اور اس زور سے بھینچا کہ آپ ﷺ کو شدید مشقت محسوس ہوئی۔ یہ بھینچنا محض کوئی جسمانی عمل نہیں تھا، بلکہ یہ اس کائناتی دباؤ (Cosmic Pressure) کی منتقلی تھی جو ایک مادی جسم کو اس الہامی وزن کو سہارنے کے لیے تیار کر رہا تھا جو قرآن کی صورت میں نازل ہونے والا تھا۔
تین بار اسی طرح بھینچنے اور چھوڑنے کے بعد جبرائیل علیہ السلام نے وہ پہلی وحی تلاوت کی:
"پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا..." (سورۃ العلق: 1-5) (صحیح بخاری، کتاب بدء الوحی، حدیث 3)۔
یہ وحی محض چند آیات کا نزول نہیں تھی، بلکہ یہ صدیوں کی تاریکی میں علم اور توحید کا وہ پہلا دھماکہ تھا جس نے کفر، شرک اور جہالت کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
جب رسول اللہ ﷺ اس کائناتی تجربے کے بعد غارِ حرا سے نیچے اترے تو ان کا قلبِ مبارک شدتِ ہیبت سے دھڑک رہا تھا، جسم پر لرزہ طاری تھا، اور وہ سیدھے اپنی سب سے بڑی نفسیاتی اور جذباتی پناہ گاہ، یعنی سیدہ خدیجہؓ کے پاس پہنچے۔
آپ ﷺ نے گھر داخل ہوتے ہی فرمایا:
"زملونی، زملونی"
(مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو)۔
جب ہیبت کچھ کم ہوئی تو آپ ﷺ نے خدیجہؓ کو پورا واقعہ سنایا اور اپنی جان کے حوالے سے ایک فطری انسانی اندیشے کا اظہار کیا۔
یہاں تاریخ کی اس عظیم ترین خاتون نے جو جواب دیا، وہ علمِ نفسیات اور کائناتی سچائی کا ایک ایسا شاہکار ہے جس نے ایک بیوی کے کردار کو تاریخِ نبوت میں امر کر دیا۔
خدیجہؓ نے کوئی معجزہ یا مافوق الفطرت دلیل نہیں مانگی، بلکہ آپ ﷺ کے زمینی کردار کو بنیاد بناتے ہوئے فرمایا:
"ہرگز نہیں! اللہ کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ تو رشتوں کو جوڑتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، غریبوں کے کام آتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے راستے میں مصیبتیں جھیلتے ہیں" (صحیح بخاری، حدیث 3)۔
یہ الفاظ اس بات کا حتمی اور تاریخی ثبوت ہیں کہ نبوت سے پہلے کے چالیس سالوں میں رسول اللہ ﷺ کا کردار مکہ کے معاشرے میں کس قدر بے داغ اور فلاحی تھا۔
سیدہ خدیجہؓ آپ ﷺ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو عیسائی ہو چکے تھے اور عبرانی زبان میں انجیل کے عالم تھے۔
ورقہ نے جب پوری بات سنی تو تاریخ کا وہ پہلا بین المذاہب (Interfaith) اور الہیاتی اعتراف کیا جو سیرت کی کتابوں میں سنہری حروف سے درج ہے۔
انہوں نے فرمایا:
"یہ تو وہی ناموس (فرشتہ) ہے جو اللہ نے موسیٰ پر اتارا تھا۔ کاش میں اس وقت جوان ہوتا، کاش میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو اس شہر سے نکال دے گی۔"
رسول اللہ ﷺ نے حیرت سے پوچھا:
"کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟"
ورقہ نے جواب دیا:
"ہاں! جو شخص بھی وہ پیغام لے کر آیا جو آپ لائے ہیں، اس سے ہمیشہ دشمنی کی گئی" (صحیح بخاری، حدیث 3)۔
یہ وہ پہلا باقاعدہ انتباہ تھا جس نے واضح کر دیا کہ توحید کا یہ راستہ پھولوں کی سیج نہیں، بلکہ ہجرتوں، مخالفتوں اور قربانیوں کا ایک طویل اور خونی محاذ ہوگا۔
پہلی وحی کے بعد ایک طویل عرصے تک جبرائیل علیہ السلام نہیں آئے۔
اس وقفے کو تاریخ میں 'فترۃ الوحی' کہا جاتا ہے۔
اس دوران رسول اللہ ﷺ شدید روحانی اضطراب اور بے چینی کا شکار رہے، یہاں تک کہ ایک دن آپ ﷺ مکہ کی گلیوں سے گزر رہے تھے کہ آسمان سے ایک آواز سنائی دی۔
آپ ﷺ نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ وہی فرشتہ جو حرا میں آیا تھا، آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے۔
اس ہیبت ناک منظر کو دیکھ کر آپ ﷺ پر دوبارہ لرزہ طاری ہو گیا اور آپ گھر آ کر لیٹ گئے۔
تب اللہ تعالیٰ کی جانب سے سورۃ المدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں:
"اے کپڑے میں لپٹنے والے! اٹھو اور خبردار کرو" (سورۃ المدثر: 1-2) (صحیح بخاری، حدیث 4)۔
👇
Earn $400 per hour by reading books!
I've compiled a guide featuring 20 methods to help you earn $5,000 daily.
Normally priced at $199, But today it's FREE.
To get it: Like this post & RT
Comment 'Book'
I'll DM it to you -->(Must be following)
Israel’s genocidal war on Gaza has killed 73,356 people, with 174,185 wounded, since October 2023, according to the Health Ministry of the besieged enclave. Israel has killed at least 1,230 people since the “ceasefire” went into effect.
🔴 LIVE updates: https://t.co/RW7bg3YRiE
Gaza's Ministry of Health said 152 Palestinians were reported killed in Gaza in July, marking the highest monthly death toll since the beginning of the year. It added the victims included 21 children, 14 women and four elderly people.
🔴 LIVE updates: https://t.co/HZ6hEYKY3t
Location: Sambhal, Uttar Pradesh
Date: July 14
The 25-foot-high minaret of the Eidgah and the adjoining mosque were demolished with a bulldozer, described as illegal by the administration. The authorities have stated that this action was carried out in compliance with a court order.
خوفناک سروے!!
عاصم منیر ریجیم کی ناکامی کا بڑا ثبوت سامنے آگیا!
موجودہ جعلی ریجیم میں نوجوانوں نے تعلیم ہی چھوڑ دی, پاکستان کے تاریخ میں پہلی بار ہؤا ہے جب نوجوانوں نے یونیورسٹیوں کو خیر آباد کہہ دیا!!
As extreme summer temperatures grip southern Gaza, families sheltering in tents in Khan Younis are struggling to cope without electricity, fans or reliable water.